نپولین بوناپارٹ: انقلاب کا جرنیل، فرانس کا شہنشاہ، سینٹ ہیلینا کا قیدی
اٹھارھویں صدی کے آخر میں انقلابِ فرانس نے یورپ کے پرانے شاہی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی ہنگامے میں بحیرۂ روم کے جزیرے کورسیکا سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان توپ خانے کا افسر ابھرا اور چند برسوں…

اٹھارھویں صدی کے آخر میں انقلابِ فرانس نے یورپ کے پرانے شاہی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی ہنگامے میں بحیرۂ روم کے جزیرے کورسیکا سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان توپ خانے کا افسر ابھرا اور چند برسوں میں فرانس کا حکمران بن گیا۔ یہ نپولین بوناپارٹ (Napoleon Bonaparte) تھا، جو 1804ء سے 1814ء تک اور پھر 1815ء میں مختصر عرصے کے لیے فرانس کا شہنشاہ رہا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس نے شارلیمان کے بعد یورپ کی سب سے بڑی براعظمی سلطنت قائم کی، مگر اس کی قیمت تباہ کن جنگوں کی صورت میں ادا ہوئی۔ اس کا بنایا ہوا قانونی ضابطہ آج بھی کئی ملکوں کے قوانین میں زندہ ہے۔
کورسیکا سے فرانس تک
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق نپولین 15 اگست 1769ء کو کورسیکا کے شہر اجاکسیو (Ajaccio) میں پیدا ہوا۔ اس کا خاندان چھوٹے درجے کے امرا میں شمار ہوتا تھا اور والد کارلو بوناپارٹ وکیل تھے۔ 1779ء میں نو برس کی عمر میں نپولین کو فرانس کے ایک فوجی اسکول میں داخل کرایا گیا، جہاں وہ ریاضی میں نمایاں رہا۔ بعد میں وہ ممتاز فوجی اسکول ایکول ملیتیر (École Militaire) سے توپ خانے کے لیفٹیننٹ کے طور پر فارغ التحصیل ہوا۔
1793ء میں برطانوی اور ہسپانوی بحری جہازوں نے فرانس کی اہم بندرگاہ طولون (Toulon) پر قبضہ کر لیا۔ نپولین کو محاصرے میں توپ خانے کی کمان ملی، اور اس کی توپوں نے فرانسیسی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد اسے چوبیس برس کی عمر میں بریگیڈیئر جنرل بنا دیا گیا۔
اٹلی، مصر اور اقتدار پر قبضہ
1796ء میں نپولین کو اٹلی میں فرانسیسی فوج کی کمان ملی۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس نے پہلے پیڈمونٹ کو ایک ماہ میں جنگ سے نکال دیا، پھر آسٹریا کی فوجوں کو کئی معرکوں میں شکست دی، اور 1797ء میں آسٹریا کو صلح کرنا پڑی۔ 1798ء میں وہ ایک فوج لے کر مصر گیا تاکہ اس خطے میں برطانیہ کے اثر کو چیلنج کرے۔ اہرام کی جنگ میں مملوکوں کو شکست دے کر قاہرہ پر قبضہ ہوا، مگر شام میں عکہ (Acre) کے محاصرے میں ناکامی کے بعد اسے پیچھے ہٹنا پڑا۔
1799ء میں فرانس واپس آ کر نپولین نے حکومت کے بعض عہدیداروں کے ساتھ مل کر 9 اور 10 نومبر کو بغیر خونریزی کے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ نئی حکومت "قونصلیت" کہلائی اور نپولین اس کا "پہلا قونصل" بنا۔
نپولینی ضابطہ اور انتظامی اصلاحات
قونصلیت کے چار برسوں میں نپولین کے کئی دیرپا اقدامات سامنے آئے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق انقلاب سے پہلے فرانس مختلف صوبوں کے الگ الگ اور اکثر متضاد قوانین کے تحت چلتا تھا؛ جنوب میں رومی قانون اور شمال میں رواجی قانون رائج تھا۔ ان قوانین اور انقلابی حکومتوں کے تقریباً چودہ ہزار فرمانوں کو یکجا کر کے ایک ایسا ضابطہ بنایا گیا جو تمام شہریوں پر لاگو ہوتا تھا۔ یہ "فرانسیسیوں کا دیوانی ضابطہ" تھا، جو "نپولینی ضابطہ" (Napoleonic Code) کے نام سے مشہور ہوا اور 1804ء میں نافذ ہوا۔
ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق اس ضابطے نے فرانس کے قانونی نظام کو سادہ بنایا اور آج بھی فرانسیسی دیوانی قانون کی بنیاد ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس کے اثرات یورپ کے کئی ملکوں اور لاطینی امریکہ کے بڑے حصے کے قانونی نظام میں موجود ہیں۔
اسی دور میں 1801ء کا معاہدہ (Concordat) ہوا جس نے فرانس اور کیتھولک کلیسا کے تعلقات بحال کیے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق نپولین نے ہیٹی میں غلامی دوبارہ نافذ کرنے کے لیے فوج بھی بھیجی، مگر یہ مہم ناکام رہی اور ہیٹی نے 1804ء میں آزادی حاصل کر لی۔ مؤرخین یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس دور میں حکومت مرکزیت اور آمریت کی طرف بڑھتی گئی۔
شہنشاہ اور جنگیں
18 مئی 1804ء کو نپولین نے فرانسیسی سلطنت کا اعلان کیا اور 2 دسمبر کو پیرس کے نوٹرے ڈیم کلیسا میں تاج پوشی کی تقریب میں تاج خود اپنے سر پر رکھا۔ 1803ء سے 1815ء تک کی یہ جنگیں "نپولینی جنگیں" کہلاتی ہیں۔
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق نپولین کی فوج کو آٹھ نیم خودمختار دستوں (کور) میں تقسیم کیا گیا تھا، جس سے اسے رفتار اور لچک ملی۔ 1805ء میں آسٹرلٹز (Austerlitz) میں اس نے آسٹریا اور روس کی مشترکہ فوج کو شکست دی، 1806ء میں یینا (Jena) میں پروشیا کو ہرایا، اور 1807ء میں روس سے تلسیت (Tilsit) کے معاہدے ہوئے۔ اس وقت مغربی اور وسطی یورپ کا بیشتر حصہ اس کے زیرِ اثر تھا۔
1808ء میں اسپین پر قبضے کے بعد وہاں کے لوگوں نے برطانوی مدد سے طویل گوریلا جنگ لڑی جس نے فرانس کے وسائل کو نچوڑ دیا۔ 24 جون 1812ء کو نپولین نے چھ لاکھ پندرہ ہزار سے زائد فرانسیسی اور اتحادی سپاہیوں کے ساتھ روس پر حملہ کیا۔ روسی فوج پیچھے ہٹتی گئی، بوروڈینو کی خونریز جنگ کے بعد نپولین ماسکو میں داخل ہوا، مگر شہر خالی تھا اور جلد آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ اکتوبر میں واپسی شروع ہوئی، اور سخت سردی اور روسی تعاقب کے باعث دسمبر تک ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق تقریباً پانچ لاکھ آدمی ضائع ہو چکے تھے۔
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے ایک اور مضمون کے مطابق روس کی اس مہم میں فوجیوں اور شہریوں سمیت اندازاً دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے، اور اسے تاریخ کی مہلک ترین فوجی کارروائیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ساری نپولینی جنگوں کے مجموعی جانی نقصان کے بارے میں مؤرخین کے اندازے ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں اور کوئی متفقہ عدد موجود نہیں۔
زوال اور جلاوطنی
روس کی ناکامی کے بعد یورپ کی بڑی طاقتیں نپولین کے خلاف متحد ہو گئیں۔ اکتوبر 1813ء میں لائپزگ کی جنگ میں شکست کے بعد اتحادی فوجیں فرانس میں داخل ہوئیں اور اپریل 1814ء میں نپولین کو تخت چھوڑنا پڑا۔ ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق اسے بحیرۂ روم کے جزیرے ایلبا (Elba) بھیج دیا گیا۔ فروری 1815ء میں وہ ایک ہزار سے زیادہ حامیوں کے ساتھ وہاں سے نکلا اور 20 مارچ کو پیرس پہنچ گیا، جہاں سے اس کا دوسرا دور شروع ہوا جو "سو دن" کہلاتا ہے۔
18 جون 1815ء کو بیلجیم میں واٹرلو (Waterloo) کے مقام پر ڈیوک آف ویلنگٹن کی قیادت میں اتحادی فوج اور پروشیائی فوج نے اسے فیصلہ کن شکست دی۔ اس بار اسے جنوبی بحرِ اوقیانوس کے دور دراز برطانوی جزیرے سینٹ ہیلینا (Saint Helena) بھیجا گیا، جہاں وہ کڑی نگرانی میں رہا۔ ہسٹری ڈاٹ کام کے مطابق وہیں 5 مئی 1821ء کو اکاون برس کی عمر میں اس کا انتقال ہوا، جس کی وجہ غالباً معدے کا سرطان تھی۔
ورثہ
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق نپولین نے ساٹھ جنگیں لڑیں اور صرف سات میں شکست کھائی، اور اس کے فوجی طریقے آج بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ اسی ماخذ کے مطابق اسے مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے: کوئی اسے مصلح کہتا ہے اور کوئی آمر، کوئی جنگ پسند اور کوئی آزادیوں کا محافظ۔
نپولین کی سلطنت اس کی زندگی ہی میں ختم ہو گئی، مگر اس کا دیوانی ضابطہ دو صدیوں بعد بھی فرانس میں نافذ ہے۔ اس کی کہانی میں فتوحات اور اصلاحات کے ساتھ ساتھ وہ لاکھوں جانیں بھی شامل ہیں جو اس کی جنگوں میں گئیں۔
ماخذ
- Harrison W. Mark, "Napoleon Bonaparte", World History Encyclopedia, 19 October 2023. https://www.worldhistory.org/Napoleon_Bonaparte/
- Harrison W. Mark, "Napoleon's Invasion of Russia", World History Encyclopedia, 24 August 2023. https://www.worldhistory.org/Napoleon's_Invasion_of_Russia/
- Harrison W. Mark, "French Consulate", World History Encyclopedia, 12 June 2023. https://www.worldhistory.org/French_Consulate/
- HISTORY.com Editors, "Napoleon Bonaparte", HISTORY.com. https://www.history.com/articles/napoleon
- Wikipedia, "Napoleonic Code" (pointer only). https://en.wikipedia.org/wiki/Napoleonic_Code
- Wikipedia, "Napoleonic Wars casualties" (pointer only: wide range of estimates). https://en.wikipedia.org/wiki/Napoleonic_Wars_casualties







