شہباز حکومت کے ڈھائی سال میں قرضے 18 ہزار 143 ارب روپے بڑھے: جاوید قصوری

لاہور: امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ شہباز حکومت کے ابتدائی ڈھائی سال کے دوران ملکی قرضوں میں 18 ہزار 143 ارب روپے کا اضافہ حکومتی معاشی پالیسیوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ مارچ 2024 سے اگست 2026 تک قرضوں میں ہونے والے اس اضافے کے مطابق ملک پر روزانہ اوسطاً تقریباً 20 ارب روپے کا نیا قرضہ چڑھا، لیکن اس کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں خوشحالی اور آسودگی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
فرانس کے احتجاج سے سبق
محمد جاوید قصوری نے کہا کہ حکومت کو فرانس میں مہنگائی کے خلاف ہونے والے احتجاج اور مظاہروں سے سبق سیکھنا چاہیے۔ جب عوام کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو جائے، بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل دباؤ بڑھائیں اور آمدن اخراجات کے مقابلے میں کم پڑ جائے تو معاشرے میں بے چینی پیدا ہونا فطری امر ہے۔
ان کے مطابق حکمرانوں کی بنیادی ذمہ داری عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، نہ کہ انہیں قرضوں کے بوجھ تلے دبا کر مشکلات میں اضافہ کرنا۔
انہوں نے کہا کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ایک طرف ملک کا قرضہ مسلسل بڑھ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب حکمران طبقہ اپنی مراعات، پروٹوکول اور شاہانہ طرزِ زندگی میں کمی لانے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی کی جائے، غیر ضروری مراعات ختم ہوں، ٹیکسوں کا منصفانہ نظام قائم کیا جائے اور قرضوں کے بجائے پیداواری معیشت کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے۔
آڈٹ رپورٹ پر تشویش
محمد جاوید قصوری نے وزارتِ مواصلات کے حوالے سے آڈٹ رپورٹ میں گزشتہ دو برس کے دوران 222 ارب روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے انکشاف پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اداروں میں مالی بے ضابطگیوں کے انکشافات لمحہ فکریہ ہیں، یہ قومی خزانے کے تحفظ اور احتساب کے نظام کو مؤثر بنانے کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان معاملات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہییں اور ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
امیر جماعت اسلامی پنجاب نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے جاری تحریک عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی جدوجہد ہے۔ حکومت اس مطالبے کو سنجیدگی سے لے اور عوام پر عائد غیر ضروری مالی بوجھ کم کرے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو معاشی استحکام کی طرف لے جانے کے لیے ضروری ہے کہ حکمران عوامی مشکلات کا احساس کریں، قومی وسائل کے استعمال میں شفافیت لائیں اور عام شہری کو حقیقی ریلیف فراہم کریں۔ قرضوں میں اضافے اور عوامی مشکلات کے موجودہ سلسلے کو ختم کیے بغیر معاشی ترقی کے دعوے عوام کے لیے بے معنی رہیں گے۔











