سینیٹ میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر اراکین کے تحفظات، رانا ثناء اللہ کا جواب

اسلام آباد: ایوانِ بالا کے اراکین نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
منگل کو سینیٹ اجلاس کے دوران عوامی مسائل پر بات کرتے ہوئے سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ گیارہ اکتوبر کو خیبرپختونخوا کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ ان کے مطابق تمام قیادت کو جیل میں ڈال دیا گیا اور انتخابی نشان بھی چھین لیا گیا، اس کے باوجود عوام نے ملک بھر میں مینڈیٹ دیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب میں معاشی مارشل لا لگایا گیا ہے اور وہاں 12 ارب روپے کا جہاز خریدا گیا۔
فلک ناز چترالی نے کہا کہ پاکستانی ہونے کے سرٹیفکیٹ صرف ن لیگ کے پاس ہیں۔ ہم امن چاہتے ہیں اور ہم نے دہشت گردی کے خلاف ہزاروں افراد کی قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو عدالت سے ہی انصاف ملے گا۔
گردیپ سنگھ: بیٹھ کر بات کریں
پی ٹی آئی کے سینیٹر سردار گردیپ سنگھ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی 2005 سے اب تک جاری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ذمہ داری کس کی ہے، ان کے بھائی سردار سورن سنگھ کو شہید کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا ہمارا دشمن ہے اور دہشت گردی بلوچستان تک پھیل گئی ہے۔ ملک بھی ہمارا ہے اور صوبہ بھی ہمارا ہے۔
سردار گردیپ سنگھ کے مطابق وزیر اعلیٰ اور اسپیکر کو اغوا کیا گیا ہے۔ عدالتیں موجود ہیں اور سب کو انصاف ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ترقی کی طرف لے کر جانا ہے تو بیٹھ کر بات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سے سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، ملک کو تباہی سے بچائیں۔
رانا ثناء اللہ کا جواب
اپوزیشن اراکین کو جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی آبادی چار کروڑ ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ 99 فیصد ووٹ ان کے ہیں، جبکہ اس الیکشن میں 89 ہزار میں سے صرف 35 ہزار ووٹ ان کے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ لوگ کہتے ہیں ہمارا مینڈیٹ چوری ہو گیا، میاں نواز شریف کی حکومت میں خیبرپختونخوا کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ انہیں جمہوری رویہ اختیار کرنا چاہیے۔











