بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 1675 ارب روپے تک پہنچ گیا، ایک سال میں 34 ارب کا اضافہ

اسلام آباد: بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کا حجم ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے اختتام پر یہ قرضہ 1675 ارب روپے تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر یہ 1641 ارب روپے تھا۔
پاور ڈویژن کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق ایک سال کے دوران گردشی قرضے میں 34 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ پاور ڈویژن کے تحریری جواب کے مطابق 30 جون 2026 تک یہ قرضہ 1675 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 30 جون 2025 کو یہ 1641 ارب روپے تھا۔
حکام کے مطابق گردشی قرضے میں اضافے کی ایک وجہ نیشنل گرڈ سے کے الیکٹرک کو فراہم کی جانے والی بجلی کے واجبات کی عدم ادائیگی ہے۔ کے الیکٹرک سے واجبات کی وصولی کے لیے معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔
پاور ڈویژن کے مطابق حکومت نے گردشی قرضوں میں کمی لانے کے لیے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ ٹیک اینڈ پے معاہدے ختم کرکے ہائبرڈ ٹیک اینڈ پے ماڈل نافذ کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات میں انکشاف کیا گیا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے 15 دیہات میں تاحال بجلی فراہم نہیں کی جا سکی۔ پاور ڈویژن کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران ان دیہات کو بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، تاہم منصوبے کی تکمیل فنڈز کے اجرا اور ضروری سامان کی فراہمی سے مشروط ہے۔











