ایران سے سرحدی تجارت معطل، تفتان اور گبد ریمدان پر 2 ہزار ٹرک پھنس گئے: میاں زاہد حسین

کراچی: پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ قومی سلامتی، ملکی خودمختاری اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر تجارتی مفاد پر مقدم ہے، تاہم ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کی اچانک معطلی سے کاروباری برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ تاجروں کو کم از کم ایک ماہ کی مہلت دے تاکہ وہ مالی نقصانات سے بچ سکیں۔
تجارت کی معطلی اور سرکاری مؤقف
میاں زاہد حسین کے مطابق وزارت تجارت کی متعلقہ ہدایت واپس لیے جانے کے بعد بلوچستان کے زمینی راستوں تفتان اور گبد ریمدان کے ذریعے ایران کے ساتھ سرحدی تجارت معطل ہوگئی ہے۔
بلوچستان حکومت کے نمائندوں نے اس بندش کو عارضی اور سکیورٹی و سرحدی انتظامات بہتر بنانے سے متعلق قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تجارت کی معطلی کو تکنیکی مسائل اور احتیاطی اقدامات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔
تجارتی حجم اور نقصانات
میاں زاہد حسین نے بتایا کہ پاکستان ایران کو تقریباً 70 کروڑ ڈالر کی اشیا برآمد کرتا ہے، جبکہ ایران سے درآمدات کا حجم تقریباً 2 ارب ڈالر ہے۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت تقریباً 3 ارب ڈالر بنتی ہے۔
ان کے مطابق تجارت رکنے سے برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل، ادائیگیوں اور سرحدی علاقوں کے تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور مزدوروں کے روزگار کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ایران سے درآمدات معطل رہنے کی صورت میں پاکستان میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قلت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے مطابق تقریباً 2 ہزار مال بردار ٹرک سرحد کے دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں۔ پاکستانی تاجر ایرانی سپلائرز کو پیشگی ادائیگیاں کرچکے ہیں، جبکہ گاڑیوں کے اضافی کرایوں، ڈرائیوروں کے قیام اور مال کی حفاظت کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔
پھلوں اور سبزیوں سمیت جلد خراب ہونے والی اشیا ضائع ہونے کا خطرہ بھی ہے، اس لیے رکے ہوئے مال کی حفاظت اور کلیئرنس کے لیے فوری انتظامات ضروری ہیں۔
میاں زاہد حسین کے مطابق رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے قومی سلامتی کو ترجیح دینے کی حمایت کی ہے، تاہم تمام زرعی مصنوعات کو بندرعباس کے سمندری راستے سے بھیجنا مشکل ہے۔ جنگ کے باعث شپنگ اور بیمے کے اخراجات پہلے ہی بڑھ چکے ہیں، جبکہ متبادل راستوں سے برآمدکنندگان کی لاگت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
مطالبات
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزارت داخلہ، وزارت تجارت، ایف بی آر اور بلوچستان حکومت مشترکہ رابطہ نظام قائم کریں اور سکیورٹی اداروں کی اجازت سے اہل تجارتی سامان کی جانچ کے بعد کلیئرنس، محفوظ انتظار گاہوں اور جلد خراب ہونے والی اشیا کی ترجیحی ترسیل کا انتظام کیا جائے۔
برآمدکنندگان کے لیے متبادل قانونی راستوں، بندرگاہی سہولتوں اور اضافی انتظامی اخراجات میں عارضی رعایت پر بھی غور کیا جائے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ کاروباری برادری قومی سلامتی کے لیے ضروری حکومتی اقدامات کی حمایت کرتی ہے، تاہم حفاظتی انتظامات تسلی بخش ہونے کے بعد قانونی تجارت کی جلد بحالی قومی مفاد میں ہے۔ مؤثر سرحدی نگرانی اور تاجروں کو بروقت سہولتیں فراہم کرکے امن، معاشی استحکام اور ملکی برآمدات کو تقویت دی جاسکتی ہے۔











