الرازی: چیچک اور خسرہ کی پہچان
ایک بچے کو تیز بخار ہے اور جسم پر دانے نکلنے والے ہیں۔ یہ چیچک ہے یا خسرہ؟ آج ڈاکٹر یہ سوال لیبارٹری کے ٹیسٹ سے حل کر لیتا ہے، مگر گیارہ سو سال پہلے یہ فرق صرف غور سے…

ایک بچے کو تیز بخار ہے اور جسم پر دانے نکلنے والے ہیں۔ یہ چیچک ہے یا خسرہ؟ آج ڈاکٹر یہ سوال لیبارٹری کے ٹیسٹ سے حل کر لیتا ہے، مگر گیارہ سو سال پہلے یہ فرق صرف غور سے دیکھنے والی آنکھ کر سکتی تھی۔ ایسی ہی ایک آنکھ ابوبکر محمد بن زکریا الرازی (al-Razi) کی تھی، جن کا چیچک اور خسرہ پر لکھا مختصر رسالہ صدیوں تک کئی زبانوں میں ترجمہ ہو کر پڑھا جاتا رہا۔
رے سے بغداد تک
انیسویں صدی کے برطانوی معالج ولیم الیگزینڈر گرین ہل (W. A. Greenhill) نے 1848 میں اس رسالے کا عربی سے انگریزی ترجمہ کیا اور ساتھ الرازی کے حالات بھی جمع کیے۔ ان کے مطابق الرازی ایران کے شہر رے کے رہنے والے تھے اور اسی نسبت سے "رازی" کہلائے۔ وہ غالباً نویں صدی عیسوی کے وسط میں پیدا ہوئے، مگر سالِ پیدائش معلوم نہیں۔
گرین ہل پرانے سوانح نگاروں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ الرازی نے طب کی تعلیم کافی بڑی عمر میں شروع کی۔ پہلے وہ اپنے شہر رے کے ہسپتال کے معالج رہے اور بعد میں بغداد کے ہسپتال کے۔ ان کی شہرت اتنی تھی کہ دور دراز سے شاگرد ان کے پاس آتے تھے۔ امریکہ کے اسمتھسونین ادارے کے طبی مؤرخ سامی حمارنہ نے انہیں عربی طب کا سب سے بڑا معالج قرار دیا ہے۔
ان کی وفات کی تاریخ میں اختلاف ہے: گرین ہل 923 یا زیادہ امکان کے ساتھ 932 عیسوی بتاتے ہیں، جبکہ حمارنہ تقریباً 925 عیسوی لکھتے ہیں۔
دو بیماریاں، ایک رسالہ
چیچک کو عربی میں "جُدَری" اور خسرہ کو "حَصبہ" کہتے ہیں۔ گرین ہل کے مطابق رسالے کے لکھے جانے کی تاریخ معلوم نہیں، مگر یہ الرازی کی دو بڑی کتابوں "المنصوری" اور "الحاوی" کے بعد لکھا گیا، کیونکہ اس میں ان کا حوالہ ہے۔ "الحاوی" میں ان دونوں بیماریوں پر بکھرے ہوئے نوٹس ہیں، جنہیں الرازی نے بعد میں ترتیب دے کر یہ رسالہ بنایا۔
رسالہ چودہ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں الرازی بتاتے ہیں کہ چیچک کیوں ہوتی ہے اور کیوں تقریباً کوئی بھی اس سے بچ نہیں پاتا۔ وہ یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ یہ بیماری انہوں نے پہلی بار دیکھی۔ اس کے برعکس وہ یونانی طبیب جالینوس (Galen) کی کتابوں سے حوالے دیتے ہیں جن میں چیچک کا ذکر ہے۔ گرین ہل یہ بھی لکھتے ہیں کہ ان بیماریوں کا ذکر کرنے والا سب سے پہلا مانا ہوا مصنف اہرون (Ahrun) نامی طبیب تھا، جس کی کتاب کے اقتباسات الرازی نے خود محفوظ کیے۔ الرازی کا کارنامہ پہلا ذکر نہیں بلکہ دونوں بیماریوں کا صاف، منظم اور تفصیلی بیان ہے۔
علامتوں کا فرق
رسالے کا تیسرا باب سب سے اہم ہے، جس میں وہ علامتیں بیان ہیں جو دانے نکلنے سے پہلے ظاہر ہوتی ہیں۔ گرین ہل کے ترجمے کے مطابق الرازی لکھتے ہیں کہ چیچک سے پہلے مسلسل بخار، کمر میں درد، ناک میں خارش اور نیند میں ڈر لگتا ہے۔ ان کے بقول ان میں سب سے خاص علامت بخار کے ساتھ کمر کا درد ہے۔ اس کے علاوہ چہرے کا سرخ ہونا، آنکھوں کی سرخی، جسم کا بوجھل پن، گلے میں درد، کھانسی اور آواز بیٹھ جانا بھی شامل ہیں۔
پھر وہ اصل فرق بتاتے ہیں: بے چینی، متلی اور گھبراہٹ خسرہ میں زیادہ ہوتی ہے، جبکہ کمر کا درد چیچک کی زیادہ خاص علامت ہے۔ "الحاوی" کے اقتباسات میں وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ خسرہ کے دانے چیچک کے دانوں سے کم ابھرے ہوئے ہوتے ہیں، اور چیچک آنکھ کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے، خاص طور پر جب دانے چھوٹے اور گھنے ہوں۔ وہ یہ بھی درج کرتے ہیں کہ چیچک زیادہ تر بچوں کو ہوتی ہے۔
مشاہدہ، کتاب سے آگے
الرازی کی تحریر کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ صرف پرانی کتابیں دہراتے نہیں بلکہ اپنا دیکھا ہوا لکھتے ہیں۔ گرین ہل کے ترجمے میں ان کا ایک جملہ یوں شروع ہوتا ہے: "ہسپتال میں میں نے دیکھا ہے کہ…"۔ ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے جانچ کر معلوم کیا کہ چیچک کا خطرہ سانس کی تکلیف اور آواز بیٹھنے سے ناپا جا سکتا ہے۔
گرین ہل نے ان کے کچھ اقوال بھی نقل کیے ہیں جو آج بھی اچھے معالج کا اصول ہیں۔ مثلاً: جب پرہیز اور غذا سے علاج ہو سکے تو دوا سے بچو، اور جب ایک سادہ دوا کافی ہو تو مرکب دوا استعمال نہ کرو۔ ایک اور قول کا مفہوم یہ ہے کہ کتابوں میں لکھا علم، ایک ہوشیار اور غور کرنے والے معالج کے عملی تجربے سے کہیں کم تر ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ الرازی اپنے زمانے کے طبی نظریات کے مطابق علاج تجویز کرتے تھے، جن میں سے بہت سے آج درست نہیں مانے جاتے۔ ان کی اصل دین بیماری کی پہچان کا طریقہ ہے، علاج کے نسخے نہیں۔
ہزار سالہ سفر
گرین ہل کے مطابق یہ رسالہ پہلے عربی سے سریانی میں اور پھر یونانی میں ترجمہ ہوا، اور یورپ میں پہلے اسی یونانی ترجمے کے ذریعے پہنچا۔ عربی سے براہِ راست پہلا لاطینی ترجمہ 1747 میں شائع ہوا، اور عربی متن پہلی بار 1766 میں چھپا۔ اس کا ایک عربی نسخہ ہالینڈ کی لائیڈن یونیورسٹی میں محفوظ ہے۔ گرین ہل کا اپنا انگریزی ترجمہ 1848 میں لندن سے شائع ہوا۔
آج کوئٹہ کے کسی ہسپتال میں جب ڈاکٹر بخار اور دانوں والے بچے کا معائنہ کرتے ہوئے ایک ایک علامت پوچھتا ہے، کب بخار شروع ہوا، درد کہاں ہے، دانے کیسے ہیں، تو وہ دراصل وہی کام کر رہا ہوتا ہے جو الرازی نے رے اور بغداد کے ہسپتالوں میں کیا: ملتی جلتی بیماریوں کو غور سے دیکھ کر الگ الگ پہچاننا۔ طب میں اسی کو تشخیص کہتے ہیں، اور ہر درست علاج اسی سے شروع ہوتا ہے۔
ماخذ
- Abu Becr Mohammed ibn Zacariya ar-Razi, A Treatise on the Small-Pox and Measles, translated from the Arabic by William Alexander Greenhill, London: Sydenham Society, 1848, archive.org scan (Yale Medical Library copy). https://archive.org/details/39002086344042.med.yale.edu — translator's introduction (date of composition unknown, written after al-Mansuri and the Continens; Syriac and Greek versions; Mead's Latin 1747; Channing's Arabic text 1766; Leiden manuscript); ch. I on causes and Galen's mentions; ch. III on symptoms (continued fever, back pain, itching of the nose, terrors in sleep; inquietude, nausea and anxiety more frequent in measles; back pain more peculiar to smallpox); Continens extracts ('In the hospital I have found', danger estimated by difficulty of breathing and hoarseness, measles less elevated, smallpox more injurious to the eye, mostly attacks children); Note C on his life (native of Rai, probably mid-9th century, physician to the hospital at Rai and then at Baghdad, pupils from distant countries, sayings, death AH 311/AD 923 or more probably AH 320/AD 932); Note on Ahrun as the earliest writer acknowledged to mention smallpox and measles; jadari and hasbah.
- Sami Hamarneh, "Drawings and Pharmacy in al-Zahrāwī's 10th-Century Surgical Treatise", Contributions from the Museum of History and Technology, Paper 22, United States National Museum Bulletin 228, Smithsonian Institution (1961), Project Gutenberg text. https://www.gutenberg.org/ebooks/26038 — al-Razi (Rhazes, d. ca. 925), 'the greatest clinician in Arabic medicine'.







