اینٹ: مٹی کا وہ ٹکڑا جس نے شہر بسائے
ہمارے گھروں، اسکولوں اور مسجدوں کی دیواروں میں لگی سرخ اینٹ اتنی عام ہے کہ ہم اس پر دوسری نظر بھی نہیں ڈالتے۔ مگر یہ انسان کی سب سے کامیاب ایجادات میں سے ایک ہے۔ گیلی مٹی کو سانچے میں…

ہمارے گھروں، اسکولوں اور مسجدوں کی دیواروں میں لگی سرخ اینٹ اتنی عام ہے کہ ہم اس پر دوسری نظر بھی نہیں ڈالتے۔ مگر یہ انسان کی سب سے کامیاب ایجادات میں سے ایک ہے۔ گیلی مٹی کو سانچے میں ڈھال کر سکھا لیا جائے تو ایک ایسی اکائی بن جاتی ہے جسے جوڑ کر جھونپڑی سے محل تک کچھ بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اس ایجاد کے ابتدائی نشان مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی مٹی میں بھی ملتے ہیں۔
کچی اینٹ کیا ہے؟
سب سے پرانی اینٹیں کچی تھیں، یعنی مٹی کو گوندھ کر اس میں بھوسا ملایا جاتا، ہاتھ یا سانچے سے شکل دی جاتی اور دھوپ میں سکھا لیا جاتا۔ بھوسا مٹی کو جوڑے رکھنے کا کام کرتا ہے۔ پکی اینٹ اس کے ہزاروں برس بعد آئی، جب لوگوں نے انہیں بھٹی میں پکانا سیکھا تاکہ وہ پانی اور بارش کا مقابلہ کر سکیں۔
اس کا خام مال آسانی سے مل جاتا تھا۔ خان اور لیمن کے مطابق پنجاب اور سندھ کے دریائی میدانوں میں باریک مٹی اور پانی کی کوئی کمی نہیں تھی۔
سب سے پرانی اینٹیں
محققین اورنگزیب خان (Aurangzeb Khan) اور کارسٹن لیمن (Carsten Lemmen) کے ایک مطالعے کے مطابق کچی اینٹ کا قدیم ترین استعمال اریحا (Jericho) یا شام کے مقام تل اسود (Tell Aswad) سے ملتا ہے، جو تقریباً 7500 قبل مسیح کا ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا بھی کہتا ہے کہ اب تک کی قدیم ترین معلوم کچی اینٹیں شام اور اناطولیہ سے ملی ہیں اور 7500 قبل مسیح سے پہلے کی ہیں۔
اریحا کی کہانی خاص طور پر دلچسپ ہے۔ وہاں تقریباً 9400 قبل مسیح میں ستر سے زیادہ گول گھر تھے جو مٹی اور بھوسے سے بنے تھے۔ تقریباً 7000 قبل مسیح میں وہاں نئی بستی بسی تو گھر چوکور ہو گئے۔ ان کی دیواریں کچی اینٹ کی تھیں اور کئی کمرے ایک صحن کے گرد بنے تھے۔
ترکیہ کے مقام چاتال ہویوک (Çatalhöyük) میں، جو تقریباً 7500 سے 5600 قبل مسیح تک آباد رہا، کچی اینٹ کے چوکور گھر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ ان میں کوئی گلی نہیں تھی؛ لوگ چھت کے سوراخ سے گھر میں آتے جاتے تھے، اور نیچے والے گھروں کی چھتیں اوپر والوں کے لیے راستے کا کام دیتی تھیں۔
مہر گڑھ: انگوٹھے کے نشان والی اینٹیں
بلوچستان کے کچھی میدان میں واقع مہر گڑھ (Mehrgarh) کے سب سے پرانے دور کے لوگ بھی کچی اینٹوں کے گھروں میں رہتے تھے۔ ان اینٹوں کی ایک خاص پہچان ان پر انگوٹھے سے دبائے گئے نشان ہیں۔ ایسی اینٹیں اور چوکور کمرے مغربی اور جنوب مشرقی ایران کی نئے پتھر کے دور کی بستیوں میں بھی ملے ہیں۔
مہر گڑھ میں یہ گھر نو بار بنے اور چھوڑے گئے، اور ہر بار پرانے کھنڈروں پر نئی بستی اٹھی۔ یوں نو سے دس میٹر موٹی تہ جمع ہو گئی۔ اس کی تاریخ پر ماہرین میں اختلاف ہے۔ خان اور لیمن کے مطابق مہر گڑھ میں کچی اینٹ تقریباً 7000 قبل مسیح سے استعمال ہو رہی تھی۔ 2025 میں دانتوں کی نئی ریڈیو کاربن تاریخوں پر مبنی ایک مطالعے نے اس پہلے دور کا آغاز تقریباً 5200 سے 4900 قبل مسیح بتایا ہے۔
وادیٔ سندھ: پکی اینٹ کا عروج
اینٹ کو بھٹی میں پکانے کا رواج آیا تو اس نے شہروں کی شکل بدل دی۔ خان اور لیمن کے مطابق وادیٔ سندھ میں پکی اینٹ پہلی بار تقریباً 2800 قبل مسیح میں جلیل پور میں نظر آتی ہے، اور ابتدائی ہڑپائی دور میں کوٹ ڈیجی اور چند دوسرے مقامات پر۔ پکی اینٹ پوری سندھ تہذیب کی پہچان بن گئی۔
ان اینٹوں کی سب سے حیرت انگیز بات ان کا ناپ ہے۔ پوری تہذیب میں اینٹ کی موٹائی، چوڑائی اور لمبائی کا تناسب عموماً 1:2:4 رہا۔ یہ معیار تقریباً 1800 قبل مسیح کے بعد ٹوٹنے لگا۔ موہن جو دڑو (Mohenjo-daro) زیادہ تر پکی اینٹوں سے بنا۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی اینٹوں کو سو برس تک پکانے کے لیے دریا کے کنارے کا صرف 200 ہیکٹر جنگل کافی تھا۔
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق شہروں میں عمارتیں جزوی یا پوری طرح پکی اینٹ کی تھیں جبکہ دیہات میں کچی اینٹ ہی چلتی رہی۔ غسل خانوں کے فرش اینٹوں کو مضبوطی سے جوڑ کر تقریباً واٹر پروف بنائے جاتے تھے۔
اکثر دونوں قسم کی اینٹیں ساتھ ساتھ استعمال ہوتیں۔ ہڑپہ میں شہر کی بیرونی دیوار کچی اینٹ کی تھی جس پر کہیں کہیں پکی اینٹ کا رخ چڑھایا گیا تھا، جبکہ شہر کا ایک دروازہ ایک میٹر موٹی پکی اینٹ سے بنا تھا جو کچی اینٹ کی فصیل سے جڑا ہوا تھا۔ یعنی جہاں زیادہ مضبوطی درکار تھی وہاں پکی اینٹ، اور باقی جگہ سستی کچی اینٹ۔
اینٹوں کی چوری اور آج کا سبق
ان اینٹوں کی مضبوطی کا ایک افسوسناک ثبوت بھی ہے۔ انیسویں صدی میں ہڑپہ کی ہزاروں برس پرانی اینٹیں اکھاڑ کر لاہور ملتان ریلوے لائن کی تعمیر میں لگا دی گئیں۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یہ اینٹیں سو میل لائن کے لیے کافی سے زیادہ تھیں، اور موہن جو دڑو بھی اسی طرح سندھ کی ریلوے کے لیے کان بنا۔
بعد میں بابل کی تہذیب نے چمکدار روغنی اینٹوں سے عشتار دروازہ بنایا، جو تقریباً 575 قبل مسیح کا ہے۔ آج فیکٹریوں میں بننے والی اینٹ اور سیمنٹ کے بلاک انہی پرانی اینٹوں کی اولاد ہیں۔
مہر گڑھ کی انگوٹھے کے نشان والی اینٹ سے موہن جو دڑو کی ناپ تول والی پکی اینٹ تک، یہ سفر اسی سرزمین پر طے ہوا۔
ماخذ
- A. Khan and C. Lemmen, "Bricks and urbanism in the Indus Valley rise and decline", arXiv:1303.1426 (preprint, 2013, revised 2014). https://arxiv.org/abs/1303.1426 — first mud bricks at Jericho or Tell Aswad c. 7500 BC; mud bricks at Mehrgarh since c. 7000 BC; baked bricks first at Jalilpur c. 2800 BC and in the Early Harappan phase at Kalibangan, Kot Diji and Banawali; Mohenjo-daro mostly baked brick; fine silt and water abundant in the river plains of Punjab and Sindh; Meher-Homji's estimate of 200 ha of riverine forest per 100 years; 4:2:1 standard lost after 1800 BC.
- B. Mutin, A. Zazzo, L. Bondioli, A. Coppa et al., "New radiocarbon dates of human tooth enamel reveal a late appearance of farming life in the Indus Valley", Scientific Reports 15, 11345 (2025). https://www.nature.com/articles/s41598-025-92621-5 — Mehrgarh Period I mud-brick dwellings, "thumb-impressed" mud bricks and quadrangular rooms with parallels in Iran; nine architectural levels in 9–10 m of deposit; Period I start c. 5200–4900 BCE vs. Jarrige's c. 8000 BCE.
- A. Ramos, "Early Jericho", World History Encyclopedia (2016). https://www.worldhistory.org/article/951/early-jericho/ — more than 70 circular clay-and-straw homes by c. 9400 BCE; second settlement c. 7000 BCE with rectilinear mud-brick buildings around courtyards.
- N. Choubineh, "Çatalhöyük", World History Encyclopedia (2021). https://www.worldhistory.org/Catalhoyuk/ — occupation c. 7500–5600 BCE; earliest mudbricks found so far date from before 7500 BCE in Syria and Anatolia; square mud-brick room-flats entered through the roof.
- M. Bin Naveed, "Harappa: An Overview of Harappan Architecture & Town Planning", World History Encyclopedia (2014). https://www.worldhistory.org/article/695/harappa-an-overview-of-harappan-architecture–town/ — urban buildings in baked brick, rural in mud brick; tightly fitted brick floors in bathing rooms; Harappa's bricks taken for the Lahore–Multan railway, enough for about 100 miles; Mohenjo-daro a quarry for the Sind railway; mud-brick perimeter wall faced in places with baked brick and a 1 m thick baked-brick gate.
- "Ishtar Gate", World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/Ishtar_Gate/ — built c. 575 BCE in Babylon; front adorned with glazed bricks.
- "Brick", Wikipedia (pointer only). https://en.wikipedia.org/wiki/Brick — mud bricks with straw as binder; 1:2:4 Indus ratio (cross-checked with source 1).


