تحریر: جب انسان نے اپنی بات مٹی پر محفوظ کرنا سیکھا
یہ اخبار جو آپ پڑھ رہے ہیں، موبائل پر آنے والا پیغام، دکان کی رسید، بچوں کی کاپی: یہ سب ایک ایسی ایجاد کے بغیر ممکن نہ تھے جو تقریباً ساڑھے پانچ ہزار برس پہلے عراق کے میدانوں میں سامنے…

یہ اخبار جو آپ پڑھ رہے ہیں، موبائل پر آنے والا پیغام، دکان کی رسید، بچوں کی کاپی: یہ سب ایک ایسی ایجاد کے بغیر ممکن نہ تھے جو تقریباً ساڑھے پانچ ہزار برس پہلے عراق کے میدانوں میں سامنے آئی۔ تحریر نے انسان کو یہ طاقت دی کہ اس کی بات اس کے مرنے کے بعد بھی باقی رہے، اور وہ لوگ بھی اسے سن سکیں جو ہزاروں میل دور یا ہزاروں برس بعد پیدا ہوں۔
گنتی کے مہرے سے حروف تک
تحریر اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف ٹیکساس سے وابستہ ماہر ڈینیز شمانت بیسیرا (Denise Schmandt-Besserat) کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی ابتدائی زرعی بستیوں میں 8000 سے 3000 قبل مسیح تک مٹی کے چھوٹے چھوٹے مختلف شکلوں کے مہرے سامان گننے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ ان کے بقول جب تقریباً 3200 قبل مسیح میں مٹی کی تختیوں پر لکھا جانے والا میسوپوٹیمیا کا رسم الخط سامنے آیا تو وہ انہی مہروں سے نکلا تھا۔ دونوں کا کام ایک تھا: بھیڑ بکریوں، اناج، تیل اور کپڑے جیسی چیزوں کا حساب رکھنا۔ لکھی گئی علامتیں بھی مہروں ہی کی شکل اور نشانات پر بنائی گئیں۔
اوروک کی تختیاں اور میخی رسم الخط
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق تحریر جنوبی میسوپوٹیمیا کے سومیری شہر اوروک (Uruk) میں تقریباً 3600 سے 3500 قبل مسیح میں ایجاد ہوئی، اور اسی شہر میں تقریباً 3200 قبل مسیح میں اسے مزید نکھارا گیا۔ ابتدا میں یہ تصویری علامتیں تھیں، جو اوروک ہی میں تقریباً 3200 قبل مسیح تک آوازوں کو ظاہر کرنے والی علامتوں میں بدلنے لگیں۔
یہ تحریر سرکنڈے کے قلم سے گیلی مٹی پر دبا کر لکھی جاتی تھی، اس لیے اس کے نشان کیل یا میخ جیسے ہوتے تھے۔ اسی لیے اسے میخی رسم الخط (Cuneiform) کہا جاتا ہے؛ یہ نام لاطینی لفظ "کیونیئس" سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے میخ۔ اسی ماخذ میں ماہر جیریمی بلیک (Jeremy Black) کا حوالہ ہے کہ تحریر کے ظاہر ہونے کے بعد صدیوں تک یہ صرف انتظامی کاموں کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ یعنی دنیا کی پہلی تحریریں شعر یا کہانیاں نہیں بلکہ حساب کتاب کے ریکارڈ تھے۔
وقت کے ساتھ میخی رسم الخط میں قوانین، دعائیں، نسخے اور داستانیں لکھی جانے لگیں، جن میں گلگامش کی داستان سب سے مشہور ہے۔ یہ رسم الخط صرف سومیری زبان تک محدود نہ رہا بلکہ اکادی، بابلی، عیلامی، حِتّی اور اشوری سمیت کئی زبانوں کے لیے استعمال ہوا۔ تاریخ میں نام سے معلوم پہلی مصنفہ اکاد کے بادشاہ سرگون کی بیٹی اور اُر کی اعلیٰ پجارن انخیدوانا (Enheduanna) ہیں، جو تقریباً 2300 قبل مسیح میں تھیں اور اپنی نظموں پر اپنا نام اور مہر لگاتی تھیں۔
مصر، چین اور امریکہ
میسوپوٹیمیا اکیلا نہیں تھا۔ امریکہ کے جریدے "آرکیالوجی" کی 1999 کی ایک رپورٹ کے مطابق مصر کے قدیم شہر ابیدوس (Abydos) میں جرمن آثارِ قدیمہ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کو ہڈی اور ہاتھی دانت کی چھوٹی تختیاں، برتن اور مہروں کے نقش ملے جن پر تصویری علامتیں بنی تھیں۔ ادارے کے سربراہ گنٹر درائر (Günter Dreyer) کے مطابق ان کی تاریخ 3400 سے 3200 قبل مسیح کے درمیان ہے، اور یہ مصری تحریر کے اب تک کے قدیم ترین معلوم نمونے ہیں۔ یہ تختیاں زیادہ تر سامان پر لگائے جانے والے لیبل تھیں۔
ماہرین میں اس پر اختلاف ہے کہ مصری تحریر میسوپوٹیمیا سے متاثر ہو کر بنی یا الگ سے ایجاد ہوئی۔ البتہ یہ بات زیادہ واضح ہے کہ تحریر دنیا میں کم از کم چند جگہوں پر آزادانہ طور پر ایجاد ہوئی۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق چین میں تحریر تقریباً 1200 قبل مسیح میں فال کی ہڈیوں پر لکھی جانے والی علامتوں سے شروع ہوئی، اور وسطی امریکہ میں مایا (Maya) لوگوں نے بھی الگ سے تحریر ایجاد کی۔
وادیٔ سندھ کا ان پڑھا رسم الخط
ہمارے اپنے خطے کی تحریر ایک معمہ ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کا رسم الخط آج تک پڑھا نہیں جا سکا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس کی علامتوں کے قدیم ترین معلوم نمونے ہڑپہ سے ملنے والے راوی اور کوٹ ڈیجی دور کے برتنوں پر ہیں، جن کا زمانہ تقریباً 3500 سے 2700 قبل مسیح ہے۔ لمبی تحریریں 2600 سے 1900 قبل مسیح کے پختہ ہڑپہ دور میں ملتی ہیں۔
تقریباً 60 مقامات سے ہزاروں تحریریں ملی ہیں، جو زیادہ تر سٹیٹائٹ پتھر کی چوکور مہروں پر ہیں۔ یہ سب بہت مختصر ہیں: اوسطاً پانچ علامتیں، اور کوئی بھی 26 علامتوں سے لمبی نہیں۔ ماہرین نے 400 سے کچھ زیادہ بنیادی علامتیں شناخت کی ہیں۔ کوئی دو زبانوں والی تحریر نہ ملنے اور تحریروں کے مختصر ہونے کی وجہ سے اسے پڑھنا اب تک ممکن نہیں ہوا۔
بھولی ہوئی تحریروں کی واپسی
میخی اور مصری تحریریں بھی صدیوں تک کوئی نہیں پڑھ سکتا تھا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق جرمن ماہر گیورگ فریڈرش گروٹیفنڈ (Georg Friedrich Grotefend) نے 1823 سے پہلے میخی تحریر کو پڑھنے کا آغاز کیا، اور ہنری رالنسن (Henry Rawlinson) نے 1837 میں بیستون (Behistun) کا کتبہ پڑھا۔ فرانسیسی ماہر ژاں فرانسوا شامپولیوں (Jean-François Champollion) نے 1820 کی دہائی میں روزیٹا پتھر کی مدد سے مصری تصویری تحریر کا راز کھولا۔
آج کی زندگی میں تحریر
اوروک کے منشی نے جو علامتیں گیلی مٹی پر دبائیں، ان کا سلسلہ آج ہمارے کی بورڈ تک پہنچتا ہے۔ تحریر نے حساب کو ریکارڈ میں، قانون کو کتاب میں اور یادداشت کو تاریخ میں بدل دیا۔ آج اردو کا ہر حرف، ہر اخبار اور ہر اسکول کی کتاب اسی ساڑھے پانچ ہزار برس پرانی ایجاد کا تسلسل ہے۔
ماخذ
- Larkin Mitchell, "Earliest Egyptian Glyphs", Archaeology (Archaeological Institute of America) 52 (2), March/April 1999. https://archive.archaeology.org/9903/newsbriefs/egypt.html — Abydos tags, vessels and seal impressions with glyphs, 3400–3200 BC (German Archaeological Institute, Günter Dreyer); tags 2 × 1.5 cm used as labels; statement by Denise Schmandt-Besserat: clay tokens used to count goods 8000–3000 BC; Mesopotamian script on clay tablets c. 3200 BC evolved from tokens and recorded the same goods.
- Joshua J. Mark, "Writing", World History Encyclopedia, 2011. https://www.worldhistory.org/writing/ — Writing invented in Sumer (Uruk) c. 3600/3500 BCE, refined c. 3200 BCE; marks made in wet clay with a reed implement; Egyptian derivation from cuneiform disputed; independent writing in China (oracle bones c. 1200 BCE) and among the Maya; Enheduanna (c. 2300 BCE) first named author; Indus script undeciphered.
- Joshua J. Mark, "Cuneiform", World History Encyclopedia, 2026 (revised). https://www.worldhistory.org/cuneiform/ — Cuneiform from c. 3600/3500 BCE; name from Latin cuneus "wedge"; stylus pressed into soft clay; phonograms in Uruk by c. 3200 BCE; Jeremy Black on its long purely administrative use; used for Akkadian, Babylonian, Elamite, Hittite, Assyrian and other languages; decipherment by Grotefend (before 1823) and Rawlinson (Behistun, 1837).
- Cristian Violatti, "Indus Script", World History Encyclopedia, 2015. https://www.worldhistory.org/Indus_Script/ — Undeciphered; earliest signs on Ravi and Kot Diji pottery at Harappa (c. 3500–2700 BCE); longer inscriptions 2600–1900 BCE; inscriptions from some 60 sites, average five signs, none longer than 26; just over 400 basic signs; square steatite seals; no bilingual text.
- Priscila Scoville, "Egyptian Hieroglyphs", World History Encyclopedia, 2015. https://www.worldhistory.org/Egyptian_Hieroglyphs/ — Champollion's decipherment in the 1820s using the Rosetta Stone; Abydos tomb U-j and the dating of the earliest securely dated hieroglyphs.
- Joshua J. Mark, "Mesopotamian Inventions", World History Encyclopedia, 2026 (revised). https://www.worldhistory.org/article/1859/mesopotamian-inventions/ — Cuneiform developed from pictographs; used for receipts, laws, recipes, prayers and epics including Gilgamesh.
- Joshua J. Mark, "Enheduanna", World History Encyclopedia. https://www.worldhistory.org/Enheduanna/ — daughter of Sargon of Akkad; high priestess of the moon god Nanna at Ur (fact-check 20 Oct 2026).


