رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 13° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
عامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظاتعلی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجہ کے نام کھلا خط، بیان واپس لینے اور معافی کا مطالبہپانی ہماری ریڈ لائن ہے، پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام تصور ہو گی: وزیراعظم شہباز شریف

الزہراوی: جراحی کے آلات، تصویروں کی زبان میں

کسی بھی ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں چاندی جیسے چمکتے آلات ترتیب سے رکھے ہوتے ہیں: چمٹیاں، نشتر، سوئیاں، دھاگے۔ نیا سرجن ان کے نام اور استعمال کتابوں کی تصویروں سے سیکھتا ہے۔ آلات کو تصویروں کے ذریعے سکھانے کی…

الزہراوی: جراحی کے آلات، تصویروں کی زبان میں
علامتی تصویر

کسی بھی ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں چاندی جیسے چمکتے آلات ترتیب سے رکھے ہوتے ہیں: چمٹیاں، نشتر، سوئیاں، دھاگے۔ نیا سرجن ان کے نام اور استعمال کتابوں کی تصویروں سے سیکھتا ہے۔ آلات کو تصویروں کے ذریعے سکھانے کی یہ روایت ایک ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے، اور اس کی ایک بڑی بنیاد اندلس کے شہر قرطبہ کے ایک جراح نے رکھی۔ ان کا نام ابوالقاسم خلف بن عباس الزہراوی (al-Zahrawi) تھا، اور یورپ میں وہ "ابولکاسس" (Abulcasis) کے نام سے مشہور ہوئے۔

قرطبہ کا جراح

الزہراوی کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلوم ہے۔ امریکہ کے اسمتھسونین ادارے میں طبی علوم کے ایسوسی ایٹ کیوریٹر سامی حمارنہ نے 1961 میں ان پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا۔ ان کے مطابق الزہراوی کا انتقال تقریباً 1013 عیسوی میں ہوا۔ طبی جریدے "ہیکٹوئن انٹرنیشنل" میں ڈاکٹر فضل الرحمٰن مناف کے مطابق وہ 936 عیسوی میں قرطبہ سے تقریباً چھ میل شمال مغرب میں الزہرا کے مقام پر پیدا ہوئے، اور اسی نسبت سے "زہراوی" کہلائے۔ حمارنہ سالِ پیدائش نہیں دیتے۔

حمارنہ لکھتے ہیں کہ دسویں صدی کے آخر میں لکھی گئی ان کی کتاب "التصریف لمن عجز عن التالیف" غالباً اندلس میں لکھی جانے والی پہلی آزاد کتاب تھی جس میں اس زمانے کا پورا طبی علم سمیٹا گیا۔ یہ تیس مقالوں پر مشتمل ہے اور الزہراوی کی واحد معلوم تصنیف ہے۔

تیسواں مقالہ: جراحی

اس کتاب کا سب سے مشہور حصہ اس کا تیسواں اور آخری مقالہ ہے، جو پورا جراحی پر ہے۔ حمارنہ کے مطابق اس کی خوبی اس کی صفائی، احتیاط سے کی گئی تفصیل اور ذاتی مشاہدہ ہے۔ الزہراوی نے اس میں جراحی اور دانتوں کے ان آلات کی اپنی بنائی ہوئی تصویریں شامل کیں جو وہ خود استعمال کرتے، جن کی شکل انہوں نے خود سوچی، یا جن کی وہ سفارش کرتے تھے۔ حمارنہ کے مطابق آلات کی یہ تصویریں مجموعی طور پر 200 سے زیادہ ہیں۔

یہ تصویریں شاگردوں کو سکھانے کے لیے تھیں، جنہیں الزہراوی محبت سے اپنے "بچے" کہتے ہیں۔ حمارنہ کے مطابق یہ غالباً آج معلوم سب سے پرانی کتاب ہے جس میں جراحی کی تعلیم کے لیے ایسی تصویریں اور متن ساتھ ساتھ ہوں۔

مقالے کے دیباچے میں الزہراوی نے چار ایسے واقعات بیان کیے جو انہوں نے خود دیکھے، جن میں ناتجربہ کار معالجوں نے بغیر تربیت کے آپریشن کیا اور مریض جان سے گئے۔ حمارنہ کے ترجمے کے مطابق وہ لکھتے ہیں کہ جو شخص جسم کی ساخت یعنی علمِ تشریح نہیں جانتا، وہ ایسی غلطیاں کر بیٹھتا ہے جو موت تک لے جاتی ہیں۔

تین حصے، سیکڑوں ابواب

حمارنہ کے مطابق جراحی کا یہ مقالہ تین حصوں میں ہے۔ پہلے حصے کے 56 ابواب داغنے (cautery) کے بارے میں ہیں، یعنی گرم دھات سے زخم یا بیمار حصے کا علاج۔ الزہراوی کہتے ہیں کہ آگ صرف بیمار حصے کو چھوتی ہے، اور وہ مشورہ دیتے ہیں کہ اس کام کے آلات لوہے کے ہوں، سونے کے نہیں، کیونکہ سونا آگ میں یا تو پورا گرم نہیں ہوتا یا پگھل جاتا ہے۔

دوسرے حصے کے تقریباً 99 ابواب چیر پھاڑ، رگ کھولنے، سینگی لگانے اور پھوڑوں کے آپریشن پر ہیں۔ اس میں کان سے اٹکی چیز نکالنے کے لیے باریک چمٹی اور پچکاری، گلا دیکھنے کے لیے چاندی یا تانبے کی زبان دبانے والی پتی، اور دانت صاف کرنے اور نکالنے کے آلات کی تصویریں ہیں۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ اکثر بیمار دانت کی بجائے ساتھ والا صحت مند دانت نکال دیا جاتا ہے۔ ہلتے دانتوں کو سونے کے پل سے ساتھ والے مضبوط دانتوں سے جوڑنے اور گرے ہوئے دانت کی جگہ گائے کی ہڈی سے بنا دانت لگانے کا طریقہ بھی بیان ہے۔

اسی حصے میں مثانے میں دوا ڈالنے کے لیے دھات کی پچکاری، مثانے سے پتھری نکالنے کا آپریشن، اور بچوں کے لیے چمڑے والی ایک پچکاری کا ذکر ہے جسے حمارنہ آج کی ربڑ والی پچکاری کا پیش رو کہتے ہیں۔ حمارنہ کے مطابق الزہراوی خون کی کٹی ہوئی شریانوں کو دھاگے سے باندھنے کے ابتدائی طریقے اپنانے والوں میں تھے۔ مناف کے مطابق زخم سینے کے لیے وہ کئی طرح کے دھاگے استعمال کرتے تھے، جن میں جانور کی آنت سے بنا دھاگا (catgut) بھی شامل تھا۔ جرمنی کی ہائیڈلبرگ یونیورسٹی کے محققین کے ایک مقالے کے مطابق بچوں کے سر میں پانی بھر جانے کی بیماری میں سطحی پانی نکالنے کا پہلا تفصیلی بیان بھی الزہراوی کا ہے۔

تیسرے اور آخری حصے کے 35 ابواب ٹوٹی اور اتری ہوئی ہڈیوں پر ہیں۔ الزہراوی نے کئی طرح کی کھپچیوں کی شکلیں بنائیں اور مشورہ دیا کہ پٹی چوٹ کی جگہ پر سخت اور اس سے دور ہوتے ہوئے ڈھیلی ہوتی جائے۔ حمارنہ کے مطابق اس حصے کا ایک قابلِ ذکر مشاہدہ ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے سے ہونے والے فالج کا بیان ہے۔

لاطینی ترجمہ اور یورپ

حمارنہ کے مطابق الزہراوی کی تحریریں جیرارڈ آف کریمونا (Gerard of Cremona) کے لاطینی ترجمے کے ذریعے یورپ پہنچیں۔ جیرارڈ کا انتقال 1187 میں ہوا، اور بارہویں صدی کے آخری حصے سے یہ ترجمہ یورپ بھر میں پھیل گیا۔ حمارنہ لکھتے ہیں کہ اسی وجہ سے الزہراوی کو اپنے وطن سے زیادہ مغرب میں شہرت ملی، اور ان کے مقالے کا اثر یورپ کی نشاۃِ ثانیہ تک رہا۔

آج کا سبق

الزہراوی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اچھا علاج صرف نیت سے نہیں، تربیت سے آتا ہے۔ انہوں نے جسم کی ساخت جاننے پر زور دیا، اپنے آلات کو تصویروں میں محفوظ کیا تاکہ آنے والے سیکھ سکیں، اور اپنے دیکھے ہوئے حادثوں کو خبردار کرنے کے لیے لکھا۔ آج بولان میڈیکل کالج سے لے کر دنیا کے ہر میڈیکل کالج تک، سرجری کی کتابوں میں آلات کی تصویریں اسی پرانی روایت کا تسلسل ہیں۔

ماخذ

  1. Sami Hamarneh, "Drawings and Pharmacy in al-Zahrāwī's 10th-Century Surgical Treatise", Contributions from the Museum of History and Technology, Paper 22, pp. 81-94, United States National Museum Bulletin 228, Smithsonian Institution (1961), Project Gutenberg text. https://www.gutenberg.org/ebooks/26038 — d. ca. 1013; al-Tasrif written in the late 10th century, 30 treatises, his only known work, probably the earliest independent encyclopedic medical work in Arabic Spain; surgery the 30th and last treatise; his own drawings of instruments he used, devised or recommended, for apprentices he calls his children; probably the oldest known illustrated surgical text; over 200 figures of instruments; the anatomy quotation and four witnessed incidents; three sections of 56, about 99 and 35 chapters; cautery, iron instruments preferred to gold; ear tweezers and syringe; tongue depressor; dental scrapers, forceps, warning on extracting the healthy tooth, gold bridge and cow-bone tooth; bladder syringe; lithotomy; bulb syringe with leather for children; ligature of arteries; splints and bandaging; paralysis from spinal fracture; Gerard of Cremona (d. 1187); greater fame in the West; influence to the Renaissance; drawings altered in Latin versions; manuscripts in Istanbul, Vienna and Tübingen.
  2. Fadlurrahman Manaf, "Abulcasis: the pharmacist-surgeon", Hektoen International (22 January 2017). https://hekint.org/2017/01/22/abulcasis-the-pharmacist-surgeon/ — 936-1013; born in Zahra, six miles north-west of Cordova; thirty-volume encyclopedia; over two hundred instruments; several types of thread including catgut.
  3. A. Aschoff, P. Kremer, B. Hashemi and S. Kunze, "The scientific history of hydrocephalus and its treatment", Neurosurgical Review 22 (1999): 67-93, PubMed abstract. https://pubmed.ncbi.nlm.nih.gov/10547004 — evacuation of superficial intracranial fluid in hydrocephalic children first described in detail in the 10th century by Abulkassim al-Zahrawi.

100 بڑی دریافتیں اور ایجادات: تمام تحریریں ←