بارود: کیمیا گروں کی آگ کی دوا
شادی کی رات آسمان پر رنگ برنگی آتش بازی ہو یا کسی جشن کے پٹاخے، ان سب کے پیچھے ایک سیاہ سفوف کی کہانی ہے جو تقریباً بارہ سو سال پہلے چین میں دریافت ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ…

شادی کی رات آسمان پر رنگ برنگی آتش بازی ہو یا کسی جشن کے پٹاخے، ان سب کے پیچھے ایک سیاہ سفوف کی کہانی ہے جو تقریباً بارہ سو سال پہلے چین میں دریافت ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے ڈھونڈنے والے کسی ہتھیار کی تلاش میں نہیں تھے۔ وہ کیمیا گر تھے جو دوائیں اور لمبی عمر کا نسخہ تلاش کر رہے تھے۔
آگ کی دوا
امریکہ کی ایموری یونیورسٹی کے مؤرخ ٹونیو اینڈریڈ (Tonio Andrade) کے مطابق چینی زبان میں بارود کا نام "ہُو یاؤ" ہے، جس کا لفظی مطلب ہے "آگ کی دوا"۔ اسی نام کی وجہ سے بہت سے محققین سمجھتے ہیں کہ یہ مادہ دواؤں کی تلاش کے دوران وجود میں آیا۔ اینڈریڈ لکھتے ہیں کہ ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں چینی کیمیا گر مختلف مادوں کو ان کے بنیادی اجزا میں الگ کرنے کے تجربے کر رہے تھے، مثلاً گندھک کو صاف کرنا۔ انہی تجربوں میں انہیں ایک نہایت بھڑکنے والا آمیزہ ہاتھ آیا۔
برطانیہ کی رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کی شائع کردہ کتاب "آتش بازی کی کیمیا" (The Chemistry of Fireworks) میں مائیکل رسل لکھتے ہیں کہ تقریباً آٹھویں صدی تک چینی کیمیا گر "آبِ حیات" کی تلاش میں مصروف تھے۔ شہد، گندھک اور شورے کا ایک آمیزہ گرم کرنے پر اچانک بھڑک اٹھا۔ بعد میں اس میں کوئلہ شامل ہوا اور وہ مشہور نسخہ بنا جسے ہم بارود کہتے ہیں: کوئلہ، گندھک اور شورہ۔
امریکہ کے اسمتھسونین قومی فضائی و خلائی عجائب گھر کے مطابق برطانوی محقق جوزف نیدھم (Joseph Needham) اور ان کے ساتھیوں کو پرانی چینی تحریروں میں کیمیا گروں کے جھلسنے اور اچانک آگ لگنے کے واقعات ملے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دریافت اتفاقیہ تھی۔
تاریخ پر اختلاف ہے: اینڈریڈ ساتویں اور آٹھویں صدی کی بات کرتے ہیں، رسل آٹھویں صدی کی، اور کلیمسن یونیورسٹی کی ایک درسی کتاب نویں صدی کے وسط کی۔ رسل کے مطابق اصل بارود کی ایجاد کی ٹھیک جگہ اور تاریخ آج بھی معلوم نہیں۔
پہلا لکھا ہوا نسخہ
اینڈریڈ کے مطابق بارود کا سب سے پرانا معلوم تحریری نسخہ 1044 عیسوی کی ایک چینی کتاب "وُو جِنگ زونگ یاؤ" (Wujing Zongyao) میں ملتا ہے۔ رسل کے مطابق اس نسخے میں گندھک اور شورے کے ساتھ سنکھیا اور سیسے کے نمکیات، تیل اور موم بھی شامل تھے۔ یعنی یہ آج کے بارود جیسا خالص مرکب نہیں تھا بلکہ ایک بھڑکنے والا آمیزہ تھا۔
اینڈریڈ لکھتے ہیں کہ ابتدائی نسخوں میں شورے کی مقدار آج کے مقابلے میں خاصی کم ہوتی تھی، کیونکہ یہ سب سے مہنگا جزو تھا، اور ان میں تیل، قیر اور رال جیسی اضافی چیزیں ملائی جاتی تھیں۔
سفوف کی کیمیا
بارود کو سمجھنے کے لیے آگ کو سمجھنا ضروری ہے۔ کوئی بھی چیز جلنے کے لیے ہوا کی آکسیجن مانگتی ہے۔ لکڑی کا ڈھیر آہستہ جلتا ہے کیونکہ آکسیجن باہر سے آہستہ آہستہ پہنچتی ہے۔
اینڈریڈ کے مطابق بارود کا اصل راز شورہ، یعنی پوٹاشیم نائٹریٹ، ہے۔ نائٹریٹ میں آکسیجن پہلے سے موجود ہوتی ہے، اس لیے یہ مرکب باہر کی ہوا کا انتظار کیے بغیر نہایت تیزی سے جلتا ہے۔ رسل بھی یہی بتاتے ہیں کہ کوئلہ اور گندھک ایندھن کا کام کرتے ہیں اور شورے سے نکلنے والی آکسیجن انہیں جلاتی ہے۔ اینڈریڈ کے مطابق آج کے سیاہ بارود کا مثالی تناسب 75 فیصد نائٹریٹ، 15 فیصد کوئلہ اور 10 فیصد گندھک ہے۔
پٹاخے اور آتش بازی
اینڈریڈ کے مطابق یہ مادہ جلد ہی ہتھیاروں میں بھی استعمال ہونے لگا، مگر اس کا ایک پرامن رخ بھی شروع سے موجود تھا۔ رسل لکھتے ہیں کہ بارود کا ایک ابتدائی استعمال پٹاخے تھے: چرمی کاغذ (پارچمنٹ) کی ایک نلکی جس میں ڈھیلا سفوف بھر کر دونوں سرے مضبوطی سے باندھ دیے جاتے تھے۔ رسل انہیں شاید پہلی آتش بازی قرار دیتے ہیں۔
اسمتھسونین عجائب گھر کے مطابق ابتدائی آتش بازی کی نلکی غالباً بانس کی ہوتی تھی، جس میں بارود بھرا ہوتا اور ایک چھوٹا سا سوراخ ہوتا۔ عجائب گھر 1264 عیسوی کے ایک چینی بیان کا ذکر کرتا ہے جس میں زمین پر ہر طرف دوڑنے والی ایک آتش بازی کا حال ہے جو آتش بازی کے مظاہروں میں چلائی جاتی تھی۔ عجائب گھر یہ خیال بھی پیش کرتا ہے کہ شاید پہلے راکٹ جنگ کے لیے نہیں بلکہ تفریح کے لیے بنے تھے۔
مغرب تک کا سفر
رسل کے مطابق بارود اور آتش بازی کا علم غالباً عرب دنیا کے راستے یورپ پہنچا۔ انگلستان کے راجر بیکن (Roger Bacon)، جو تقریباً 1214 میں پیدا ہوئے، شمالی یورپ میں سیاہ سفوف سے واقف پہلے عالم سمجھے جاتے ہیں، اور یورپ میں آتش بازی کی صنعت شروع کرنے کا سہرا اطالویوں کے سر باندھا جاتا ہے۔
بعد میں کیمیا دانوں نے دریافت کیا کہ مختلف دھاتوں کے نمکیات شعلوں کو مختلف رنگ دیتے ہیں۔ رسل کے مطابق شعلوں کو رنگین بنانے کے لیے دھاتی نمکیات کا استعمال باقاعدہ لکھا جانے لگا، اور آج کی آتش بازی کے رنگ بھی اسی اصول پر بنتے ہیں۔
ایک سبق
بارود کی کہانی بتاتی ہے کہ بڑی دریافتیں اکثر کسی اور چیز کی تلاش میں ہاتھ آتی ہیں۔ چینی کیمیا گر صحت اور لمبی عمر کا نسخہ ڈھونڈ رہے تھے، اور انہیں آگ کی ایک ایسی دوا مل گئی جس نے دنیا بدل دی۔ یہ کہانی احتیاط کا سبق بھی ہے: جن کیمیا گروں نے اسے دریافت کیا، وہ خود بھی اس سے جھلسے۔ آج بھی پٹاخے اور آتش بازی بچوں کے ہاتھ میں دینے سے پہلے یہی احتیاط یاد رکھنی چاہیے۔
ماخذ
- Michael S. Russell, The Chemistry of Fireworks, 2nd edn, Royal Society of Chemistry (2008), ch. 1 "Historical Introduction". https://books.rsc.org/books/monograph/149/chapter/80602/Historical-Introduction — by about the 8th century Chinese alchemists sought the elixir of life; honey, sulphur and saltpetre heated reacted explosively; charcoal completed the recipe; place and date of the invention of true gunpowder still unknown; the 1044 Wu Ching Tsung Yao recipe (sulphur, saltpetre, arsenic salts, lead salts, oils, waxes); fuels oxidised by oxygen from potassium nitrate; firecrackers as loosely filled parchment tubes tied at both ends, 'the first fireworks?'; spread to Europe probably via the Arab world; Roger Bacon (born about 1214); Italians and the European firework industry; metal salts for coloured flames.
- Tonio Andrade, "The origins of the gunpowder age", Medievalists.net (26 November 2022), adapted from his book The Gunpowder Age (Princeton University Press). https://www.medievalists.net/2022/11/origins-gunpowder-age/ — huo yao 'fire medicine'; developed in the search for drugs; 7th-8th-century alchemists purifying sulphur; nitrate provides its own oxygen; ideal 75% nitrate, 15% charcoal, 10% sulphur; early recipes lower in nitrate with oils, pitches and resins; earliest known written formula in the Wujing Zongyao of 1044; soon applied to warfare.
- Smithsonian National Air and Space Museum, "The First Fireworks: Origins of the Rocket" (3 July 2013). https://airandspace.si.edu/stories/editorial/first-fireworks-origins-rocket — gunpowder discovered by Chinese alchemists seeking an elixir of longevity; Needham's accounts of accidental burns and fires; early firework tube probably of bamboo with a small orifice; a 1264 firework that shot about on the floor at firework displays; first rockets possibly for entertainment.
- Jonathan Hayden, "Gunpowder in Medieval China", in Science, Technology and Society: A Student Led Exploration, Clemson University Open Textbooks. https://opentextbooks.clemson.edu/sciencetechnologyandsociety/chapter/gunpowder-in-medieval-china/ — cited only for the mid-9th-century dating of the alchemists' accidental discovery.







