رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
وزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظاتعلی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجہ کے نام کھلا خط، بیان واپس لینے اور معافی کا مطالبہپانی ہماری ریڈ لائن ہے، پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام تصور ہو گی: وزیراعظم شہباز شریفتربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصولاوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی صدارت میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے منصوبوں پر اجلاس

بیمارستان: بیماروں کا گھر جو ہسپتال بنا

کسی بڑے سرکاری ہسپتال میں جائیں تو ایک جانا پہچانا نظام ملتا ہے۔ پہلے او پی ڈی میں ڈاکٹر معائنہ کرتا ہے اور نسخہ لکھتا ہے، دوا ہسپتال کے اپنے دواخانے سے ملتی ہے، اور ضرورت ہو تو مریض کو…

بیمارستان: بیماروں کا گھر جو ہسپتال بنا
علامتی تصویر

کسی بڑے سرکاری ہسپتال میں جائیں تو ایک جانا پہچانا نظام ملتا ہے۔ پہلے او پی ڈی میں ڈاکٹر معائنہ کرتا ہے اور نسخہ لکھتا ہے، دوا ہسپتال کے اپنے دواخانے سے ملتی ہے، اور ضرورت ہو تو مریض کو متعلقہ وارڈ میں داخل کر لیا جاتا ہے۔ وارڈوں میں میڈیکل کے طلبہ اپنے استادوں کے ساتھ گھومتے نظر آتے ہیں۔ یہ ڈھانچہ نیا نہیں۔ اس کی بہت سی بنیادیں ہزار سال سے زیادہ پرانے ان اداروں میں ملتی ہیں جنہیں "بیمارستان" کہا جاتا تھا۔

ایک فارسی لفظ

انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق "بیمارستان" فارسی کے لفظ "بیمار" اور جگہ ظاہر کرنے والے لاحقے "ستان" سے بنا ہے، یعنی بیماروں کی جگہ۔ یہ لفظ اور اس کی مختصر شکل "مارستان" دونوں عربی میں بھی رائج ہو گئے، اور ہسپتال کے کئی عہدوں کے فارسی نام بھی عربی میں داخل ہوئے۔

ایرانیکا کے مطابق ایران میں سب سے پرانا ہسپتال جس کے بارے میں کچھ معلومات ملتی ہیں جندیشاپور (Jundishapur) کا تھا، جس کے ساتھ طب کا ایک مدرسہ بھی تھا۔ اس کی بنیاد کب پڑی، یہ معلوم نہیں۔

جندیشاپور سے بغداد

ایرانیکا کے مطابق عباسی خلیفہ المنصور (وفات 775 عیسوی) نے اپنے علاج کے لیے جندیشاپور کے ہسپتال کے سربراہ جرجیس بن جبرائیل کو بغداد بلایا۔ اس کے بعد جندیشاپور کے طبیب، خصوصاً بختیشوع خاندان کے لوگ، آہستہ آہستہ بغداد منتقل ہوتے گئے اور وہاں طب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

برطانیہ کے رائل سوسائٹی آف میڈیسن کے جریدے میں 2006 میں شائع ایک مضمون میں ڈاکٹر اینڈریو ملر (Andrew Miller) لکھتے ہیں کہ بغداد کا پہلا مستقل بیمارستان، جس پر مؤرخین عام طور پر متفق ہیں، خلیفہ ہارون الرشید کے دور (786 تا 809 عیسوی) میں قائم ہوا، اور جبرائیل بن بختیشوع کو اس کا سربراہ بنا کر بلایا گیا۔ یہ ہسپتال جلد مشہور ہو گیا، اور اس کے بعد بغداد اور دوسرے شہروں میں کئی بیمارستان بنے۔

اندر کا نظام

ایرانیکا کے مطابق ایک بڑا بیمارستان عام طور پر دو حصوں میں بٹا ہوتا تھا: باہر کے مریضوں کا شعبہ اور داخل مریضوں کا شفاخانہ۔ معائنے کے بعد باہر کے مریض کو نسخہ دیا جاتا جو ہسپتال کے دواخانے سے بھرا جاتا۔ اگر داخلے کی ضرورت ہوتی تو مریض کو متعلقہ وارڈ میں بھیج دیا جاتا۔ وارڈ بیماری کے لحاظ سے الگ تھے، مثلاً اندرونی امراض، ہڈی جوڑنے، جراحی اور آنکھوں کے امراض کے وارڈ، اور ہر وارڈ میں مریضوں کی تعداد کے حساب سے طبیب اور خدمت گار ہوتے تھے۔

ایرانیکا کے مطابق طبیب اس درجہ بندی میں سب سے اوپر تھے، اور ان کے نیچے مرد اور خواتین خدمت گار آج کی نرسوں جیسا کام کرتے تھے۔ ہسپتال کا اصل منتظم ہمیشہ ایک طبیب ہوتا تھا۔ عمارتیں عموماً شہر کے صاف ستھرے حصوں میں، بہترین پانی کے قریب بنائی جاتیں، اور ان میں طبیبوں اور طلبہ کے رہنے کی جگہ بھی ہوتی تھی۔

ملر کے مطابق مردوں اور عورتوں کے وارڈ الگ مگر یکساں سہولتوں والے ہوتے تھے، اور بڑے ہسپتالوں میں اپنا دواخانہ، کتب خانہ اور لیکچر ہال ہوتا تھا۔ ملر یہ بھی لکھتے ہیں کہ بیمارستانوں میں مریضوں کا تحریری ریکارڈ رکھنے کا رواج پڑا، جسے طلبہ لکھتے اور تجربہ کار طبیب درست کرتے تھے۔

پیسہ کہاں سے آتا تھا

ایرانیکا کے مطابق ہسپتال عموماً ان جائیدادوں کی آمدنی سے چلتے تھے جو اسی مقصد کے لیے مستقل طور پر وقف کر دی جاتی تھیں، یا امیروں، وزیروں اور دوسرے صاحبِ ثروت لوگوں کے عطیات سے۔ طبیبوں اور عملے کی تنخواہیں، علاج، دوائیں، دیکھ بھال اور مریضوں کا کھانا، سب اسی آمدنی سے ادا ہوتا تھا۔ یوں ہسپتال کو ایک مستقل آمدنی میسر رہتی تھی۔

طب کی درسگاہ

بیمارستان صرف علاج گاہ نہیں تھے۔ ایرانیکا کے مطابق یہ طب کی تعلیم کے سب سے بڑے مراکز تھے اور اپنے فارغ التحصیل طلبہ کو سند دیتے تھے۔ طبیبوں کو علاج کے ساتھ پڑھانے کا معاوضہ بھی ملتا تھا۔ ملر کے مطابق طلبہ چھوٹے گروہوں میں تجربہ کار استادوں کے ساتھ وارڈوں کا دورہ کرتے اور لیکچر سنتے تھے، یعنی وہی طریقہ جو آج کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں رائج ہے۔

ملر ایک واقعہ بھی بیان کرتے ہیں: 931 عیسوی میں بغداد میں ایک طبیب کی غلطی سے ایک مریض کی موت ہوئی تو خلیفہ المقتدر نے حکم دیا کہ شہر کے طبیبوں کا امتحان لیا جائے۔ ان کے مطابق طبیب سنان بن ثابت نے 860 طبیبوں کا امتحان لیا۔

دمشق اور قاہرہ

بارہویں اور تیرہویں صدی میں دو بیمارستان خاص طور پر مشہور ہوئے۔ اینالز آف سعودی میڈیسن میں 2007 میں شائع ایک تحقیقی مضمون کے مطابق دمشق کا "نوری بیمارستان" نور الدین محمود زنگی نے 1154 عیسوی کے بعد قائم کیا۔ تیرہویں صدی کے مشہور طبیب ابن النفیس نے طب کی تعلیم یہیں سے شروع کی۔

اسی مضمون کے مطابق قاہرہ کا "منصوری بیمارستان" مملوک سلطان المنصور قلاوون نے 1284 عیسوی میں بنوایا۔ ابن النفیس نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اپنا گھر اور کتب خانہ اسی نئے ہسپتال کو دے دیا۔ ملر کے مطابق یہ ہسپتال ہر شہری کا مفت علاج کرتا تھا، چاہے اس کا رنگ، جنس، عمر یا سماجی حیثیت کچھ بھی ہو۔ داخل مریض جب تک ضرورت ہو رہ سکتا تھا، اور صحت یاب مگر کمزور مریضوں کے لیے الگ وارڈ تھا۔

آج کا ہسپتال

کوئٹہ یا کسی بھی شہر کے بڑے ہسپتال میں او پی ڈی، دواخانہ، الگ الگ وارڈ، مریض کی فائل اور وارڈ میں گھومتے میڈیکل طلبہ دیکھیں تو ان میں بیمارستان کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ ہسپتال کا تصور کسی ایک شخص کی ایجاد نہیں، مگر بیمارستانوں نے علاج، دوا، تعلیم اور مستقل مالی انتظام کو ایک چھت کے نیچے جمع کر دیا۔ یہی وہ ڈھانچہ ہے جس پر آج کا جدید ہسپتال کھڑا ہے۔

ماخذ

  1. "Bīmārestān", Encyclopaedia Iranica (last updated 26 April 2013). https://www.iranicaonline.org/articles/bimarestan — from Persian bimar plus -stan; bimarestan and marestan entered Arabic; Jundishapur hospital and school founded at an unknown date; al-Mansur (d. 775) summoned its director Jirjis ibn Jibril; Jundishapur physicians, especially the Bukhtishu family, moved to Baghdad; outpatient clinic and infirmary, dispensary, wards for internal diseases, bone-setting, surgery and ophthalmology; male and female attendants; administrator always a physician; sites in clean parts of town near good water, quarters for physicians and students; support from endowments and donations paying salaries, medicines and food; hospitals as principal centres of medical education granting diplomas.
  2. Andrew C. Miller, "Jundi-Shapur, bimaristans, and the rise of academic medical centres", Journal of the Royal Society of Medicine 99(12) (2006) 615–617. https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC1676324/ — first agreed permanent bimaristan under Harun al-Rashid (786–809), headed by Jibrail ibn Bukhtishu; separate, equally equipped wards for men and women; pharmacy, library, lecture halls; written records kept by students; small-group ward teaching; examination of 860 practitioners by Sinan ibn Thabit in 931; Mansuri hospital 1284 under Qalawun, free to all, no time limit for inpatients, convalescent ward.
  3. Samir S. Amr and Abdelghani Tbakhi, "Ibn Al-Nafis: Discoverer of the Pulmonary Circulation", Annals of Saudi Medicine 27(5) (2007) 385–387. https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC6077055/ — al-Nuri hospital in Damascus founded by Nur al-Din Mahmud ibn Zanki after 1154, where Ibn al-Nafis studied; al-Mansuri hospital in Cairo built in 1284 by Sultan al-Mansur Qalawun; Ibn al-Nafis gave his house and library to it.

100 بڑی دریافتیں اور ایجادات: تمام تحریریں ←