نسیم الغنی: سولہ برس کا ٹیسٹ کرکٹر اور لارڈز کا سنچری میکر
جنوری 1958ء میں جب پاکستان کی ٹیم برج ٹاؤن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میدان میں اتری تو اس میں ایک سولہ سالہ لڑکا بھی شامل تھا۔ یہ نسیم الغنی (Nasim-ul-Ghani) تھے، جو اس وقت دنیا کے سب سے کم…

جنوری 1958ء میں جب پاکستان کی ٹیم برج ٹاؤن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف میدان میں اتری تو اس میں ایک سولہ سالہ لڑکا بھی شامل تھا۔ یہ نسیم الغنی (Nasim-ul-Ghani) تھے، جو اس وقت دنیا کے سب سے کم عمر ٹیسٹ کرکٹر بنے۔ بائیں ہاتھ کے اس اسپنر نے اسی دورے میں ایک اننگز میں 6 وکٹیں لیں، اور چار برس بعد لارڈز میں سنچری بنا کر انگلینڈ میں ٹیسٹ سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی بنے2۔ 29 ٹیسٹ میچوں پر مشتمل ان کا کیریئر 1958ء سے 1973ء تک پھیلا رہا، جس میں انہوں نے 747 رنز بنائے اور 52 وکٹیں لیں1۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
نسیم الغنی 14 مئی 1941ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ وہ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے تھے اور بنیادی طور پر بائیں ہاتھ کے اسپنر تھے، مگر ضرورت پڑنے پر میڈیم پیس بولنگ بھی کر لیتے تھے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ان کا سب سے بڑا ہتھیار گیند کو ہوا میں اچھالنا، یعنی فلائٹ، تھا۔ ای ایس پی این کرک انفو ان کے چار بھائیوں، عتیق الغنی، رئیس الغنی، تہذیب الغنی اور انیس الغنی کو بھی ان کے رشتہ داروں کے طور پر درج کرتا ہے2۔
ان کا فرسٹ کلاس کیریئر 1956ء-57ء کے سیزن میں شروع ہوا۔ انہوں نے ڈھاکہ، مشرقی پاکستان، کراچی، نیشنل بینک اور پاکستان یونیورسٹیز کی ٹیموں کے علاوہ انگلینڈ میں اسٹیفورڈشائر (Staffordshire) اور مائنر کاؤنٹیز کی بھی نمائندگی کی2۔
17 جنوری 1958ء کو برج ٹاؤن میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میں انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ پہلی اننگز میں نویں نمبر پر انہوں نے 11 رنز بنائے اور 14 اوورز کی بولنگ کی، مگر کوئی وکٹ نہ ملی1۔
ویسٹ انڈیز کا دورہ اور بولنگ
پہلے ہی دورے میں نسیم الغنی نے اپنی صلاحیت دکھا دی۔ 13 مارچ 1958ء کو جارج ٹاؤن میں انہوں نے 41.4 اوورز کی طویل بولنگ میں 116 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں۔ اس کے فوراً بعد 26 مارچ 1958ء کو پورٹ آف اسپین میں شروع ہونے والے آخری ٹیسٹ میں انہوں نے 30.5 اوورز میں 67 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین بولنگ ہے1۔
اگلے سال ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان آئی تو 20 فروری 1959ء کو کراچی میں انہوں نے 16 اوورز میں 35 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں۔ پاکستان کی جیت والے تینوں ٹیسٹ، جن میں وہ کھیلے، اسی 1958ء-59ء کے دور سے تعلق رکھتے ہیں1۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ان کا کیریئر بہت اچھے انداز میں شروع ہوا، مگر وہ ابتدائی برسوں کی توقعات پوری طرح پوری نہ کر سکے2۔
لارڈز کی سنچری
نسیم الغنی ایک ہمہ جہت بلے باز بھی تھے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق انہوں نے پاکستان کے لیے اوپننگ بھی کی اور گیارہویں نمبر پر بھی بیٹنگ کی2۔ 16 دسمبر 1960ء کو کانپور میں بھارت کے خلاف آٹھویں نمبر پر آ کر انہوں نے 70 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے1۔
ان کی بیٹنگ کا سب سے یادگار دن 1962ء میں لارڈز میں آیا۔ 21 جون کو شروع ہونے والے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں وہ نائٹ واچ مین کے طور پر بیٹنگ کے لیے آئے اور سنچری بنائی۔ انہوں نے 180 منٹ کی اننگز میں 15 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 101 رنز بنائے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق یہ انگلینڈ میں کسی پاکستانی کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی2۔ یہ ان کے کیریئر کی واحد ٹیسٹ سنچری بھی ہے۔ انگلینڈ میں کھیلے گئے 7 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے مجموعی طور پر 266 رنز بنائے، اور انگلینڈ کے خلاف ان کی بیٹنگ اوسط 24.07 رہی، جو کسی بھی ٹیم کے خلاف ان کی دوسری بہترین اوسط ہے1۔
ان کا آخری ٹیسٹ 6 جنوری 1973ء کو سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف شروع ہوا۔ اس میچ میں انہوں نے اوپنر کے طور پر بیٹنگ کی اور پہلی اننگز میں 105 گیندوں پر 64 رنز بنائے1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | |
|---|---|
| میچ | 29 |
| رنز | 747 |
| بہترین اسکور | 101 |
| اوسط (بیٹنگ) | 16.6 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 1 / 2 |
| وکٹیں | 52 |
| بہترین بولنگ | 6/67 |
| اوسط (بولنگ) | 37.67 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 2 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
نسیم الغنی کا نام پاکستان کی کرکٹ تاریخ کے دو اولین کارناموں کے ساتھ جڑا ہوا ہے: اپنے وقت کے سب سے کم عمر ٹیسٹ کرکٹر اور انگلینڈ میں سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی2۔
کھیل کے بعد بھی وہ کرکٹ سے وابستہ رہے۔ وہ 1996ء میں پاکستان کے انگلینڈ کے دورے پر اسسٹنٹ منیجر رہے، اور بعد میں قومی سلیکٹر اور جنوبی ایشیا میں آئی سی سی کے ڈویلپمنٹ آفیسر کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 1996ء میں انہوں نے آئی سی سی میچ ریفری کی حیثیت سے 2 ٹیسٹ اور 7 ون ڈے میچوں کی نگرانی بھی کی2۔
برج ٹاؤن کے سولہ سالہ نوجوان سے لارڈز کے سنچری میکر تک، نسیم الغنی کا سفر پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کے ابتدائی دور کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Nasim-ul-Ghani, Test batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42057.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42057.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42057.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42057.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings
- ESPNcricinfo player profile, Nasim-ul-Ghani (archived copy; profile essay by Kamran Abbasi): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/42057.html







