کیتھ ملر: آسٹریلیا کے بے باک آل راؤنڈر
دوسری عالمی جنگ کے بعد کے برسوں میں کرکٹ کے میدانوں کو اگر کسی ایک کھلاڑی نے سب سے زیادہ رونق بخشی تو وہ آسٹریلیا کے کیتھ ملر (Keith Miller) تھے۔ وہ ایک ہی اننگز یا ایک ہی اسپیل سے…

دوسری عالمی جنگ کے بعد کے برسوں میں کرکٹ کے میدانوں کو اگر کسی ایک کھلاڑی نے سب سے زیادہ رونق بخشی تو وہ آسٹریلیا کے کیتھ ملر (Keith Miller) تھے۔ وہ ایک ہی اننگز یا ایک ہی اسپیل سے میچ کا پانسہ پلٹ سکتے تھے۔ انہوں نے 55 ٹیسٹ میچوں میں 36.97 کی اوسط سے 2958 رنز بنائے اور 22.97 کی اوسط سے 170 وکٹیں لیں1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ آسٹریلیا کے بہترین آل راؤنڈر اور دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں سے ایک تھے2۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
کیتھ راس ملر 28 نومبر 1919ء کو میلبورن کے علاقے سنشائن میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام دو مشہور آسٹریلوی ہوا بازوں، کیتھ اور راس اسمتھ، کے نام پر رکھا گیا تھا، اور ساتھی انہیں "نگٹ" (Nugget) کہتے تھے3۔ وہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ اور دائیں ہاتھ سے تیز بولنگ کرتے تھے2۔
آسٹریلیا میں ڈومیسٹک کرکٹ ریاستی ٹیموں کے درمیان کھیلی جاتی ہے۔ ملر نے ابتدا ایک بلے باز کے طور پر کی: 1937ء-38ء میں وکٹوریہ کی طرف سے تسمانیہ کے خلاف میلبورن میں اپنے پہلے فرسٹ کلاس میچ میں انہوں نے 181 رنز بنائے۔ دوسری عالمی جنگ میں وہ لڑاکا طیارے کے پائلٹ رہے۔ 1945ء میں لارڈز میں پہلے "وکٹری ٹیسٹ" میں ان کے 105 رنز نے بین الاقوامی کرکٹ کی توجہ ان کی طرف مبذول کرائی۔ بعد میں وہ نیو ساؤتھ ویلز کی طرف سے بھی کھیلے2۔
29 مارچ 1946ء کو ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے 30 رنز بنائے اور 6 اوورز میں صرف 6 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں1۔
گیند اور بلے سے میچ جتانے والا
نومبر 1946ء میں برسبین میں انگلینڈ کے خلاف ایشز ٹیسٹ میں انہوں نے پہلے 79 رنز بنائے اور پھر 60 رنز دے کر 7 وکٹیں لیں، جو ان کے کیریئر کی بہترین بولنگ ہے۔ اسی سیریز میں ایڈیلیڈ میں 141 رنز ناٹ آؤٹ بنائے1۔
ڈان بریڈمین کی ٹیم کو ملر کی ضرورت بلے باز سے زیادہ بولر کے طور پر تھی۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ رے لنڈوال (Ray Lindwall) کے بہترین ساتھی تھے: لنڈوال کی ہموار اور تیز گیندوں کے ساتھ ملر مختصر رن اپ سے آتے، مگر جب چاہتے بجلی جیسی تیز گیند پھینک دیتے، یا کبھی لیگ اسپن، یارکر یا باؤنسر2۔ آئی سی سی کے مطابق نئی گیند کے ساتھ لنڈوال اور ملر کی جوڑی ٹیسٹ تاریخ میں مشہور ہے3۔
1948ء کے دورۂ انگلینڈ پر ناٹنگھم ٹیسٹ میں زیادہ باؤنسر پھینکنے پر تماشائیوں نے ان کے خلاف آوازیں کسیں تو وہ میدان میں بیٹھ گئے اور شور تھمنے کا انتظار کیا۔ اسی ٹیسٹ میں انہوں نے 125 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق اس پورے دورے میں وہ کمر کی تکلیف میں مبتلا رہے، پھر بھی بولنگ کرتے رہے۔ اسی دورے میں ساؤتھ اینڈ میں آسٹریلیا نے ایسیکس کے خلاف ایک دن میں 721 رنز بنائے؛ ایسے یک طرفہ مقابلے میں دلچسپی نہ رکھتے ہوئے ملر پہلی ہی گیند پر ایک طرف ہٹ گئے اور بولڈ ہو گئے2۔
جنوری 1951ء میں سڈنی ٹیسٹ میں انہوں نے انگلینڈ کے خلاف 37 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں اور 145 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ 1951ء-52ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سڈنی میں 129 رنز بنائے اور میلبورن میں 60 رنز دے کر 5 اور سڈنی میں 26 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں1۔ ویسٹ انڈیز کے کپتان جان گوڈارڈ (John Goddard) نے ایک بار کہا تھا کہ کیتھ ملر ہمیں دے دو تو ہم دنیا کو ہرا دیں2۔
ویسٹ انڈیز 1955ء اور لارڈز 1956ء
1955ء کا دورۂ ویسٹ انڈیز ان کی بیٹنگ کا عروج تھا۔ انہوں نے کنگسٹن میں 147، برج ٹاؤن میں 137 اور پھر کنگسٹن میں 109 رنز بنائے؛ سیریز کے اسی آخری ٹیسٹ میں 107 رنز دے کر 6 وکٹیں بھی لیں1۔
1956ء میں، اپنے تیسرے اور آخری دورۂ انگلینڈ پر، وہ 37 برس کے قریب تھے اور زیادہ بولنگ نہ کرنے کی امید رکھتے تھے۔ لیکن لارڈز ٹیسٹ سے لنڈوال باہر ہو گئے اور ان کی جگہ آنے والے پیٹ کرافورڈ (Pat Crawford) اپنے پانچویں اوور میں زخمی ہو گئے۔ ملر نے سارا بوجھ اٹھایا: پہلی اننگز میں 34.1 اوورز میں 72 رنز دے کر 5 اور دوسری اننگز میں 36 اوورز میں 80 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں۔ یوں میچ میں 152 رنز کے عوض 10 وکٹیں ہوئیں، جو ان کے کیریئر میں ایک ٹیسٹ کی بہترین بولنگ ہے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق یہ اس سیریز میں آسٹریلیا کی واحد فتح تھی۔ 1953ء میں وہ لارڈز میں 109 رنز بنا چکے تھے، اور اسی وجہ سے وہ ان تین مہمان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن کے نام لارڈز میں بیٹنگ اور بولنگ دونوں اعزازی بورڈز پر ہیں؛ باقی دو گیری سوبرز اور ونو منکڈ ہیں12۔
ان کا آخری ٹیسٹ 11 اکتوبر 1956ء کو کراچی میں پاکستان کے خلاف شروع ہوا، جس میں انہوں نے 21 اور 11 رنز بنائے اور 40 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | |
|---|---|
| میچ | 55 |
| رنز | 2958 |
| بہترین اسکور | 147 |
| اوسط (بیٹنگ) | 36.97 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 7 / 13 |
| وکٹیں | 170 |
| بہترین بولنگ | 7/60 |
| اوسط (بولنگ) | 22.97 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 7 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
ملر کی 7 ٹیسٹ سنچریوں میں سے 3 انگلینڈ اور 4 ویسٹ انڈیز کے خلاف تھیں1۔ انہوں نے کبھی آسٹریلیا کی کپتانی نہیں کی، البتہ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز کی قیادت میں انہوں نے متاثر کن کارکردگی دکھائی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ صحافی اور کالم نگار کے طور پر کرکٹ سے وابستہ رہے2۔
11 اکتوبر 2004ء کو میلبورن کے قریب مارننگٹن پینی سولا میں ان کا انتقال ہوا۔ مشہور لکھاری نیویل کارڈس (Neville Cardus) نے انہیں "اپنے کمال پر پہنچا ہوا آسٹریلوی" کہا تھا2۔ 2009ء میں آئی سی سی نے انہیں کرکٹ ہال آف فیم میں شامل کیا3۔ ایک ایسا کھلاڑی جو صبح سنچری بنا سکتا تھا اور شام کو حریف کی بیٹنگ بکھیر سکتا تھا، کیتھ ملر آسٹریلوی کرکٹ کی تاریخ میں آل راؤنڈر کی سب سے روشن مثال ہیں۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Keith Miller, Test batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/6612.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/6612.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/6612.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/6612.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings
- ESPNcricinfo player profile, Keith Miller (archived copy; profile by Steven Lynch): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/6612.html
- ICC Cricket Hall of Fame, Keith Miller (archived copy, Apr 2026): https://web.archive.org/web/20260416075919/https://www.icc-cricket.com/hall-of-fame/hall-of-famers/hall-of-famer-keith-miller



