وسیم راجہ: مشکل میں چمکنے والا بائیں ہاتھ کا اسٹروک میکر
وسیم راجہ (Wasim Raja) پاکستان کے ان بلے بازوں میں سے تھے جن کا کھیل دیکھنے والوں کو اعداد سے زیادہ اپنے انداز کی وجہ سے یاد رہا۔ ای ایس پی این کرک انفو پر شائع ان کے تعزیتی مضمون…

وسیم راجہ (Wasim Raja) پاکستان کے ان بلے بازوں میں سے تھے جن کا کھیل دیکھنے والوں کو اعداد سے زیادہ اپنے انداز کی وجہ سے یاد رہا۔ ای ایس پی این کرک انفو پر شائع ان کے تعزیتی مضمون کے مطابق وہ بائیں ہاتھ کے ایک شاندار اسٹروک میکر تھے جو مشکل حالات میں نکھر کر سامنے آتے تھے، ساتھ ہی ایک کارآمد لیگ اسپنر اور کور میں ایک بہترین فیلڈر بھی تھے2۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف 11 ٹیسٹ میچوں میں ان کی 57.43 کی اوسط ان کی صلاحیت کی سب سے بڑی گواہی ہے1۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
وسیم حسن راجہ 3 جولائی 1952ء کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ وہ تین بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور تینوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی: رمیز راجہ (Ramiz Raja) ان کے بعد ٹیسٹ ٹیم میں آئے اور بعد میں پاکستان کے کپتان بنے، جبکہ زعیم راجہ نیشنل بینک کے لیے کھیلے۔ ان کے والد راجہ سلیم اختر بھی فرسٹ کلاس کرکٹر تھے اور سرگودھا کی کپتانی کر چکے تھے2۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق انہوں نے صرف 15 برس کی عمر میں، جب وہ ابھی گورنمنٹ کالج میں زیرِ تعلیم تھے، لاہور کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔ 18 برس کی عمر میں انہیں بیٹنگ کا غیر معمولی ہنر رکھنے والا کھلاڑی سمجھا جاتا تھا اور انہوں نے انڈر 19 ٹیم کی کپتانی کی۔ ان کے ہم عصر عمران خان نے تسلیم کیا کہ وسیم "in a different class altogether" تھے، یعنی بالکل الگ درجے کے کھلاڑی2۔
1972ء-73ء میں انہیں نیوزی لینڈ کے دورے پر متبادل کھلاڑی کے طور پر بلایا گیا2۔ 2 فروری 1973ء کو ویلنگٹن میں ٹیسٹ کیریئر کا آغاز ہوا، جہاں انہوں نے 10 اور 41 رنز بنائے1۔
لارڈز، کراچی اور ویسٹ انڈیز
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 1974ء کے انگلینڈ کے دورے میں وہ ٹور کی بیٹنگ اوسط میں سب سے آگے رہے، اور لارڈز میں سوکھتی ہوئی وکٹ پر ڈیرک انڈر ووڈ (Derek Underwood) کے خلاف ان کی دو اننگز کو وزڈن نے "masterly" یعنی استادانہ قرار دیا2۔ 8 اگست 1974ء کو شروع ہونے والے اس ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں انہوں نے 53 رنز بنائے1۔
اسی موسمِ سرما میں، یکم مارچ 1975ء کو کراچی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف انہوں نے 107 رنز ناٹ آؤٹ بنا کر اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری مکمل کی1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق یہ اننگز اتنی عمدہ تھی کہ سنچری پر مبارکباد دینے کے لیے چند تماشائیوں کے بجائے پورا ہجوم میدان میں اتر آیا2۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف ان کا بلا ہمیشہ خوب چلا۔ 1977ء کے دورۂ ویسٹ انڈیز میں انہوں نے 5 ٹیسٹ میچوں میں 57.44 کی اوسط سے 517 رنز بنائے۔ 18 فروری 1977ء کو برج ٹاؤن میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میں انہوں نے پہلی اننگز میں 117 ناٹ آؤٹ اور دوسری میں 71 رنز بنائے؛ پورٹ آف اسپین میں 65 اور 84، پھر یکم اپریل 1977ء کو اسی میدان پر 70، اور کنگسٹن میں 64 رنز ان کے حصے میں آئے1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق اینڈی رابرٹس، میلکم مارشل، جوئل گارنر اور کولن کرافٹ جیسے بولروں کے سامنے ان کی اس اوسط سے زیادہ اس دور میں صرف گریگ چیپل کی اوسط تھی2۔
بھارت میں کامیابیاں
بھارت کے خلاف بھی ان کا ریکارڈ شاندار رہا: 11 ٹیسٹ میچوں میں 49.46 کی اوسط سے 643 رنز۔ 1979ء-80ء کے دورۂ بھارت میں 4 دسمبر 1979ء کو دہلی میں انہوں نے 97 اور 61 رنز بنائے، کانپور میں 94 ناٹ آؤٹ، چنئی میں 57 اور کلکتہ کے ایڈن گارڈنز میں 50 ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلیں1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ ان دنوں ڈٹے رہے جب کئی صفِ اول کے بلے باز دباؤ میں بکھر گئے2۔
24 ستمبر 1983ء کو جالندھر میں انہوں نے اپنا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور 125 بنایا، جس میں 17 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے، اور اسی میچ میں 50 رنز کے عوض 4 وکٹیں لے کر اپنی بہترین ٹیسٹ بولنگ بھی کی۔ چند ماہ بعد 12 مارچ 1984ء کو فیصل آباد میں انگلینڈ کے خلاف انہوں نے 112 رنز بنائے1۔
ان کا آخری ٹیسٹ 25 جنوری 1985ء کو آکلینڈ میں نیوزی لینڈ کے خلاف شروع ہوا، اور آخری ون ڈے 10 مارچ 1985ء کو میلبرن میں بھارت کے خلاف تھا۔ ون ڈے کرکٹ میں 5 دسمبر 1981ء کو ایڈیلیڈ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 25 رنز کے عوض 4 وکٹیں ان کی بہترین بولنگ ہے1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | |
|---|---|---|
| میچ | 57 | 54 |
| رنز | 2821 | 782 |
| بہترین اسکور | 125 | 60 |
| اوسط (بیٹنگ) | 36.16 | 22.34 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 4 / 18 | 0 / 2 |
| اسٹرائیک ریٹ | – | 66.95 |
| وکٹیں | 51 | 21 |
| بہترین بولنگ | 4/50 | 4/25 |
| اوسط (بولنگ) | 35.8 | 32.71 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 0 | 0 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
وسیم راجہ نے پاکستان کے لیے 111 بین الاقوامی میچ کھیلے1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ کبھی کبھار پاکستان کے لیے بولنگ کا آغاز بھی کرتے تھے، اور کھیل چھوڑنے کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ قومی ٹیم کی کوچنگ کی۔ 2002ء سے 2004ء تک وہ آئی سی سی میچ ریفری رہے اور 15 ٹیسٹ اور 34 ون ڈے میچوں میں یہ ذمہ داری نبھائی، جن میں آسٹریلیا میں کھیلی گئی ایشز سیریز بھی شامل تھی۔ انگلینڈ میں انہوں نے کئی برس مائنر کاؤنٹیز کرکٹ میں ڈرہم کی نمائندگی کی اور کیٹرہم اسکول میں 15 برس تدریس کی2۔
23 اگست 2006ء کو، 54 برس کی عمر میں، وہ انگلینڈ میں ہائی وائکم کے مقام پر سرے کی اوور 50 ٹیم کی طرف سے کھیلتے ہوئے گر پڑے اور انتقال کر گئے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق انہیں ہمیشہ اس انداز اور جذبے کے لیے یاد رکھا جائے گا جس سے وہ کرکٹ کھیلتے تھے2۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Wasim Raja, Test and ODI batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43553.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43553.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43553.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43553.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43553.html?class=2;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43553.html?class=2;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43553.html?class=2;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43553.html?class=2;template=results;type=bowling;view=innings
- ESPNcricinfo player profile, Wasim Raja (archived copy; obituary by Adam Licudi, first published in The Wisden Cricketer, October 2006): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/43553.html



