ڈبلیو جی گریس: کرکٹ کو عوام کا کھیل بنانے والا ڈاکٹر
انیسویں صدی کے انگلستان میں کرکٹ کا ایک چہرہ تھا: لمبی گھنی داڑھی، بھاری بھرکم جسم اور ہاتھ میں بلا۔ یہ ڈبلیو جی گریس (W.G. Grace) تھے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ان کی شخصیت نے بیٹنگ…

انیسویں صدی کے انگلستان میں کرکٹ کا ایک چہرہ تھا: لمبی گھنی داڑھی، بھاری بھرکم جسم اور ہاتھ میں بلا۔ یہ ڈبلیو جی گریس (W.G. Grace) تھے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ان کی شخصیت نے بیٹنگ کے انداز بدل دیے، کرکٹ کو عام لوگوں تک پہنچایا اور اسے انگلستان کی گرمیوں کا سب سے بڑا تماشائی کھیل بنا دیا۔ ٹیسٹ کرکٹ ان کے کیریئر کے آخری حصے میں شروع ہوئی، پھر بھی 22 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 1098 رنز اور 2 سنچریاں بنائیں1۔ ان کی اصل عظمت فرسٹ کلاس کرکٹ میں ہے، جہاں ان کا کیریئر 44 سیزن پر پھیلا رہا2۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
ولیم گلبرٹ گریس 18 جولائی 1848ء کو انگلستان کے شہر برسٹل کے قریب ڈاؤن اینڈ میں پیدا ہوئے۔ انہیں "ڈبلیو جی" اور "دی ڈاکٹر" کے ناموں سے پکارا جاتا تھا۔ ان کا گھرانا کرکٹ کا دیوانہ تھا: ان کے بھائی ای ایم گریس اور جی ایف گریس بھی کرکٹر تھے، اور ان کے کئی کزن، بیٹے اور بھتیجے بھی اس کھیل سے وابستہ رہے2۔
انگلستان میں ڈومیسٹک کرکٹ "کاؤنٹی" ٹیموں کے درمیان کھیلی جاتی ہے، یعنی مختلف علاقوں کی نمائندہ ٹیمیں۔ گریس زیادہ تر گلوسٹر شائر کاؤنٹی کی طرف سے کھیلے، اور جینٹلمین، ایم سی سی اور لندن کاؤنٹی کی نمائندگی بھی کی۔ ان کا فرسٹ کلاس کیریئر 1865ء سے 1908ء تک رہا2۔
کرکٹ کے ساتھ ساتھ انہوں نے طب کی تعلیم بھی حاصل کی۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق کرکٹ کی وجہ سے ان کی تعلیم بار بار رکتی رہی، اور آخرکار انہوں نے لندن کے ویسٹ منسٹر ہسپتال سے ڈاکٹری کی سند حاصل کی2۔
فرسٹ کلاس کرکٹ کے حیرت انگیز کارنامے
گریس کے دور میں ٹیسٹ میچ بہت کم ہوتے تھے، اس لیے ان کا اصل ریکارڈ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ملتا ہے۔ وزڈن المناک میں 1988ء میں شائع ہونے والے جیفری مورہاؤس (Geoffrey Moorhouse) کے مضمون کے مطابق انہوں نے 44 سیزن میں 54 ہزار سے زیادہ فرسٹ کلاس رنز بنائے؛ مضمون نگار لکھتے ہیں کہ اس کے درست عدد کے کم از کم دو مختلف حساب موجود ہیں۔ اسی مضمون کے مطابق 1876ء میں صرف آٹھ دنوں میں انہوں نے 839 رنز بنائے جن میں دو ٹرپل سنچریاں شامل تھیں، 1895ء میں، جب ان کی عمر 47 برس ہونے کو تھی، مئی کے ایک ہی مہینے میں ہزار رنز مکمل کیے، اور بولنگ میں 2800 سے زیادہ وکٹیں 18 رنز فی وکٹ سے کم اوسط پر حاصل کیں2۔
اسی مضمون میں ان کی جوانی کا ایک دلچسپ واقعہ بھی درج ہے: 18 برس کی عمر میں انہوں نے سرے (Surrey) کے خلاف "انگلینڈ" کی ٹیم کی طرف سے 224 رنز ناٹ آؤٹ بنائے، اور میچ کے بیچ میں ہی کرسٹل پیلس جا کر رکاوٹوں والی چوتھائی میل کی دوڑ جیت آئے۔ مضمون نگار کے مطابق اُس زمانے کی ناہموار پچوں کو دیکھتے ہوئے ان کی بیٹنگ اور بھی حیران کن تھی2۔
ان کا ایک ریکارڈ کئی دہائیوں تک قائم رہا: فرسٹ کلاس کرکٹ میں 126 سنچریاں۔ یہ ریکارڈ 1925ء میں جیک ہابز (Jack Hobbs) نے توڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1905ء میں ہابز کے پہلے فرسٹ کلاس میچ میں مخالف ٹیم کے کپتان گریس ہی تھے، اور انہوں نے نوجوان ہابز کو دیکھ کر کہا تھا کہ یہ لڑکا اچھا کھلاڑی بنے گا4۔
ٹیسٹ کرکٹ
گریس کے تمام 22 ٹیسٹ میچ آسٹریلیا کے خلاف تھے۔ ان کا ٹیسٹ کیریئر 6 ستمبر 1880ء کو لندن کے اوول گراؤنڈ پر شروع ہوا، جب وہ 32 برس کے تھے۔ اپنی پہلی ہی ٹیسٹ اننگز میں انہوں نے اوپنر کے طور پر 251 منٹ بیٹنگ کی اور 12 چوکوں کی مدد سے 152 رنز بنائے؛ دوسری اننگز میں وہ 9 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ اسی میچ میں انہوں نے پہلی اننگز میں ایک اور دوسری اننگز میں دو وکٹیں بھی لیں1۔
ان کی سب سے بڑی ٹیسٹ اننگز 12 اگست 1886ء کو اوول ہی میں آئی، جب انہوں نے 270 منٹ میں 24 چوکوں کی مدد سے 170 رنز بنائے۔ 1888ء سے وہ انگلینڈ کے کپتان بھی رہے اور 13 ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کی قیادت کی۔ جولائی 1890ء میں لارڈز میں انہوں نے چوتھی اننگز میں 75 رنز ناٹ آؤٹ بنائے1۔
1891ء-92ء میں انہوں نے آسٹریلیا کا دورہ کیا اور وہاں تین ٹیسٹ کھیلے، جن میں میلبرن میں 50 اور ایڈیلیڈ میں 58 رنز ان کی نمایاں اننگز تھیں۔ بعد میں اوول میں 1893ء میں 68 اور لارڈز میں 1896ء میں 66 رنز بنائے۔ جن ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ جیتا، ان میں ان کی بیٹنگ اوسط 43.35 رہی1۔
ان کا آخری ٹیسٹ یکم جون 1899ء کو ناٹنگھم میں شروع ہوا، جس میں انہوں نے 28 اور 1 رن بنائے1۔ وزڈن کے مضمون کے مطابق وہ پچاس برس کی عمر میں بھی انگلینڈ کے لیے اوپننگ کر رہے تھے2۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | |
|---|---|
| میچ | 22 |
| رنز | 1098 |
| بہترین اسکور | 170 |
| اوسط (بیٹنگ) | 32.29 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 2 / 5 |
| وکٹیں | 9 |
| بہترین بولنگ | 2/12 |
| اوسط (بولنگ) | 26.22 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 0 |
| بطور کپتان میچ | 13 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
گریس کی اہمیت ان کے اعداد سے بڑھ کر ہے۔ وزڈن کے مضمون کے مطابق ان کی غیر معمولی بیٹنگ نے کرکٹ کو انیسویں صدی کے بہت سے کھیلوں میں سے ایک کھیل کے درجے سے اٹھا کر پہلے انگلستان اور پھر دنیا کے کئی ملکوں میں گرمیوں کا سب سے بڑا تماشائی کھیل بنا دیا۔ مضمون نگار یہ بھی لکھتے ہیں کہ گریس شاید واحد شخص ہیں جنہیں کھیل سے دلچسپی نہ رکھنے والے لوگ بھی صرف ان کے نام کے دو حروف "ڈبلیو جی" سے پہچان لیتے ہیں2۔
ای ایس پی این کرک انفو کے بریڈمین والے مضمون میں بھی کہا گیا ہے کہ کھیل کے ابتدائی دور میں صرف گریس ہی ایسے کھلاڑی تھے جن کا مقام بریڈمین کے کسی حد تک قریب تھا5۔
23 اکتوبر 1915ء کو کینٹ کے علاقے موٹنگھم میں ان کا انتقال ہوا2۔ 2009ء میں آئی سی سی نے انہیں کرکٹ ہال آف فیم میں شامل کیا3۔ جدید کرکٹ کی بنیادیں جن لوگوں نے رکھیں، ان میں ڈبلیو جی گریس کا نام سب سے پہلے لیا جاتا ہے۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, WG Grace, Test batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/13424.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/13424.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/13424.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/13424.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings
- ESPNcricinfo player profile, WG Grace (archived copy; profile essay by Geoffrey Moorhouse, Wisden Cricketers' Almanack 1988): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/13424.html
- ICC Cricket Hall of Fame, William Grace (archived copy, Oct 2024): https://web.archive.org/web/20241004092955/https://www.icc-cricket.com/hall-of-fame/hall-of-famers/hall-of-famer-william-grace
- ESPNcricinfo player profile, Jack Hobbs (archived copy; Wisden obituary and timeline): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/14225.html
- ESPNcricinfo player profile, Don Bradman (archived copy; profile by Matthew Engel): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/4188.html



