ڈان بریڈمین: 99.94 کی اوسط والا بے مثال بلے باز
کرکٹ کی تاریخ میں بہت سے بڑے بلے باز آئے، مگر ایک نام ایسا ہے جس سے باقی سب کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ یہ آسٹریلیا کے ڈان بریڈمین (Don Bradman) ہیں۔ انہوں نے 52 ٹیسٹ میچوں میں 99.94 کی…

کرکٹ کی تاریخ میں بہت سے بڑے بلے باز آئے، مگر ایک نام ایسا ہے جس سے باقی سب کا موازنہ کیا جاتا ہے۔ یہ آسٹریلیا کے ڈان بریڈمین (Don Bradman) ہیں۔ انہوں نے 52 ٹیسٹ میچوں میں 99.94 کی اوسط سے 6996 رنز بنائے اور 29 سنچریاں اسکور کیں1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ بلا شبہ اب تک کے سب سے عظیم بلے باز اور بیسویں صدی کے سب سے بڑے کرکٹر تھے2۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی اوسط آج بھی ایک ایسا ہندسہ ہے جس کے قریب کوئی دوسرا بلے باز نہیں پہنچ سکا۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
ڈونلڈ جارج بریڈمین 27 اگست 1908ء کو آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے چھوٹے سے قصبے کوٹامنڈرا میں پیدا ہوئے۔ وہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے تھے اور کبھی کبھار لیگ بریک بولنگ بھی کر لیتے تھے؛ انہیں "دی ڈان" کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ وزڈن کے مضمون کے مطابق بچپن میں وہ پانی کی ٹینکی سے ٹکرا کر لوٹنے والی گولف کی گیند کو کرکٹ کی ایک وکٹ (اسٹمپ) سے مارتے رہتے، اور اسی مشق نے ان کی نظر، قدموں کی پھرتی اور یکسوئی کو نکھارا2۔
1927ء-28ء کے سیزن میں انہوں نے نیو ساؤتھ ویلز کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ شروع کی اور ایڈیلیڈ میں پہلے ہی میچ میں 118 رنز بنائے۔ بعد میں وہ جنوبی آسٹریلیا کی طرف سے کھیلے2۔
انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والی ٹیسٹ سیریز کو "ایشز" (Ashes) کہا جاتا ہے۔ بریڈمین کا ٹیسٹ کیریئر اسی مقابلے سے شروع ہوا: 30 نومبر 1928ء کو برسبین میں انگلینڈ کے خلاف انہوں نے 18 اور 1 رنز بنائے۔ اس کے بعد انہیں ٹیم سے نکال دیا گیا، اور ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق یہ ان کے پورے کیریئر میں واحد موقع تھا2۔ تیسرے ٹیسٹ میں، جو 29 دسمبر 1928ء کو میلبرن میں شروع ہوا، وہ واپس آئے اور 79 اور 112 رنز بنا کر اپنی جگہ پکی کر لی1۔
1930ء: انگلینڈ میں رنز کا سیلاب
1930ء کا دورۂ انگلستان بریڈمین کی شہرت کا اصل آغاز تھا۔ اس سیریز میں انہوں نے ناٹنگھم میں 131، لارڈز میں 254، لیڈز میں 334 اور اوول میں 232 رنز بنائے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق پوری سیریز میں ان کے رنز 974 رہے، اور لیڈز (ہیڈنگلے) کے ٹیسٹ کے پہلے ہی دن انہوں نے 309 رنز بنا ڈالے۔ 11 جولائی 1930ء کو شروع ہونے والے اس ٹیسٹ کی 334 رنز کی اننگز 383 منٹ پر محیط تھی اور اس میں 46 چوکے شامل تھے1۔ تاہم بریڈمین خود لارڈز کی 254 رنز کی اننگز کو اپنی بہترین اننگز سمجھتے تھے2۔
اگلے برسوں میں بھی یہی سلسلہ جاری رہا۔ 1931ء-32ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں انہوں نے برسبین میں 226، سڈنی میں 112، میلبرن میں 167 اور ایڈیلیڈ میں 299 ناٹ آؤٹ رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں میں ان کی اوسط 201.5 رہی1۔
باڈی لائن اور کپتانی
1932ء-33ء میں انگلینڈ کی ٹیم ڈگلس جارڈین (Douglas Jardine) کی کپتانی میں آسٹریلیا آئی اور ایک خاص بولنگ حکمت عملی اپنائی جو "باڈی لائن" (Bodyline) کے نام سے مشہور ہوئی۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق اس کا مقصد بریڈمین کو روکنا تھا، اور بعد میں کرکٹ کی تاریخ نے اس طریقے کو سخت اور ناانصافی پر مبنی قرار دیا۔ انگلینڈ نے یہ سیریز 4-1 سے جیتی؛ بریڈمین بیماری کی وجہ سے پہلا ٹیسٹ نہ کھیل سکے اور میلبرن میں واپسی پر پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہوئے، مگر دوسری اننگز میں 103 رنز ناٹ آؤٹ بنا ڈالے1۔ اس مشکل سیریز میں بھی ان کی اوسط 56.57 رہی2۔
1934ء میں انگلینڈ کے دورے پر انہوں نے لیڈز میں 304 اور اوول میں 244 رنز بنائے1۔ اوول میں بل پونسفورڈ (Bill Ponsford) کے ساتھ ان کی شراکت اس وقت دوسری وکٹ کا عالمی ریکارڈ بنی2۔
1936ء-37ء میں وہ آسٹریلیا کے کپتان بنے۔ انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ ہارنے کے بعد انہوں نے میلبرن میں ساتویں نمبر پر آ کر 270، ایڈیلیڈ میں 212 اور پھر میلبرن میں 169 رنز بنائے، اور آسٹریلیا نے سیریز 3-2 سے جیت لی۔ بطور کپتان 24 ٹیسٹ میچوں میں ان کی اوسط 101.51 رہی۔ 1946ء-47ء میں سڈنی میں 234 رنز کی اننگز کے دوران سڈ بارنز (Sid Barnes) کے ساتھ 405 رنز کی شراکت پانچویں وکٹ کا عالمی ریکارڈ بنی12۔
1947ء-48ء میں بھارت کے خلاف ہوم سیریز میں بھی ان کا بلا خوب چلا: برسبین میں 185، میلبرن کے ایک ہی ٹیسٹ میں 132 اور 127 ناٹ آؤٹ، اور ایڈیلیڈ میں 201 رنز۔ بھارت کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں میں ان کی اوسط 178.75 رہی1۔
1948ء: ناقابلِ شکست ٹیم اور آخری اننگز
1948ء میں چالیس برس کی عمر کو پہنچتے بریڈمین آسٹریلیا کی اس ٹیم کے کپتان تھے جو پورے دورۂ انگلستان میں ایک بھی میچ نہ ہاری اور "انونسبلز" (Invincibles) کہلائی۔ لیڈز کے چوتھے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو آخری دن 404 رنز کا ہدف ملا؛ بریڈمین نے 29 چوکوں کی مدد سے 173 رنز ناٹ آؤٹ بنائے اور ٹیم کو کامیابی دلائی1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق یہ اس وقت ٹیسٹ کرکٹ میں کامیاب تعاقب کا سب سے بڑا ہدف تھا، اور یہ ان کی 29ویں اور آخری ٹیسٹ سنچری تھی2۔
پھر 14 اگست 1948ء کو اوول میں ان کا آخری ٹیسٹ شروع ہوا۔ کیریئر کی اوسط 100 کرنے کے لیے انہیں صرف 4 رنز درکار تھے۔ مگر لیگ اسپنر ایرک ہولیز (Eric Hollies) کی گوگلی پر وہ دوسری ہی گیند پر بولڈ ہو کر صفر پر آؤٹ ہو گئے۔ یہ ان کی آخری ٹیسٹ اننگز ثابت ہوئی، اور یوں ان کی ٹیسٹ اوسط ہمیشہ کے لیے 99.94 پر ٹھہر گئی1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق اس انسانی لمحے نے ان کی کشش کو اور بڑھا دیا2۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | |
|---|---|
| میچ | 52 |
| رنز | 6996 |
| بہترین اسکور | 334 |
| اوسط (بیٹنگ) | 99.94 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 29 / 13 |
| وکٹیں | 2 |
| بہترین بولنگ | 1/8 |
| اوسط (بولنگ) | 36 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 0 |
| بطور کپتان میچ | 24 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
یکم جنوری 1949ء کو اعلان ہوا کہ کرکٹ کے لیے خدمات کے اعتراف میں انہیں "سر" کا خطاب دیا جائے گا۔ کھیل چھوڑنے کے بعد بھی وہ کرکٹ سے جڑے رہے: طویل عرصے تک آسٹریلیا کے قومی سلیکٹر رہے اور دو مرتبہ آسٹریلین بورڈ آف کنٹرول کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ 2000ء میں وزڈن نے انہیں صدی کے پانچ بہترین کرکٹرز میں شامل کیا2، اور 2009ء میں آئی سی سی نے انہیں کرکٹ ہال آف فیم میں شامل کیا3۔
25 فروری 2001ء کو 92 برس کی عمر میں ایڈیلیڈ کے علاقے کنسنگٹن پارک میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے بچپن کے قصبے باؤرل میں بریڈمین میوزیم آج بھی ان کی یاد تازہ رکھتا ہے2۔ ان کے اعداد میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ جن ٹیسٹ میچوں میں آسٹریلیا جیتا، ان میں ان کی اوسط 130.08 رہی1۔ 99.94 کا ہندسہ آج بھی کرکٹ کا سب سے مشہور عدد ہے، اور اسی سے بریڈمین کی عظمت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Don Bradman, Test batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/4188.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/4188.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/4188.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/4188.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings
- ESPNcricinfo player profile, Don Bradman (archived copy; profile by Matthew Engel, Wisden Cricketers' Almanack essay, timeline and best performances): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/4188.html
- ICC Cricket Hall of Fame, Donald Bradman (archived copy, Feb 2025): https://web.archive.org/web/20250216221937/https://www.icc-cricket.com/hall-of-fame/hall-of-famers/hall-of-famer-donald-bradman



