وسیم باری: وکٹوں کے پیچھے بھروسے کا نام
پاکستان نے کئی اچھے وکٹ کیپر پیدا کیے، مگر ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ان میں وسیم باری (Wasim Bari) سب سے نمایاں ہیں [2]۔ وہ ڈائیو لگا کر حیران کن کیچ پکڑنے والے کیپر نہیں تھے،…

پاکستان نے کئی اچھے وکٹ کیپر پیدا کیے، مگر ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ان میں وسیم باری (Wasim Bari) سب سے نمایاں ہیں2۔ وہ ڈائیو لگا کر حیران کن کیچ پکڑنے والے کیپر نہیں تھے، بلکہ ایسے کیپر تھے جن کے دستانوں میں گیند محفوظ رہتی تھی۔ 81 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے وکٹوں کے پیچھے 228 شکار کیے، جن میں 201 کیچ اور 27 اسٹمپ شامل ہیں1۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
وسیم باری 23 مارچ 1948ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ وہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے تھے اور وکٹ کیپر تھے۔ ان کا فرسٹ کلاس کیریئر 1964ء-65ء سے 1983ء-84ء تک رہا، جس میں انہوں نے کراچی، پی آئی اے اور سندھ کی نمائندگی کی2۔
ان کا ٹیسٹ کیریئر 27 جولائی 1967ء کو لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف شروع ہوا، جہاں دسویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے 13 رنز بنائے1۔ یہ ایک طویل سفر کا آغاز تھا جو 1984ء تک جاری رہا۔
وکٹوں کے پیچھے
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ آسٹریلیا کے راڈنی مارش یا ویسٹ انڈیز کے جیفری ڈوجون کی طرح شاندار ڈائیو لگانے والے کیپر نہیں تھے، مگر وہ ایک غیر معمولی طور پر محفوظ وکٹ کیپر تھے اور اپنے دور کے بہترین کیپرز کے بہت قریب تھے۔ اسی پروفائل کے مطابق کپتان عمران خان کو ان کی صلاحیت پر مکمل بھروسہ تھا، انہوں نے ایک دو مواقع پر وسیم باری کو وقت سے پہلے کھیل چھوڑنے سے روکا، اور وہ انہیں انگلینڈ کے ایلن ناٹ (Alan Knott) کے برابر سمجھتے تھے2۔
اعداد بھی اس بھروسے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ایک اننگز میں ان کے سب سے زیادہ شکار 7 تھے، اور یہ ساتوں کیچ تھے۔ ون ڈے کرکٹ میں انہوں نے 51 میچوں میں 62 شکار کیے، جن میں 52 کیچ اور 10 اسٹمپ شامل ہیں1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے پروفائل کے مطابق ٹیسٹ میچوں کی تعداد اور وکٹوں کے پیچھے شکار، دونوں میں ان کے اعداد ان کے کھیل چھوڑنے کے دو دہائی بعد بھی پاکستانی ریکارڈ تھے2۔
نچلے نمبروں کے بلے باز
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وسیم باری نچلے نمبروں پر ایک قابل بلے باز تھے، اور ان کے اعداد ان کی اصل صلاحیت کی پوری عکاسی نہیں کرتے2۔ ٹیسٹ کرکٹ میں انہوں نے 112 اننگز میں 1366 رنز بنائے، جن میں 6 نصف سنچریاں شامل ہیں1۔
ان کی چند نمایاں اننگز یہ ہیں۔ 8 جولائی 1971ء کو لیڈز میں انہوں نے 247 منٹ کریز پر گزار کر 63 رنز بنائے۔ 22 دسمبر 1972ء کو ایڈیلیڈ میں نویں نمبر پر 10 چوکوں کی مدد سے 72 رنز بنائے۔ 18 فروری 1977ء کو برج ٹاؤن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف وہ گیارہویں نمبر پر بیٹنگ کرنے آئے اور 110 منٹ میں 10 چوکوں کی مدد سے 60 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے1۔
ان کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور 27 اکتوبر 1978ء کو لاہور میں بھارت کے خلاف آیا، جب انہوں نے تیسرے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 85 رنز بنائے، اور یہ میچ پاکستان نے جیتا۔ 14 ستمبر 1983ء کو بنگلور میں انہوں نے 64 رنز کی اننگز کھیلی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف 11 ٹیسٹ میچوں میں ان کی بیٹنگ اوسط 30.85 رہی1۔ دوسری طرف، پروفائل کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ میں ان کے 19 صفر بھی ایک پاکستانی ریکارڈ تھے2۔
کپتانی
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق جب پیکر کے دور میں عالمی کرکٹ ہلچل کا شکار تھی، وسیم باری کو عارضی طور پر کپتان بنایا گیا اور انہوں نے انگلینڈ کے خلاف آگے پیچھے دو مختصر سیریز میں ٹیم کی قیادت کی۔ 1977ء اور 1978ء میں انہوں نے 6 ٹیسٹ اور 5 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی کپتانی کی1۔ پروفائل کے مطابق ہوم سیریز کے تمام میچ ڈرا رہے، جبکہ انگلینڈ کے دورے پر ٹیم 2 ٹیسٹ ہاری اور تیسرا بارش کی وجہ سے ڈرا ہوا2۔
ان کا آخری ٹیسٹ 2 جنوری 1984ء کو سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف شروع ہوا، اور آخری ون ڈے 30 جنوری 1984ء کو ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا ہی کے خلاف تھا1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | |
|---|---|---|
| میچ | 81 | 51 |
| رنز | 1366 | 221 |
| بہترین اسکور | 85 | 34 |
| اوسط (بیٹنگ) | 15.88 | 17 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 0 / 6 | 0 / 0 |
| اسٹرائیک ریٹ | – | 51.27 |
| کیچ / اسٹمپ | 201 / 27 | 52 / 10 |
| وکٹیں | 0 | – |
| بطور کپتان میچ | 6 | 5 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
وسیم باری 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں کی اس پاکستانی ٹیم کا اہم حصہ تھے جس نے، ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق، کئی کامیابیاں حاصل کیں اور اپنے دور کی بہترین ٹیموں میں شمار ہوئی۔ 1997ء میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں لائف اچیومنٹ ایوارڈ دیا۔ کھیل چھوڑنے کے بعد وہ پاکستان کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ بھی رہے2۔
وکٹ کیپر کا کام اکثر اس وقت نظر آتا ہے جب کوئی غلطی ہو۔ وسیم باری کی خوبی یہ تھی کہ ان کے کام پر کم ہی نظر جاتی تھی، کیونکہ گیند عموماً وہیں پہنچتی تھی جہاں اسے پہنچنا چاہیے تھا: ان کے دستانوں میں۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Wasim Bari, Test and ODI batting, bowling and fielding career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43549.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43549.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43549.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43549.html?class=1;template=results;type=fielding ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43549.html?class=2;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43549.html?class=2;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/43549.html?class=2;template=results;type=fielding
- ESPNcricinfo player profile, Wasim Bari (archived copy; profile essay by Agha Akbar): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/43549.html



