ارشمیدس: لیور کا اصول اور پانی کا اچھال
گاڑی کا پہیہ بدلتے وقت جیک کا لمبا دستہ، کنویں کا ڈھینکلی، یا کراچی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہزاروں ٹن وزنی جہاز۔ ان سب کے پیچھے دو سادہ اصول ہیں جو تقریباً سوا دو ہزار سال پہلے سسلی کے…

گاڑی کا پہیہ بدلتے وقت جیک کا لمبا دستہ، کنویں کا ڈھینکلی، یا کراچی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہزاروں ٹن وزنی جہاز۔ ان سب کے پیچھے دو سادہ اصول ہیں جو تقریباً سوا دو ہزار سال پہلے سسلی کے شہر سیراکیوز (Syracuse) کے ایک ریاضی دان نے ثابت کیے۔ ان کا نام ارشمیدس (Archimedes) تھا۔ ایک اصول بتاتا ہے کہ چھوٹی طاقت بڑا بوجھ کیسے اٹھا سکتی ہے، دوسرا یہ کہ پانی ہر ڈوبی ہوئی چیز کو اوپر کی طرف کیوں دھکیلتا ہے۔
سیراکیوز کا عالم
سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے مک ٹیوٹر آرکائیو کے مطابق ارشمیدس 287 قبل مسیح میں سیراکیوز میں پیدا ہوا اور 212 قبل مسیح میں وہیں فوت ہوا۔ اس کا باپ فیدیاس ماہرِ فلکیات تھا، اور یہ بات ہمیں خود ارشمیدس کی ایک کتاب سے معلوم ہوتی ہے۔ غالب امکان ہے کہ جوانی میں اس نے اسکندریہ میں اقلیدس کے جانشینوں سے تعلیم پائی، کیونکہ وہ وہاں کے ریاضی دانوں کو اپنے نتائج بھیجتا رہا۔
قدیم مؤرخ پلوٹارک کے مطابق وہ سیراکیوز کے بادشاہ ہیرون دوم کا دوست اور رشتہ دار تھا۔ اس کی شہرت اپنے زمانے میں بھی بہت تھی، مگر زیادہ تر اس کی بنائی ہوئی مشینوں کی وجہ سے، جو 212 قبل مسیح میں رومی محاصرے کے دوران شہر کے دفاع میں استعمال ہوئیں۔
لیور کا اصول
لیور یعنی ایک سیدھی سلاخ جو کسی ٹیک یا محور پر رکھی ہو، ارشمیدس سے پہلے بھی استعمال ہوتی تھی۔ نیویارک یونیورسٹی کے ریاضی دان کرس رورس کے مطابق ارسطو کے پیروکاروں سے منسوب ایک کتاب میں بھی بتایا گیا تھا کہ محور سے جتنا دور زور لگایا جائے، بوجھ اٹھانا اتنا آسان ہوتا ہے۔
ارشمیدس کا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے اسے جیومیٹری کی زبان میں ایک قانون کی شکل دی۔ اپنی کتاب "سطحوں کا توازن" (On the Equilibrium of Planes) کے پہلے حصے میں اس نے لکھا کہ دو وزن اس وقت توازن میں ہوتے ہیں جب محور سے ان کے فاصلے ان کے وزن کے الٹ تناسب میں ہوں۔ آسان لفظوں میں: اگر ایک وزن دوسرے سے دس گنا بھاری ہے تو ہلکے وزن کو محور سے دس گنا دور رکھ کر دونوں کو برابر کیا جا سکتا ہے۔ اسی کتاب میں اس نے مثلث اور متوازی الاضلاع جیسی اشکال کا مرکزِ ثقل بھی معلوم کیا۔
رورس یہ بھی بتاتے ہیں کہ ماہرین میں اس پر بحث رہی ہے کہ ارشمیدس نے دراصل کیا ثابت کیا اور اس کے ثبوت میں کون سے مفروضے چھپے ہوئے تھے۔
اسی اصول سے ارشمیدس کا مشہور جملہ جڑا ہے، جو تقریباً پانچ صدی بعد اسکندریہ کے پاپس (Pappus) نے نقل کیا: "مجھے کھڑے ہونے کی جگہ دو، میں زمین کو ہلا دوں گا۔" پلوٹارک ایک قصہ بھی بیان کرتا ہے کہ ارشمیدس نے گھرنیوں کے نظام سے، اکیلے، سامان اور مسافروں سے لدا ایک جہاز خشکی پر کھینچ کر دکھایا۔
پانی کا اچھال
دوسری بڑی دریافت ارشمیدس کی کتاب "تیرتے اجسام" (On Floating Bodies) میں ہے۔ مک ٹیوٹر کے مطابق اس کتاب نے مائعات کے سکون یعنی ہائیڈروسٹیٹکس کی بنیاد رکھی۔ برطانوی مؤرخِ ریاضی ٹی ایل ہیتھ کے انگریزی ترجمے کے مطابق اس میں ثابت کیا گیا ہے کہ جو ٹھوس چیز مائع سے ہلکی ہو اور اسے زبردستی ڈبویا جائے، مائع اسے ایک قوت سے اوپر دھکیلتا ہے؛ اور جو چیز مائع سے بھاری ہو وہ تہہ میں بیٹھ جاتی ہے مگر مائع میں اس کا وزن اتنا کم ہو جاتا ہے جتنا اس کے ہٹائے ہوئے مائع کا وزن ہے۔
یہی "اصولِ ارشمیدس" ہے۔ اسی سے سمجھ آتا ہے کہ لوہے کا جہاز کیوں تیرتا ہے: اس کی شکل اتنا پانی ہٹاتی ہے جس کا وزن جہاز کے وزن کے برابر ہو جائے۔ ارشمیدس نے مختلف شکلوں کے تیرتے اجسام کے توازن پر بھی کام کیا۔
سونے کا تاج اور "یوریکا"
اس دریافت سے جڑا قصہ دنیا بھر میں مشہور ہے، مگر یہ ارشمیدس کی اپنی تحریر میں نہیں بلکہ تقریباً دو صدی بعد رومی ماہرِ تعمیرات وٹروویئس (Vitruvius) کی کتاب میں ملتا ہے۔ اس کے مطابق بادشاہ ہیرون کو شک تھا کہ سنار نے تاج کے سونے میں چاندی ملا دی ہے۔ ارشمیدس غسل کے لیے ٹب میں اترا تو دیکھا کہ جتنا جسم ڈوبتا ہے اتنا پانی باہر نکلتا ہے۔ وہ خوشی سے "یوریکا، یوریکا" یعنی "میں نے پا لیا" پکارتا ہوا گھر کی طرف دوڑا۔ پھر اس نے تاج کے برابر وزن کے سونے اور چاندی کے ٹکڑوں سے نکلنے والا پانی ناپ کر ملاوٹ ثابت کر دی۔
رورس کے مطابق قصے میں بیان کیا گیا طریقہ اس دور کے آلات کے لحاظ سے بہت باریک فرق ناپنے کا تقاضا کرتا، اس لیے بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ ارشمیدس نے ترازو اور اچھال کا اصول استعمال کیا ہوگا۔ ہیتھ کی رائے میں "تیرتے اجسام" کا ساتواں مسئلہ ہی اس سوال کا اصل حل بتاتا ہے۔
مٹی ہوئی تحریر سے نئی دریافت
ارشمیدس کی کئی کتابیں صدیوں تک گم رہیں۔ آرکیمیڈیز پیلمپسیسٹ منصوبے کے مطابق تیرہویں صدی کی ایک دعائیہ کتاب کے صفحات کے نیچے، کئی صدی پرانی مٹائی ہوئی تحریریں موجود ہیں، جن میں ارشمیدس کی دو ایسی کتابیں بھی ہیں جو کہیں اور نہیں ملتیں: "طریقہ" (The Method) اور "اسٹومکیون"۔ یہ نسخہ 29 اکتوبر 1998 کو نیلامی میں فروخت ہوا اور پھر امریکہ کے والٹرز آرٹ میوزیم میں رکھا گیا، جہاں جدید عکس بندی سے اس کا متن پڑھا گیا۔
آج کی زندگی میں
لیور کا اصول ہر قینچی، ہتھوڑے کے پنجے، سائیکل کے پیڈل اور ہینڈ پمپ کے دستے میں کام کر رہا ہے۔ اچھال کا اصول جہاز، کشتی اور آبدوز کے ڈیزائن کی بنیاد ہے، اور گوادر سے کراچی تک ہماری ساحلی زندگی کی ہر کشتی اسی پر تیرتی ہے۔ ارشمیدس نے دکھایا کہ روزمرہ کی مشینوں کے پیچھے ایسے قانون ہیں جنہیں ریاضی سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ یہی سوچ بعد کی ساری طبیعیات کی بنیاد بنی۔
ماخذ
- J. J. O'Connor and E. F. Robertson, "Archimedes of Syracuse", MacTutor History of Mathematics Archive, University of St Andrews (1999). https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Archimedes/ — born 287 BC, died 212 BC, Syracuse; father Phidias the astronomer; probable study in Alexandria; relation of Hieron II (Plutarch); war machines in the siege of 212 BC; Plutarch's ship story; On plane equilibriums (centres of gravity) and On floating bodies (foundations of hydrostatics, Archimedes' principle); The Method found by Heiberg in 1906.
- Chris Rorres, "Archimedes' Lever: Introduction" and "Law of the Lever", Archimedes Home Page, New York University. https://math.nyu.edu/~crorres/Archimedes/Lever/LeverIntro.html and https://math.nyu.edu/~crorres/Archimedes/Lever/LeverLaw.html — Pappus' quotation (Collection VIII, c. AD 340); the law as stated in On the Equilibrium of Planes I, Props. 6–7; debate over the proof; earlier Peripatetic Mechanica.
- Chris Rorres, "The Golden Crown: Introduction", Archimedes Home Page, NYU. https://math.nyu.edu/~crorres/Archimedes/Crown/CrownIntro.html — Vitruvius' story and why the overflow method would have been too imprecise.
- Vitruvius, The Ten Books on Architecture, Book IX, Introduction §9–12, tr. Morris Hicky Morgan (1914), Project Gutenberg eBook #20239. https://www.gutenberg.org/cache/epub/20239/pg20239.txt — the crown of Hiero, the bath, "Eureka", and the overflow test.
- T. L. Heath (ed. and tr.), The Works of Archimedes, Cambridge University Press, 1897, "On Floating Bodies" I, Props. 6–7 and note, archive.org scan. https://archive.org/details/worksofarchimede029517mbp — upward force on an immersed body lighter than the fluid; a heavier body lighter in the fluid by the weight of fluid displaced; Heath's note linking Prop. 7 to the crown.
- The Archimedes Palimpsest Project (Walters Art Museum). https://www.archimedespalimpsest.org/ — 13th-century prayer book over erased texts including The Method and Stomachion, found nowhere else; sold at auction 29 October 1998; deposited at the Walters Art Museum.







