الجبرا: الخوارزمی اور تکمیل و توازن کا حساب
کوئٹہ کے کسی بازار میں ایک دکاندار سوچتا ہے: "اگر تین تھان اور دو سو روپے مل کر اتنی رقم بنتی ہے تو ایک تھان کی قیمت کیا ہوئی؟" جب ہم کسی نامعلوم عدد کو ایک نام دے کر حساب…

کوئٹہ کے کسی بازار میں ایک دکاندار سوچتا ہے: "اگر تین تھان اور دو سو روپے مل کر اتنی رقم بنتی ہے تو ایک تھان کی قیمت کیا ہوئی؟" جب ہم کسی نامعلوم عدد کو ایک نام دے کر حساب سے اسے ڈھونڈ نکالتے ہیں تو ہم الجبرا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ لفظ تقریباً بارہ سو سال پرانی ایک عربی کتاب کے نام سے آیا ہے، جو بغداد میں محمد بن موسیٰ الخوارزمی (al-Khwarizmi) نے لکھی تھی۔
بغداد کا ریاضی دان
الخوارزمی کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلوم ہے۔ سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے مک ٹیوٹر آرکائیو کے مطابق وہ تقریباً 780 عیسوی میں پیدا ہوئے اور تقریباً 850 میں فوت ہوئے، جبکہ سائنسی سوانح کی لغت (Dictionary of Scientific Biography) میں مؤرخ جی جے ٹومر صرف اتنا لکھتے ہیں کہ وہ 800 سے پہلے پیدا ہوئے اور 847 کے بعد تک زندہ رہے۔ ان کے نام کا حصہ "خوارزمی" وسطی ایشیا کے علاقے خوارزم کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو بحیرۂ ارال کے جنوب میں آج کے خیوا کے آس پاس کا علاقہ ہے۔
وہ بغداد کے "بیت الحکمہ" سے وابستہ تھے، جو ٹومر کے مطابق سائنس دانوں کی ایک طرح کی اکادمی تھی۔ انہوں نے فلکیاتی جدولیں، جغرافیے کی ایک کتاب اور ہندی اعداد پر ایک رسالہ بھی لکھا، اور اپنی الجبرا کی کتاب اس وقت کے حکمران المامون کے نام معنون کی، جن کا دور 813 سے 833 عیسوی تک رہا۔ امریکی مؤرخِ ریاضی لوئس کارپنسکی کے اندازے میں الخوارزمی کے علمی کام کا عروج تقریباً 825 عیسوی کے آس پاس تھا۔
کتاب کا نام اور مقصد
ٹومر کے مطابق کتاب کا پورا نام "الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلہ" ہے، یعنی "تکمیل اور توازن کے ذریعے حساب کی مختصر کتاب"۔ مک ٹیوٹر کے مطابق اسے الجبرا پر لکھی جانے والی پہلی کتاب سمجھا جا سکتا ہے۔
الخوارزمی نے اپنے دیباچے میں صاف لکھا کہ یہ کتاب عام لوگوں کے کام کی چیز ہے۔ 1831 میں اس کا انگریزی ترجمہ کرنے والے فریڈرک روزن کے مطابق مصنف نے حساب کے وہ حصے جمع کیے جو "سب سے آسان اور سب سے مفید" ہیں، اور جن کی لوگوں کو بار بار ضرورت پڑتی ہے: تجارت اور لین دین، جائیداد کی تقسیم، مقدمات، زمین کی پیمائش، نہروں کی کھدائی اور جیومیٹری کے حساب۔
الجبر اور المقابلہ کیا ہیں
کتاب کا نام دو عملوں پر رکھا گیا ہے۔ ٹومر کے مطابق "الجبر" کا مطلب ہے بحالی یا تکمیل، یعنی کسی مساوات میں سے منفی مقدار کو ہٹا کر اسے دوسری طرف جمع کر دینا۔ الخوارزمی کی اپنی مثال میں ایک مربع، چالیس جذر میں سے چار مربع گھٹانے کے برابر ہے۔ تکمیل کے بعد یہ بنتا ہے: پانچ مربع برابر ہیں چالیس جذر کے۔
"المقابلہ" کا مطلب ہے توازن، یعنی دونوں طرف موجود ایک جیسی مثبت مقداروں کو کم کر دینا۔ مثلاً پچاس اور ایک مربع، انتیس اور دس جذر کے برابر ہوں تو دونوں طرف سے انتیس کم کر کے بچتا ہے: اکیس اور ایک مربع برابر ہیں دس جذر کے۔
الخوارزمی کوئی علامت استعمال نہیں کرتے تھے، اعداد کے لیے بھی نہیں۔ ٹومر کے مطابق وہ سب کچھ لفظوں میں لکھتے تھے: نامعلوم کو "شے" کہتے، اس کے مربع کو "مال"، پہلی طاقت کو "جذر"، اور اکائی کو "درہم"، جو ایک سکے کا نام تھا۔ مک ٹیوٹر کے مطابق انہوں نے تمام مسائل کو چھ معیاری شکلوں میں بانٹا۔ ان میں سب سے مشہور مثال یہ ہے: "ایک مال اور دس جذر، انتالیس درہم کے برابر ہیں۔" جواب ہے تین، کیونکہ تین کا مربع نو، اور دس گنا تین تیس، مل کر انتالیس بنتے ہیں۔
لاطینی ترجمہ اور یورپ
یہ کتاب بارہویں صدی میں یورپ پہنچی۔ کارپنسکی کے مطابق انگلستان کے رابرٹ آف چیسٹر (Robert of Chester) نے اسپین کے شہر سیگوویا میں 1145 عیسوی میں اس کا لاطینی ترجمہ کیا اور اسے "لیبر الجبرے ایت المقابلہ" (Liber algebrae et almucabola) کا نام دیا۔ ٹومر کے مطابق اسی صدی میں جیرارڈ آف کریمونا (Gerard of Cremona) نے بھی اس کا ترجمہ کیا، اور یہی کتاب قرونِ وسطیٰ کے یورپی الجبرا پر سب سے بڑا اثر بنی۔
کارپنسکی یہ دلچسپ بات بھی لکھتے ہیں کہ عربی لفظ "جبر" کی جڑ کا مطلب ہے جوڑنا یا بحال کرنا۔ اسی لیے اسپین اور پرتگال میں جراح کو "الجبرسٹا" کہا جاتا تھا۔
الگورتھم کا لفظ
الخوارزمی کا دوسرا بڑا کام ہندی اعداد پر رسالہ تھا، جس میں ایک سے نو تک اور صفر کے ساتھ مقامی قیمت کا نظام سمجھایا گیا۔ ٹومر کے مطابق اس کا عربی متن ضائع ہو چکا، صرف لاطینی ترجمہ باقی ہے۔ کارپنسکی کے مطابق اس ترجمے کا پہلا جملہ ہے "دیکست الگورتمی"، یعنی "الگورتمی کہتا ہے"، جہاں مصنف کا نام لاطینی شکل میں آیا ہے۔
یہی نام آگے چل کر نئے حساب کا نام بن گیا۔ ٹومر لکھتے ہیں کہ ہندی اعداد پر ہر لاطینی کتاب کو "الگورزمس" کہا جانے لگا، اور اسی سے انگریزی کا "الگورزم" اور پھر "الگورتھم" بنا۔ کارپنسکی کے مطابق ہسپانوی زبان میں اعداد کے لیے "گوارسمو" کا لفظ استعمال ہوتا رہا ہے، جو خوارزم کے نام کی بگڑی شکل ہے۔ یوں ایک ہی شخص سے دو الفاظ نکلے: الجبرا اور الگورتھم۔
آج کا الجبرا
الخوارزمی کی کتاب میں آج کی طرح x اور y نہیں تھے، نہ منفی اعداد۔ پھر بھی ان کا طریقہ وہی ہے جو آج کی کاپی میں ملتا ہے: نامعلوم کو نام دو، مساوات بناؤ، منفی کو دوسری طرف لے جاؤ، دونوں طرف برابر کرو، اور جواب نکالو۔ پٹواری کی پیمائش ہو یا موبائل فون کا پروگرام، سب میں اسی منطق کی جھلک ہے۔ سب سے بڑھ کر الخوارزمی نے یہ دکھایا کہ مشکل حساب کو چند صاف قاعدوں میں باندھ کر ہر شخص کے لیے آسان بنایا جا سکتا ہے۔
ماخذ
- G. J. Toomer, "Al-Khwārizmī, Abū Jaʿfar Muḥammad ibn Mūsā", Complete Dictionary of Scientific Biography (Charles Scribner's Sons, 2008), PDF at MacTutor. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/DSB/Al-Khwarizmi.pdf — born before 800, died after 847; Khwarizm south of the Aral Sea; House of Wisdom; algebra dedicated to al-Ma'mun (r. 813-833); full title and English rendering; al-jabr and al-muqabala with the two worked examples; no symbols, shay', mal, jidhr, dirham; arithmetic on Hindu numerals lost in Arabic; Latin translations by Robert of Chester and Gerard of Cremona; Latin cossa and census; algorismus, algorism, algorithm.
- J. J. O'Connor and E. F. Robertson, "Abu Ja'far Muhammad ibn Musa Al-Khwarizmi", MacTutor History of Mathematics Archive, University of St Andrews. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Al-Khwarizmi/ — c. 780-c. 850; first book on algebra; six standard forms incl. x² + 10x = 39; practical aims (trade, land measurement, canals); the word algorithm derives from his name.
- Louis Charles Karpinski, Robert of Chester's Latin Translation of the Algebra of al-Khowarizmi, University of Michigan Studies, Humanistic Series XI, New York: Macmillan, 1915, archive.org scan. https://archive.org/details/robertofchesters00khuw — translation made at Segovia in 1183 of the Spanish Era (1145 AD); Liber algebrae et almucabola; height of activity about 825; born in Khowarizm (Khiva) per the Fihrist; Rosen 1831 from the unique Bodleian manuscript; Rosen's English of the preface (inheritance, legacies, partition, lawsuits, trade, measuring lands, digging canals); mensuration section about 16 pages; 'Dixit algoritmi'; Spanish guarismo; jbr 'to restore', algebrista for a surgeon in Spain and Portugal.


