اصطرلاب: ہاتھ میں سما جانے والا آسمان
آج ہم وقت دیکھنے کے لیے موبائل فون اٹھاتے ہیں اور اپنی جگہ معلوم کرنے کے لیے جی پی ایس کھولتے ہیں۔ ہزار سال پہلے ایک ماہرِ فلکیات یہی دونوں کام پیتل کی ایک گول تختی سے کرتا تھا جو…

آج ہم وقت دیکھنے کے لیے موبائل فون اٹھاتے ہیں اور اپنی جگہ معلوم کرنے کے لیے جی پی ایس کھولتے ہیں۔ ہزار سال پہلے ایک ماہرِ فلکیات یہی دونوں کام پیتل کی ایک گول تختی سے کرتا تھا جو ہتھیلی پر سما جاتی تھی۔ اس کا نام اصطرلاب (astrolabe) تھا۔ یہ یونان میں ایجاد ہوا، مگر آٹھویں سے گیارہویں صدی عیسوی تک بغداد، ایران اور اندلس کے ماہرین نے اسے وہ شکل دی جس میں یہ صدیوں تک ماہرینِ فلکیات کا سب سے بھروسے مند ساتھی رہا۔
یونانی ایجاد، نیا گھر
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اصطرلاب غالباً دوسری صدی قبل مسیح کے یونانی ماہرِ فلکیات ہپارکس (Hipparchus) کی ایجاد ہے۔ بعد میں بطلیموس (Ptolemy) نے آسمان کے کرے کو ایک سیدھی سطح پر اتارنے کا وہ طریقہ بیان کیا جس پر یہ آلہ قائم ہے۔ چھٹی صدی عیسوی میں یوحنا فیلوپونس (John Philoponus) نے اس پر ایک رسالہ لکھا۔
سائنسی سوانح کی لغت میں مؤرخ جی جے ٹومر کے مطابق عربی میں لکھے جانے سے پہلے اس پر سریانی زبان میں بھی رسالے موجود تھے۔ یعنی یہ علم کئی زبانوں سے ہوتا ہوا بغداد پہنچا۔
اصطرلاب کیسے کام کرتا ہے
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اصطرلاب کا بنیادی حصہ ایک گہری پیتل کی تھالی ہوتی ہے جسے "ام" (mater) کہتے ہیں۔ اس میں ایک تختی رکھی جاتی ہے جس پر کسی خاص عرض بلد کے لیے آسمان کے خطوط کندہ ہوتے ہیں۔ عمدہ اصطرلابوں کے ساتھ مختلف عرض بلد کے لیے کئی تختیاں ہوتی تھیں۔ اس کے اوپر جالی دار گھومنے والا حصہ "عنکبوت" (rete) ہوتا ہے، جس کی نوکیں ستاروں کی جگہ بتاتی ہیں اور جو ایک مرکزی کیل پر گھومتا ہے۔ پشت پر ایک گھومتی ہوئی پٹی "عضادہ" (alidade) لگی ہوتی ہے جس سے سورج یا ستارے کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
استعمال کا اصول یہ تھا کہ عضادہ سے سورج یا کسی ستارے کی اونچائی ناپی جائے اور پھر عنکبوت کو گھما کر آلے کو اسی لمحے کے آسمان کے مطابق کر لیا جائے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اصطرلاب سے وقت، سورج اور ستاروں کی اونچائی اور کسی جگہ کا عرض بلد معلوم کیا جاتا تھا۔ اس سے پہاڑ جیسی اونچی چیزوں کی بلندی بھی ناپی جاتی تھی، اس لیے یہ زمین کی پیمائش کرنے والوں کے بھی کام آتا تھا۔
بغداد کے پہلے بنانے والے
ماہرینِ فلکیات کی سوانحی انسائیکلوپیڈیا (Biographical Encyclopedia of Astronomers) میں کم پلوفکر لکھتی ہیں کہ آٹھویں صدی کے ماہرِ فلکیات الفزاری (al-Fazari) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مسلم دنیا میں سیدھا اصطرلاب بنانے والے پہلے شخص تھے۔ وہ خلیفہ المنصور (754 تا 775) کے دربار سے وابستہ تھے۔ اصطرلاب کے استعمال پر ان کی کتاب کا صرف نام باقی ہے۔
نویں صدی میں یہ کام پھیل گیا۔ ٹومر کے مطابق الجبرا کے مصنف الخوارزمی نے بھی اصطرلاب پر دو کتابیں لکھیں، ایک اس کی تیاری پر اور ایک اس کے استعمال پر۔
اسی انسائیکلوپیڈیا میں مونیکا ریئس کے مطابق آج دنیا کا سب سے پرانا محفوظ اصطرلاب نسطولس (Nastulus) نامی کاریگر کا بنایا ہوا ہے۔ اس پر 315 ہجری کی تاریخ ہے، جو 927 یا 928 عیسوی بنتی ہے، اور یہ کویت کے اسلامی فنون کے عجائب گھر میں ہے۔
الصوفی کی ضخیم کتاب
دسویں صدی میں ایران کے عبدالرحمٰن الصوفی (al-Sufi) نے اس آلے پر غیر معمولی تفصیل سے لکھا۔ اسی انسائیکلوپیڈیا میں پال کونِچ کے مطابق وہ 903 عیسوی میں رے میں پیدا ہوئے اور 986 میں فوت ہوئے۔ ان کی سب سے مشہور تصنیف تقریباً 964 کی ستاروں کے جھرمٹوں پر کتاب ہے۔
برلن کے میکس پلانک ادارے کے ڈیٹا بیس (ISMI) کے مطابق الصوفی نے اصطرلاب کے استعمال پر ایک رسالہ لکھا جس کا ایک نسخہ سولہ حصوں اور 1,760 ابواب پر مشتمل ہے اور اس وقت کے حکمران عضد الدولہ کے نام معنون ہے۔ اسی رسالے کا ایک مختصر نسخہ 170 ابواب کا بھی ہے۔
ہر عرض بلد کے لیے ایک تختی
عام اصطرلاب کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ ہر عرض بلد کے لیے الگ تختی چاہیے تھی۔ گیارہویں صدی میں اندلس کے شہر طلیطلہ (Toledo) کے ایک کاریگر نے اس کا حل نکالا۔ روزر پوئگ کے مطابق ابو اسحاق ابراہیم الزرقالی (al-Zarqali) ایک مشہور آلات ساز تھے جنہوں نے فلکیات خود سیکھی۔ انہوں نے ایک ایسی تختی بنائی جس کا نام ہی "الصفیحہ المشترکہ لجمیع العروض" تھا، یعنی "تمام عرض بلد کے لیے مشترک تختی"۔ ایسا ایک آلہ انہوں نے 1048 یا 1049 عیسوی میں طلیطلہ کے حکمران کے لیے تیار کیا۔ ان کا انتقال 15 اکتوبر 1100 کو قرطبہ میں ہوا، اور ان کے آلات پر لکھے رسالوں کے لاطینی اور عبرانی ترجمے ہوئے۔
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اصطرلاب کا علم تقریباً 1000 عیسوی سے اندلس کے راستے یورپ پہنچا۔ انگریزی شاعر جیفری چاسر (Geoffrey Chaucer) نے تقریباً 1391 میں اپنے بیٹے لیوس کے لیے اصطرلاب کے استعمال پر ایک رسالہ لکھا۔
لاہور کے اصطرلاب ساز
برصغیر میں بھی اس فن کے بڑے کاریگر پیدا ہوئے۔ لندن کے رائل میوزیمز گرینچ میں 1641 اور 1642 عیسوی کے درمیان بنا ہوا ایک اصطرلاب محفوظ ہے، جو لاہور کے کاریگر محمد مقیم کا ہے۔ عجائب گھر کے مطابق وہ مشہور اصطرلاب ساز الٰہ داد کے پوتے تھے اور سترہویں صدی کے لاہور کے بہترین آلات سازوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اب تک ان کے بنائے ہوئے 37 اصطرلاب ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
آج اصطرلاب عجائب گھروں کی زینت ہے، مگر اس کا سبق پرانا نہیں ہوا: آسمان کو غور سے ناپا جائے تو وہ وقت بھی بتاتا ہے اور جگہ بھی۔ کوئٹہ کے صاف آسمان تلے کوئی طالب علم اگر گتے اور دھاگے سے ایک سادہ آلہ بنا کر کسی ستارے کی اونچائی ناپے تو وہ اسی ہزار سالہ روایت کو دہرا رہا ہوگا۔
ماخذ
- Mark Cartwright, "Astrolabe", World History Encyclopedia (31 August 2023). https://www.worldhistory.org/astrolabe/ — possibly invented by Hipparchus; Ptolemy's Planisphaerium; John Philoponus (6th century) using Theon; mater, latitude plates, rete, alidade; uses: time, altitude of the sun and stars, latitude, heights of mountains; transfer to Europe through Spain from about 1000 CE; Chaucer's treatise c. 1391 for his son Lewis.
- G. J. Toomer, "Al-Khwārizmī", Complete Dictionary of Scientific Biography (2008), PDF at MacTutor. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/DSB/Al-Khwarizmi.pdf — astrolabe a Greek invention; earlier treatises by Severus Sebokht (Syriac, 7th century) and Masha'allah (Arabic, late 8th century, only in Latin); al-Khwarizmi's books on the construction and the operation of the astrolabe; extract on the sun's altitude and terrestrial latitude.
- Kim Plofker, "Fazārī: Muḥammad ibn Ibrāhīm al-Fazārī", in T. Hockey et al. (eds.), The Biographical Encyclopedia of Astronomers, Springer (2007), McGill RASI copy. https://islamsci.mcgill.ca/RASI/BEA/Fazari_BEA.htm — said to have been the first Muslim to construct a plane astrolabe; court of al-Mansur (754-775); book on the use of the plane astrolabe known only by title; father/son ambiguity, now assumed one individual.
- Mònica Rius, "Nasṭūlus", The Biographical Encyclopedia of Astronomers (2007), pp. 822-823, McGill RASI copy. https://islamsci.mcgill.ca/RASI/BEA/Nastulus_BEA.htm — astrolabe dated 315 AH (927/928), oldest surviving, Kuwait; undated mater c. 925 in the Museum of Islamic Art, Cairo, with the earliest instrument gazetteer.
- Paul Kunitzsch, "Ṣūfī: Abū al-Ḥusayn ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿUmar al-Ṣūfī", The Biographical Encyclopedia of Astronomers (2007), McGill RASI copy. https://islamsci.mcgill.ca/RASI/BEA/Sufi_BEA.htm — born in Rayy 903, died 986; Book on the Constellations c. 964.
- Islamic Scientific Manuscripts Initiative (ISMI), Max Planck Institute for the History of Science, "Risālah fī al-ʿamal bi-al-asṭurlāb (1760 chapters)". https://ismi.mpiwg-berlin.mpg.de/text/364692 — al-Sufi's astrolabe treatise; version in 16 books and 1,760 chapters dedicated to ʿAḍud al-Dawla (r. 949-983); related version of 170 chapters.
- Roser Puig, "Zarqālī: Abū Isḥāq Ibrāhīm ibn Yaḥyā al-Naqqāsh al-Tujībī al-Zarqālī", The Biographical Encyclopedia of Astronomers (2007), pp. 1258-1260, McGill RASI copy. https://islamsci.mcgill.ca/RASI/BEA/Zarqali_BEA.htm — instrument maker in Toledo, self-taught in astronomy; al-ṣafīḥa al-mushtaraka li-jamīʿ al-ʿurūḍ; instrument made for al-Ma'mun of Toledo in 1048/1049; died Córdoba 15 October 1100; Latin and Hebrew translations of the shakkāziyya treatise.
- Royal Museums Greenwich, "Astrolabe" by Muhammad Muqim. https://www.rmg.co.uk/collections/objects/rmgc-object-10741 — made 1641-1642 in Lahore; grandson of Ilahdad; one of the best instrument makers of 17th-century Lahore; 37 astrolabes by him recorded.







