یونیورسٹی آف لورالائی کی فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کا نظرثانی شدہ بجٹ منظور کر لیا

لورالائی: یونیورسٹی آف لورالائی کی فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی (F&PC) کا 11واں اہم اجلاس 27 اگست 2026 کو یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ ہال میں وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں یونیورسٹی کے مالی امور، بجٹ اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے متعلق مختلف اہم معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران خزانچی ناصر ریحان نے مالی سال 2025-26 کے حقیقی اخراجات اور مالی سال 2026-27 کے نظرثانی شدہ بجٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کے اراکین نے یونیورسٹی کی مالی ضروریات، جاری اخراجات اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار وسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا۔
طویل مشاورت اور مختلف مالی امور کے جائزے کے بعد فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی نے مجوزہ بجٹ کی متفقہ طور پر منظوری دیتے ہوئے اسے حتمی منظوری کے لیے یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ اور سینیٹ کو ارسال کرنے کی سفارش کر دی۔
اجلاس کے شرکا
اجلاس میں حکومت بلوچستان کے محکمہ خزانہ، چانسلر آفس اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے نمائندوں سمیت یونیورسٹی کے سینئر افسران، فیکلٹی ممبران اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ شرکا میں وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ بطور چیئرمین، رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عادل زمان کاکڑ، خزانچی ناصر ریحان، ڈین ڈاکٹر عبدالصمد، ڈاکٹر خالد خان، محکمہ خزانہ حکومت بلوچستان کے نمائندے بشیر احمد، چانسلر آفس کے نمائندے حافظ نور، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر بجٹ سہیل ہمایوں، ڈائریکٹر ORIC اسلم زیب، ڈاکٹر نقیب اللہ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شاہ جی، شعبہ حیوانیات کی لیکچرار محترمہ سلمیٰ درانی اور اکاؤنٹس آفیسر اسد مغل سمیت دیگر اراکین شامل تھے۔
شرکا نے یونیورسٹی میں مضبوط مالی منصوبہ بندی، شفافیت، مؤثر ادارہ جاتی نظم و نسق اور دستیاب وسائل کے بہترین استعمال کی ضرورت پر زور دیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ یونیورسٹی آف لورالائی کی پائیدار ترقی، تعلیمی معیار کی بہتری اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی معاملات کو مربوط اور مؤثر انداز میں چلایا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر اتفاق کیا گیا کہ بہتر مالی نظم و ضبط اور جامع منصوبہ بندی کے ذریعے یونیورسٹی آف لورالائی کو ایک مضبوط، فعال اور جدید اعلیٰ تعلیمی ادارے کے طور پر مزید ترقی دی جائے گی تاکہ خطے کے طلبہ کو معیاری اعلیٰ تعلیم اور بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











