شاہیں
اقبال کی شاعری میں شاہین (باز کی قسم کا ایک پرندہ) خوددار، آزاد اور محنتی انسان کی علامت ہے۔ «بالِ جبریل» (1935ء) کی اس مختصر نظم میں شاہین خود اپنا تعارف کراتا ہے: وہ آبادیوں سے دور بیابان میں رہتا…

علامہ محمد اقبال · بالِ جبریل
پس منظر
اقبال کی شاعری میں شاہین (باز کی قسم کا ایک پرندہ) خوددار، آزاد اور محنتی انسان کی علامت ہے۔ «بالِ جبریل» (1935ء) کی اس مختصر نظم میں شاہین خود اپنا تعارف کراتا ہے: وہ آبادیوں سے دور بیابان میں رہتا ہے، دوسروں کا شکار نہیں کھاتا اور آشیانہ نہیں بناتا123۔
کلام
کیا میں نے اس خاک داں سے کناراجہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ
بیاباں کی خلوت خوش آتی ہے مجھ کوازل سے ہے فطرت مری راہبانہ
نہ باد بہاری، نہ گلچیں، نہ بلبلنہ بیماری نغمہ عاشقانہ
خیابانیوں سے ہے پرہیز لازمادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ
ہوائے بیاباں سے ہوتی ہے کاریجواں مرد کی ضربت غازیانہ
حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میںکہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنالہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورب، یہ پچھم چکوروں کی دنیامرا نیلگوں آسماں بیکرانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میںکہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
مشکل الفاظ
- خاک داں: مٹی کا گھر، یعنی دنیا
- آب و دانہ: پانی اور دانہ، روزی
- خلوت: تنہائی
- راہبانہ: راہبوں جیسی، دنیا سے الگ
- بادِ بہاری: بہار کی ہوا
- گلچیں: پھول توڑنے والا
- خیابانی: باغوں میں رہنے والے
- کاری: گہری، اثر کرنے والی
- ضربتِ غازیانہ: غازیوں جیسی چوٹ
- حمام و کبوتر: کبوتر اور فاختائیں (شکار)
- زاہدانہ: پرہیزگاروں جیسی
- پورب، پچھم: مشرق، مغرب
- چکور: ایک پہاڑی پرندہ
- نیلگوں: نیلا
- بیکرانہ: جس کا کنارہ نہ ہو
- درویش: فقیر، جو دنیا کی پروا نہ کرے
ماخذ
- Rekhta, «شاہیں», Allama Iqbal: text, with note "(بالِ جبریل)". https://www.rekhta.org/nazms/shaahiin-allama-iqbal-nazms-150?lang=ur
- International Iqbal Society, Kulliyat-e-Iqbal (Urdu), Bal-e-Jibril, Manzumat, «شاہیں»: text used for comparison. https://iqbal.com.pk/poetical-works/906-poetical-works/kuliyat-e-iqbal-urdu/bal-e-jibril/bal-e-jibril-manzomaat/695-shaheen.html
- International Iqbal Society, "Time Line": "1935: Published Bal-e-Jibril in Urdu". https://iqbal.com.pk/iqbal/time-line.html







