جگر مرادآبادی: مشاعرے کا بادشاہ
بیسویں صدی کے وسط میں اگر کسی شہر میں اعلان ہوتا کہ آج کے مشاعرے میں جگر صاحب آ رہے ہیں تو پنڈال میں جگہ نہ رہتی۔ ایک دبلا پتلا، بکھرے بالوں والا آدمی مائیک کے سامنے آتا، آنکھیں بند…

بیسویں صدی کے وسط میں اگر کسی شہر میں اعلان ہوتا کہ آج کے مشاعرے میں جگر صاحب آ رہے ہیں تو پنڈال میں جگہ نہ رہتی۔ ایک دبلا پتلا، بکھرے بالوں والا آدمی مائیک کے سامنے آتا، آنکھیں بند کرتا اور ترنم سے غزل شروع کرتا، اور ہزاروں کا مجمع سانس روک کر سنتا۔ ریختہ کے مطابق جگر کو اپنے زمانے میں جو شہرت ملی اس کی مثال ملنا مشکل ہے؛ لوگ ان کے رنگِ کلام ہی کی نہیں، ان کے ترنم کی بھی نقل کرتے تھے۔ ان کا یہ شعر آج بھی سب سے زیادہ دہرائے جانے والے اشعار میں ہے:
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجےاک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
(جگر مرادآبادی، بحوالہ ریختہ)
زندگی اور زمانہ
ریختہ کے مطابق جگر کا نام علی سکندر تھا اور وہ 6 اپریل 1890ء کو مرادآباد میں پیدا ہوئے۔ شاعری انہیں ورثے میں ملی: والد مولوی علی نظر اور چچا مولوی علی ظفر دونوں شاعر تھے، اور والد کا مجموعہ "باغِ نظر" کے نام سے ملتا ہے۔ ابتدائی تعلیم گھر اور مکتب میں ہوئی، پھر انگریزی پڑھنے کے لیے چچا کے پاس لکھنؤ بھیجے گئے، مگر انگریزی تعلیم میں دل نہ لگا اور نویں جماعت سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اسی زمانے میں والد کا انتقال ہو گیا۔
نوجوانی میں جگر آگرہ میں چشمے بنانے والی ایک کمپنی کے سفری ایجنٹ بن گئے۔ شہر شہر گھومنا ان کا کام تھا، اور انہی سفروں میں ان کی شاعری پروان چڑھی۔
اسی زمانے میں وہ گونڈہ پہنچے جہاں ان کی ملاقات اپنے زمانے کے بڑے غزل گو اصغر گونڈوی سے ہوئی۔ اصغر نے ان کی صلاحیت پہچانی اور ان کی سرپرستی کی، اور گونڈہ ہی آگے چل کر جگر کا شہر بنا۔
جگر صاف گو اور بے خوف آدمی تھے۔ ریختہ کے مطابق لکھنؤ میں جنگی فنڈ کے ایک مشاعرے میں، جس کی صدارت ایک انگریز گورنر کر رہا تھا، انہوں نے اپنی نظم "قحطِ بنگال" سنا کر سنسنی پھیلا دی۔ کئی ریاستوں کے حکمران انہیں اپنے دربار سے وابستہ کرنا چاہتے تھے مگر انہوں نے ہمیشہ انکار کیا۔ آخری برسوں میں وہ بہت مذہبی ہو گئے اور 1953ء میں حج کیا۔ صحت کمزور ہو چکی تھی اور دل کے کئی دورے پڑے۔ 1958ء میں ان کے مجموعے "آتشِ گل" پر انہیں ساہتیہ اکادمی کا ایوارڈ ملا، اور 9 ستمبر 1960ء کو گونڈہ میں ان کا انتقال ہوا۔
اسلوب
ریختہ کے تعارف کے مطابق جگر کی غزل پرانے تغزل اور بیسویں صدی کی رنگینی کا امتزاج ہے، اور ان کی زندگی اور شاعری میں مکمل مطابقت ہے۔ وہ اخلاق کا درس نہیں دیتے، مگر ان کی شاعری کا اخلاقی معیار بلند ہے۔ ان کے نزدیک حسن اور عشق ایک دوسرے کا عکس ہیں۔ ان کے کلام میں بے ساختگی اور سرمستی ہے، اور وہ چھوٹی چھوٹی فنی پابندیوں کے لیے روانی اور نغمگی کو قربان نہیں کرتے۔
جگر کی غزل ترنم کے لیے بنی ہے؛ ان کے مصرعے پڑھتے ہوئے بھی لگتا ہے کہ کوئی گا رہا ہے۔ ان کی ایک مشہور غزل میں عاشق منزل پر پہنچ کر بھی چلتا رہتا ہے، کیونکہ عشق کی کوئی آخری منزل نہیں۔
ان کی شاعری صرف عشق تک محدود نہیں؛ اس میں اپنے زمانے کی ہلچل کی گونج بھی ہے، مگر سیاست کے بجائے انسانیت کی زبان میں۔ ایک غزل میں وہ صاف کہتے ہیں کہ سیاست کا فرض سیاست دان جانیں، ان کا پیغام محبت ہے اور وہ جہاں تک پہنچے۔
کلام کے رنگ
جگر کے مشہور اشعار میں خودداری کا یہ اعلان بھی ہے کہ زمانہ انسان کو مٹا نہیں سکتا، کیونکہ زمانہ انسان سے بنتا ہے۔ ایک سادہ سی غزل میں وہ کہتے ہیں کہ لوگ ایک دوسرے سے ملتے تو رہتے ہیں مگر دل کسی کسی سے ملتا ہے، اور یہ کہ محبوب ایسی سادگی سے ملتا ہے کہ اس کے سارے ستم بھول جاتے ہیں۔
ایک اور غزل میں وہ محبت کے ایک لفظ کو پوری داستان کہتے ہیں: سمٹ جائے تو عاشق کا دل، پھیل جائے تو سارا زمانہ۔ اسی غزل کے مقطع میں شاعری کے فن پر ان کا اپنا بیان ہے کہ آنکھوں میں آنسو تو بہت ہیں، مگر جو آنسو شعر میں ڈھل جائے وہ موتی ہے۔
ان کے ہاں امید کا رنگ بھی ہے: جو لوگ طوفانوں میں پروان چڑھتے ہیں وہی دنیا بدلتے ہیں۔ اور دوسروں کو حقیر سمجھنے کے خلاف ایک نرم سی تنبیہ بھی، کہ زاہد گناہ گار کے دل سے دامن بچا کر نہ گزرے، کیا خبر اس کی جنت وہیں ہو۔
جگر کا کلام ابھی کاپی رائٹ میں ہے، اس لیے یہاں ان کے اشعار کا مفہوم دیا گیا ہے؛ پورا متن ریختہ پر ان کی غزلوں کے صفحات پر پڑھا جا سکتا ہے (نیچے ماخذ میں)۔
اثر اور یادگار
حسرت، فانی اور اصغر کے ساتھ جگر اس نسل میں تھے جس نے بیسویں صدی میں غزل کو نئی زندگی دی، اور ان میں جگر نے غزل کو سب سے زیادہ عوام تک پہنچایا۔ ریختہ کے تعارف کے مطابق ان کی شاعری جب سامنے آئی تو "سارے ملک کی شاعری کا رنگ ہی بدل گیا"، اور ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے تغزل کو کمال تک پہنچا دیا۔ ان کے شاگردوں میں راز مرادآبادی کا نام ریختہ نے درج کیا ہے۔
قارئین سے: جگر کا کون سا شعر آپ نے کسی مشاعرے یا محفل میں سنا اور یاد رہ گیا؟ ہمیں لکھ کر بھیجیے۔ منتخب اشعار آپ کے نام کے ساتھ اگلے جمعے کے صفحے پر شائع کیے جائیں گے۔
اگلے جمعے: اردو کے کلاسیکی شاعروں کا یہ دور یہاں مکمل ہوا۔ آگے یہ سیریز بلوچستان کے کلاسیکی شاعروں، جام درک، مست توکلی اور ملا فاضل، کی طرف جائے گی۔
ماخذ
- ریختہ، جگر مرادآبادی: تعارف اور کوائف (ساہتیہ اکادمی ایوارڈ 1958ء، آتشِ گل)۔ https://www.rekhta.org/poets/jigar-moradabadi/profile?lang=ur ؛ منقول شعر: https://www.rekhta.org/poets/jigar-moradabadi/couplets?lang=ur
- ریختہ، جگر کی غزلیں (اس قسط میں جن اشعار کا مفہوم دیا گیا، وہ انہی صفحات پر ہیں): https://www.rekhta.org/ghazals/ik-lafz-e-mohabbat-kaa-adnaa-ye-fasaanaa-hai-jigar-moradabadi-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/mohabbat-men-ye-kyaa-maqaam-aa-rahe-hain-jigar-moradabadi-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/kiyaa-taajjub-ki-mirii-ruuh-e-ravaan-tak-pahunche-jigar-moradabadi-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/ham-ko-mitaa-sake-ye-zamaane-men-dam-nahiin-jigar-moradabadi-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/aadmii-aadmii-se-miltaa-hai-jigar-moradabadi-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/jo-tuufaanon-men-palte-jaa-rahe-hain-jigar-moradabadi-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/shab-e-firaaq-hai-aur-niind-aaii-jaatii-hai-jigar-moradabadi-ghazals?lang=ur
- Muhammad Sadiq, A History of Urdu Literature, 2nd edition, Oxford University Press, Delhi, 1984 (the twentieth-century ghazal).







