ملا فاضل رند: مکران کا شاعر جس کے بادل قندھار سے ملیبار تک گئے
انیسویں صدی کے مکران میں، کیچ کی وادی کے ایک گاؤں مند میں، ایک ایسا شاعر گزرا جسے بلوچی ادب کے کئی مورخ اپنی زبان کا سب سے بڑا شاعر مانتے ہیں۔ سید ظہور شاہ ہاشمی، جنہوں نے اردو میں…

انیسویں صدی کے مکران میں، کیچ کی وادی کے ایک گاؤں مند میں، ایک ایسا شاعر گزرا جسے بلوچی ادب کے کئی مورخ اپنی زبان کا سب سے بڑا شاعر مانتے ہیں۔ سید ظہور شاہ ہاشمی، جنہوں نے اردو میں بلوچی زبان و ادب کی تاریخ لکھی، ملا فاضل کو "شعلچہ کار" یعنی شہنشاہِ شعرا کہتے ہیں اور ان کے کلام کو بلوچی زبان کی پوری تاریخ میں بے مثال قرار دیتے ہیں۔ عربی اور فارسی جاننے والا یہ ملا اپنی شاعری صرف بلوچی میں کرتا تھا۔
زندگی اور زمانہ
حمید اللہ بلوچ کی "بلوچی لبزانک ءِ تاریخ" کے مطابق ملا فاضل انیسویں صدی عیسوی میں کیچ کے علاقے مند میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام چاوش تھا اور خاندان کا تعلق بلوچوں کے رند قبیلے سے تھا۔ اسی کتاب کے مطابق انہوں نے دینی علم کے ساتھ عربی اور فارسی پڑھی اور ان زبانوں پر عبور رکھتے تھے، مگر شعر صرف بلوچی میں کہا۔
ان کی زندگی کے واقعات بہت کم معلوم ہیں۔ جو کچھ لکھا ملتا ہے اس کا بڑا حصہ ان کی قبر سے متعلق ہے۔ ہاشمی لکھتے ہیں کہ وہ پہلے آدمی تھے جو اس دور میں مند میں ملا فاضل کی قبر پر حاضر ہوئے، اور یہ 1954ء کی بات ہے۔ قبر کے پتھر بکھرے پڑے تھے؛ ہاشمی نے اپنے ہاتھوں سے لوحِ مزار کو صاف کر کے دوبارہ نصب کیا اور قبر کی تصویریں محفوظ کیں۔
اسی لوحِ مزار کے مطابق، ہاشمی کے بقول، ملا فاضل کی وفات 1270 ہجری میں ہوئی، جو عیسوی حساب سے 1853–54ء بنتا ہے۔ ہاشمی نے یہ بھی لکھا کہ لوح پر ان کے بھائی ملا قاسم نے موت کا سبب "جدری" لکھا ہے، جو عربی میں چیچک کو کہتے ہیں، اور اس سے وہ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ملا فاضل کی عمر چالیس پینتالیس برس سے زیادہ نہ تھی۔ ہاشمی نے اس روایت کو رد کیا جس کے مطابق ان کی موت دردِ شقیقہ سے ہوئی تھی۔ حمید اللہ بلوچ نے وفات کا سال اندازاً 1862ء لکھا ہے؛ دونوں تاریخیں یہاں درج ہیں۔
ملا فاضل کے بھائی ملا قاسم بھی شاعر تھے۔ ہاشمی ایک قصہ سناتے ہیں: دونوں بھائی ایک محفل میں بیٹھے تھے کہ قریب کی ایک کھڑکی میں ایک حسین چہرہ نظر آیا۔ ملا قاسم بھائی کی توجہ دلانا چاہتے تھے مگر محفل میں کھل کر نہ کہہ سکتے تھے، اس لیے انہوں نے شعر کا ایک مصرع کہا، ملا فاضل نے جواب میں مصرع جوڑا، اور یوں سوال جواب میں پورا شعر بن گیا جسے محفل میں کوئی اور نہ سمجھ سکا۔ ہاشمی اسے "کہا جاتا ہے" کہہ کر بیان کرتے ہیں۔
اسلوب
ہاشمی کے نزدیک ملا فاضل کی سب سے بڑی خوبی ان کی زبان ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ملا فاضل نے اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں فارسی اور عربی کے سب سے کم الفاظ استعمال کیے، خالص بلوچی میں ایسی نظمیں کہیں جن کی مثال بلوچی شاعری کی تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے، اور بلوچی کے ایسے نادر الفاظ برتے جن کے معنی آج کے بہت سے پڑھنے والے بھی نہیں جانتے۔ ہاشمی خود اعتراف کرتے ہیں کہ ان اشعار کا پورا ترجمہ ممکن نہیں، اور خود بلوچی میں بھی ان کی تشریح کی ضرورت ہے۔
حمید اللہ بلوچ ملا فاضل کے اشعار کو قیمتی موتیوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر عشق کے شاعر تھے، اور حمید اللہ بلوچ ایک جگہ دکھاتے ہیں کہ ہجر میں بھی انہوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔
ملا فاضل کی سب سے مشہور نظموں میں ایک وہ ہے جسے ہاشمی نے اردو نثر میں ترجمہ کیا۔ اس کا خلاصہ ہمارے الفاظ میں یہ ہے: شاعر شکار کے لیے ایک خوشبودار وادی کی طرف نکلتا ہے؛ گورخر اور پہاڑی بکروں کا شوق اسے اونچے پہاڑوں اور سرسبز گھاٹیوں میں لے جاتا ہے۔ پھر بادل اٹھتے ہیں: قندھار سے چلتے ہیں، دلی اور کابل کی ہوائیں انہیں باری باری کندھوں پر اٹھاتی ہیں، وہ کسی لشکر کی طرح ملیبار کی طرف یلغار کرتے ہیں، سمندر کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے سبی اور ڈھاڈر تک آتے ہیں، ٹھٹھہ کے باغوں تک پہنچتے ہیں، اور ہر وادی اور ہر سطح مرتفع پر کھل کر برستے ہیں۔ بارش کے بعد ہر طرف سبزہ ہے، گلّہ بانوں کے دل خوشی سے اچھلتے ہیں، اور کوندتی بجلی شاعر کو ایک بچھڑے ہوئے عزیز دوست کی یاد دلا دیتی ہے۔ یوں ایک شکار کی نظم پورے خطے کے موسم کا نقشہ بن جاتی ہے۔
منتخب کلام
نیچے کے اشعار حمید اللہ بلوچ کی کتاب سے ان کے چھپے ہوئے بلوچی متن کے ساتھ ہیں۔ اردو ترجمہ ادارے کا ہے اور عارضی ہے؛ اشاعت سے پہلے کسی بلوچی دان سے جانچا جائے گا۔
حمید اللہ بلوچ لکھتے ہیں کہ ملا فاضل محبوب کی چال کو بادلوں سے تشبیہ دیتے ہیں:
هر وهدے داب کنت نودی شلگندیم گونگیں گرکی تلاستون وپیا پیس ترونگل
بیا هت منی شاہی شیر تپاکیں براهندگاںمن گمانی رنجتگیں اولاک نه باں
قول انت که نوکیں ڈگارے رنگ کناںگوں وتا مهرنگ ءِ گماں هم تنگ کناں
اشعار کی تشریح
«هر وهدے داب کنت نودی شل…» جب بھی وہ ناز سے چلتی ہے تو گویا بادل امنڈ آتے ہیں؛ میں گرجتی گھٹا کو دیکھتا ہوں، اور ستونوں جیسی دھاریں اور برستی بوندیں۔ (اس ٹکڑے کا ترجمہ خاص طور پر غیر یقینی ہے۔)
حمید اللہ بلوچ کے مطابق جب محبوب نے دل توڑا اور جدائی آئی تب بھی ملا فاضل نے امید نہیں چھوڑی، اور یوں کہا:
«بیا هت منی شاہی شیر تپاکیں براهندگاں…» آ جا، میرے شاہانہ شیر دل ساتھیو؛ میں وہ نہیں جو بدگمانی کا ستایا ہوا ہار مان لے۔
«قول انت که نوکیں ڈگارے رنگ کناں…» وعدہ ہے کہ میں ایک نئی دھرتی کو رنگ دوں گا، اور اپنے محبوب کی بدگمانی کو بھی اپنے ساتھ تنگ کر کے رکھ دوں گا۔
اثر اور یادگار
حمید اللہ بلوچ کے مطابق ملا فاضل کے کلام کا ایک مجموعہ "شپ چراگ" کے نام سے بشیر احمد بلوچ نے مرتب کیا اور بلوچی اکیڈمی کوئٹہ نے شائع کیا، اور سید ظہور شاہ ہاشمی نے ان پر ایک الگ کتاب بھی لکھی۔ ہاشمی نے ملا فاضل کی قبر کو گمنامی سے نکالا اور ان کے کلام کو بلوچی ادب کی تاریخ کے مرکز میں رکھا۔ اردو کے قاری کے لیے شاید یوں سمجھنا آسان ہو کہ بلوچی ادب کے مورخ ملا فاضل کو اسی مقام پر رکھتے ہیں جہاں ہم کلاسیکی شاعروں کی صفِ اول کو رکھتے ہیں: ایک ایسا شاعر جس نے اپنی زبان کو اس کی پوری وسعت کے ساتھ برتا۔
قارئین سے: مکران کے قارئین سے خاص درخواست: ملا فاضل کا جو شعر آپ کو یاد ہو، بلوچی متن اور اس کا مطلب ہمیں لکھ بھیجیے۔ منتخب اشعار آپ کے نام کے ساتھ اگلے جمعے کے صفحے پر شائع کیے جائیں گے۔
اگلے جمعے: کوہلو کے پہاڑوں کا صوفی شاعر مست توکلی، جس کے عشق نے اسے درویش بنا دیا۔
ماخذ
- سید ظہور شاہ ہاشمی، بلوچی زبان و ادب کی تاریخ (ایک جائزہ)، سید ہاشمی اکیڈمی، لیاری، کراچی، 1986ء، صفحات 85–86، 89–91 اور 310–316۔ https://archive.org/details/BalochiZabanOAdabKiTarikh (آرکائیو کے کوائف میں مصنف کا نام غلطی سے محمد یوسف مجاہد درج ہے)
- حمید اللہ بلوچ، بلوچی لبزانک ءِ تاریخ (بلوچی)، زمرد پبلی کیشنز، کوئٹہ، 1999ء، صفحات 122–123۔ https://archive.org/details/balochi-labzankh-tarikh (آرکائیو کے کوائف میں مصنف محمد یوسف مجاہد اور سال 1993ء درج ہے)
- غوث بخش صابر، بلوچی زبان و ادب: ایک جائزہ، اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد (پہلی اشاعت 1999ء)، صفحہ 38 (کلاسیکی شعرا میں ملا فاضل کا ذکر)۔ https://archive.org/details/20220702_20220702_2237



