مست توکلی: کوہلو کے پہاڑوں کا درویش شاعر
مری بگٹی کے پہاڑوں میں آج بھی ایک ایسے شاعر کا نام عقیدت سے لیا جاتا ہے جس نے نہ اسکول دیکھا نہ مدرسہ، جس کی زندگی ریوڑ چرانے سے شروع ہوئی، اور جسے بلوچی ادب کے مورخ اپنی زبان…

مری بگٹی کے پہاڑوں میں آج بھی ایک ایسے شاعر کا نام عقیدت سے لیا جاتا ہے جس نے نہ اسکول دیکھا نہ مدرسہ، جس کی زندگی ریوڑ چرانے سے شروع ہوئی، اور جسے بلوچی ادب کے مورخ اپنی زبان کے سب سے بڑے صوفی شاعروں میں گنتے ہیں۔ اس کا نام توکلی تھا؛ عشق نے اسے "مست" بنا دیا، اور وہ مست توکلی کے نام سے امر ہو گیا۔
زندگی اور زمانہ
مست توکلی کی پیدائش کا سال یقینی طور پر معلوم نہیں۔ حمید اللہ بلوچ اپنی بلوچی کتاب "بلوچی لبزانک ءِ تاریخ" (1999ء) میں لکھتے ہیں کہ تحقیق کرنے والوں نے 1831ء پر اتفاق کیا ہے۔ سید ظہور شاہ ہاشمی (1986ء) زکیہ سردار خان کے حوالے سے 1828ء لکھتے ہیں، اور فخر زمان کی انگریزی کتاب "صوفی ہیریٹیج آف پاکستان" میں 1825ء ہے۔ وفات کے بارے میں بھی یہی صورت ہے: حمید اللہ بلوچ کے مطابق مست 65 برس کی عمر میں 1896ء میں کوہلو میں فوت ہوئے، ہاشمی کے مطابق 1895ء میں، اور فخر زمان کے مطابق 1892ء میں۔ اتنی بات طے ہے کہ مست انیسویں صدی کے شاعر تھے اور ان کی زندگی کا بڑا حصہ اس صدی کے وسط اور آخر میں گزرا۔ ہاشمی انہیں مکران کے ملا فاضل کا ہم عصر کہتے ہیں۔
حمید اللہ بلوچ کے مطابق مست کا تعلق مری قبیلے کی بلوچانی شاخ سے تھا اور وہ کاہان میں پیدا ہوئے؛ فخر زمان انہیں مریوں کی لوہارانی شاخ سے بتاتے ہیں۔ خاندان مال مویشی پالتا تھا اور مست نے بچپن ریوڑوں کے ساتھ گزارا۔ حمید اللہ بلوچ صاف لکھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی؛ نہ کسی اسکول میں گئے نہ کسی دینی مدرسے میں۔
ان کی زندگی کا موڑ ایک عورت سے محبت تھی۔ حمید اللہ بلوچ کے مطابق مست کی شاعری کی ابتدا "سمی" نام کی ایک خاتون کے عشق سے ہوئی؛ مست اس عشق میں دیوانے ہو گئے، ہر محفل میں اس کا ذکر کرتے، اور اپنے شعروں میں اسے "سمو" کے نام سے پکارتے رہے۔ یہی دنیوی عشق رفتہ رفتہ عشقِ حقیقی میں بدل گیا، اور آخر کار مست نے درویشانہ زندگی اختیار کر لی۔
مست خود کو بے علم کہتے تھے۔ حمید اللہ بلوچ لکھتے ہیں کہ ان کے ماننے والوں کے مطابق مست خدا کی محبت میں ایسے گم تھے کہ انہیں کسی اور چیز کا ہوش نہ رہتا تھا۔
اسلوب
حمید اللہ بلوچ کے مطابق مست کی شاعری رومانی رنگ سے شروع ہوئی، مگر رفتہ رفتہ اس پر تصوف کا رنگ غالب آ گیا۔ ان کی زندگی جیسے جیسے بدلی، شاعری بھی بدلتی گئی۔ ان کے کلام میں امن پسندی، وطن دوستی اور انسان دوستی کا پیغام ہے، اور فطرت کی تصویریں بہت ہیں: بارش، گرج اور بجلی، کھیت، چراگاہوں میں مال مویشی، اور بستیوں کے لوگوں کی زندگی۔ یہ وہی دنیا ہے جس میں مست نے بچپن گزارا تھا، اور جو ان کی صوفیانہ شاعری میں بھی اپنی پوری تازگی کے ساتھ موجود رہی۔ اردو کے قاری کے لیے مست کو سمجھنے کا ایک راستہ یہ ہے کہ انہیں ان صوفی شاعروں کی صف میں دیکھا جائے جن کے ہاں محبوب کا ذکر کرتے کرتے بات خدا تک پہنچ جاتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ مست کا محبوب کسی کتابی روایت سے نہیں آیا تھا؛ وہ کوہلو کی ایک زندہ عورت تھی، اور مست نے اس سچائی کو کبھی نہیں چھپایا۔
منتخب کلام
حمید اللہ بلوچ نے مست کی منظر نگاری کی مثال کے طور پر یہ چار مصرعے دیے ہیں، جن میں محبوب کے حسن کو فطرت کی چیزوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ متن انہی کی کتاب سے ہے؛ اردو ترجمہ ادارے کا ہے اور عارضی ہے۔
دیم ایں چھو ڑیو آں بلوخیناںزلفاں چھو سیاہ ماران تھلوخیناں
بڑیں چھو آھو آں تربوخیناںزردایں چھو کنڈمی آں بھوخیناں
اشعار کی تشریح
«دیم ایں چھو ڑیو آں بلوخیناں…» چہرے ایسے جیسے چمکتی ہوئی بجلیاں، اور زلفیں ایسی جیسے لہراتے ہوئے کالے ناگ۔
«بڑیں چھو آھو آں تربوخیناں…» بھویں ایسی جیسے چوکڑیاں بھرتے ہرن، اور دل ایسے جیسے کھلتی ہوئی کلیاں۔ (اس شعر کے دوسرے مصرعے کا ترجمہ خاص طور پر غیر یقینی ہے۔)
ان چار مصرعوں میں مست کی شاعری کی وہ خصوصیت صاف دکھائی دیتی ہے جس کا ذکر حمید اللہ بلوچ نے کیا: تشبیہیں کتابوں سے نہیں، پہاڑ کے روزمرہ سے آئی ہیں۔ بجلی، سانپ اور ہرن وہ چیزیں ہیں جنہیں ایک چرواہا ہر روز دیکھتا ہے۔
اثر اور یادگار
حمید اللہ بلوچ مست توکلی کو بلوچی کلاسیکی شاعری کے سرخیل شاعروں میں رکھتے ہیں۔ مست کی شہرت صرف کتابوں تک محدود نہیں؛ حمید اللہ بلوچ کے مطابق ان کی قبر پر آج بھی زیارت کرنے والے آتے ہیں۔ ایک ان پڑھ چرواہے کا اپنی قوم کے بڑے شاعروں میں شمار ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ بلوچی شاعری کی اصل طاقت اس کی زبانی روایت میں ہے۔
قارئین سے: کوہلو، کاہان اور مری علاقے کے قارئین سے خاص درخواست: مست توکلی کا جو شعر آپ نے سنا ہو، بلوچی متن اور اس کا مطلب ہمیں بھیجیے۔ منتخب اشعار آپ کے نام کے ساتھ اگلے جمعے کے صفحے پر شائع کیے جائیں گے۔
اگلے جمعے: مری قبیلے ہی کا ایک اور شاعر، رحم علی مری، جس نے امیر اور غریب کے فرق پر شعر کہے۔
ماخذ
- حمید اللہ بلوچ، بلوچی لبزانک ءِ تاریخ (بلوچی)، زمرد پبلی کیشنز، کوئٹہ، 1999ء، صفحات 118–120۔ https://archive.org/details/balochi-labzankh-tarikh (آرکائیو کے کوائف میں مصنف محمد یوسف مجاہد اور سال 1993ء درج ہے)
- سید ظہور شاہ ہاشمی، بلوچی زبان و ادب کی تاریخ (ایک جائزہ)، سید ہاشمی اکیڈمی، لیاری، کراچی، 1986ء، صفحہ 90۔ https://archive.org/details/BalochiZabanOAdabKiTarikh
- Fakhar Zaman, Sufi Heritage of Pakistan (Echoes of Folk Wisdom) (publisher not stated in the archive.org copy; uploaded 2025), chapter "Mast Tawakali", pp. 170–174. https://archive.org/details/sufi-heritage-of-pakistan



