رحم علی مری: محل اور سوکھی روٹی کے بیچ کھڑا شاعر
مری قبیلے نے بلوچی شاعری کو کئی بڑے نام دیے۔ پچھلے جمعے ہم نے ان میں سب سے مشہور، مست توکلی، کا ذکر کیا تھا۔ آج اسی قبیلے کے ایک اور شاعر کی باری ہے جس کا نام اردو کے…

مری قبیلے نے بلوچی شاعری کو کئی بڑے نام دیے۔ پچھلے جمعے ہم نے ان میں سب سے مشہور، مست توکلی، کا ذکر کیا تھا۔ آج اسی قبیلے کے ایک اور شاعر کی باری ہے جس کا نام اردو کے قاری نے شاید کم سنا ہو: رحم علی مری۔ ان کے بارے میں لکھی ہوئی معلومات بہت تھوڑی ہیں، مگر جو چند شعر محفوظ ہیں وہ ایک ایسے شاعر کا پتا دیتے ہیں جس کی نظر اپنے گرد کی ناانصافی پر تھی۔
زندگی اور زمانہ
حمید اللہ بلوچ اپنی بلوچی کتاب "بلوچی لبزانک ءِ تاریخ" (1999ء) میں لکھتے ہیں کہ رحم علی مری انیسویں صدی عیسوی کے آخری برسوں میں کاہان میں پیدا ہوئے، اور ان کا تعلق مری قبیلے کی بجارانی شاخ سے تھا۔ ان کی وفات کا سال اس کتاب میں نہیں دیا گیا، اور اس سیریز کے لیے جو دوسرے ماخذ کھولے گئے ان میں بھی نہیں ملا۔
حمید اللہ بلوچ کے مطابق رحم علی بلوچی ادب کے نامور شاعروں میں ہیں اور مری قبیلے کے زوردار شاعر تھے؛ قبیلہ ان کی شاعری پر فخر کرتا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ رحم علی خود ایک بے مثل اور بے طمع آدمی تھے، کسی سے کوئی لالچ نہ رکھتے تھے، اور اپنی شاعری کو خدا کی دین سمجھتے تھے۔
حمید اللہ بلوچ کے مطابق مست توکلی بھی کاہان ہی میں پیدا ہوئے تھے۔
اسلوب
حمید اللہ بلوچ رحم علی کو "اولسی شاعر" یعنی عوام کا شاعر کہتے ہیں۔ ان کے بقول رحم علی نے عوام کی زندگی کے ہر پہلو پر شعر کہا اور ان کے شعروں میں اپنے ماحول کی پوری تصویر ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ محلوں اور حویلیوں میں خوش و خرم رہتے ہیں اور کچھ سوکھی روٹی کے محتاج ہیں، اور یہی فرق ان کی شاعری کا موضوع بنا۔
یوں رحم علی کی شاعری عشق کی نہیں، معاشرے کی شاعری ہے۔ کلاسیکی بلوچی شاعری میں جہاں جام دُرک اور ملا فاضل کے ہاں محبوب کا حسن اور بادلوں کا سفر ہے، وہاں رحم علی کے ہاں امیر اور غریب کی تقسیم ہے۔
منتخب کلام
نیچے کے مصرعے حمید اللہ بلوچ کی کتاب سے ان کے چھپے ہوئے بلوچی متن کے ساتھ ہیں۔ اردو ترجمہ ادارے کا ہے اور عارضی ہے؛ اشاعت سے پہلے کسی بلوچی دان سے جانچا جائے گا۔
پہلا ٹکڑا امیر اور غریب کے فرق پر ہے:
نیم کهٹانی سرائیں نیم ٹلی ماں شفاں
کچھ لوگ کمائی کے مزے میں حویلیوں میں ہیں، اور کچھ راتوں کو کروٹیں بدلتے ہیں۔
نیم دهغی زمیے نه گندی نیم داری نوکراں
کسی کو زمین کا ایک ٹکڑا بھی نصیب نہیں، اور کوئی نوکر چاکر رکھتا ہے۔
(رحم علی مری، بحوالہ حمید اللہ بلوچ، بلوچی لبزانک ءِ تاریخ، ص 98)
اسی ٹکڑے کے تیسرے مصرعے میں بھی "نیم" یعنی "آدھے" کی وہی تکرار ہے: کوئی خوشیوں میں ہے اور کوئی غم میں نالہ کرتا ہے۔ آدھی دنیا ایک طرف، آدھی دوسری طرف۔ بات سیدھی ہے، اور اسی سیدھے پن میں اس کا اثر ہے۔
رحم علی مری کی وفات کا سال معلوم نہیں اور ان کا کلام کاپی رائٹ میں سمجھا جا رہا ہے، اس لیے یہاں صرف دو مصرعے نقل کیے گئے ہیں۔
اثر اور یادگار
رحم علی مری کے بارے میں لکھا ہوا مواد کم ہے، اور یہ قسط اسی کمی کا اعتراف بھی ہے۔ حمید اللہ بلوچ نے انہیں بلوچی ادب کی تاریخ میں جگہ دی اور ان کے چند شعر محفوظ کیے؛ باقی کام ان محققوں اور قارئین کا ہے جن کے پاس اس شاعر کی مزید یادیں یا قلمی بیاضیں ہوں۔ جو چند شعر ہمارے سامنے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ مری پہاڑوں کا یہ شاعر ایک پرانا مگر ہمیشہ نیا سوال اٹھا رہا تھا: محل اور سوکھی روٹی کا فاصلہ کب کم ہوگا؟
قارئین سے: اگر آپ کے پاس رحم علی مری کی زندگی یا شاعری کے بارے میں کوئی معلومات ہے، خاص طور پر ان کی وفات کا سال یا ان کے مزید اشعار، تو ہمیں ضرور لکھیے۔ آپ کی بھیجی ہوئی معلومات ماخذ کے ساتھ جانچ کر آپ کے نام سے شائع کی جائیں گی۔
اگلے جمعے: بلوچی سے براہوئی کی طرف: ملا ملک داد قلاتی، جن کی "تحفۃ العجائب" براہوئی کی ابتدائی تحریری کتابوں میں ہے۔
ماخذ
- حمید اللہ بلوچ، بلوچی لبزانک ءِ تاریخ (بلوچی)، زمرد پبلی کیشنز، کوئٹہ، 1999ء، صفحات 97–98 (رحم علی مری) اور 118–119 (کاہان، مست توکلی کی جائے پیدائش)۔ https://archive.org/details/balochi-labzankh-tarikh (آرکائیو کے کوائف میں مصنف محمد یوسف مجاہد اور سال 1993ء درج ہے)







