فانی بدایونی: یاسیات کا امام
بیسویں صدی کے شروع میں اردو غزل پر ایک الزام لگ رہا تھا کہ یہ پرانی ہو گئی ہے، اس کے مضامین گھس چکے ہیں، اور نئے زمانے کو نظم کی ضرورت ہے۔ اسی زمانے میں کچھ شاعر ایسے آئے…

بیسویں صدی کے شروع میں اردو غزل پر ایک الزام لگ رہا تھا کہ یہ پرانی ہو گئی ہے، اس کے مضامین گھس چکے ہیں، اور نئے زمانے کو نظم کی ضرورت ہے۔ اسی زمانے میں کچھ شاعر ایسے آئے جنہوں نے غزل کو پھر سے زندہ کر دیا۔ حسرت موہانی ان میں سے ایک تھے، جن کا ذکر اس سیریز میں ہو چکا ہے۔ دوسرا بڑا نام فانی بدایونی کا ہے، جن کی غزل میں غم صرف ایک کیفیت نہیں، ایک فلسفہ ہے۔ ریختہ انہیں "یاسیات کا امام" کہتا ہے۔ ان کی پوری شاعری اس ایک شعر میں سمٹ آتی ہے:
ہر گھڑی انقلاب میں گزریزندگی کس عذاب میں گزری
زندگی اور زمانہ
ریختہ کے مطابق فانی کا نام شوکت علی خاں تھا۔ پہلے شوکت تخلص کرتے تھے، بعد میں فانی اختیار کیا۔ وہ افغان نسل سے تھے اور ان کے بزرگ بڑی جاگیر کے مالک تھے، جو 1857ء کے ہنگاموں کے بعد انگریزوں نے چھین لی۔ والد شجاعت علی خاں بدایوں کے قصبے اسلام نگر میں تھانیدار تھے، اور وہیں 13 ستمبر 1879ء کو فانی پیدا ہوئے۔
انہوں نے گیارہ برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا، اور 1898ء تک ان کا پہلا دیوان تیار ہو چکا تھا۔ مگر والد شاعری کے سخت خلاف تھے؛ جب بیٹا باز نہ آیا تو انہوں نے دیوان جلا دیا۔ اس لیے فانی کی ابتدائی شاعری کا رنگ ہمیں معلوم نہیں۔ 1901ء میں بریلی کالج سے بی اے کیا۔ بچپن میں جس کزن سے ان کی نسبت طے تھی، اس کی شادی کہیں اور ہو گئی اور کچھ عرصے بعد وہ فوت ہو گئی۔ ریختہ کے مطابق یہ فانی کی زندگی کا پہلا بڑا صدمہ تھا۔
اس کے بعد ایک بے چین زندگی شروع ہوئی۔ اسکول میں پڑھایا، استعفیٰ دیا؛ اسکولوں کے سب انسپکٹر بنے، نوکری چھوڑی۔ پھر علی گڑھ سے وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ ریختہ کے مطابق علی گڑھ ہی میں ان کی شاعری پر غالب اور میر کا گہرا اثر پڑا، کیونکہ وہاں حالی کی "یادگارِ غالب" کا چرچا تھا اور حسرت موہانی کلاسیکی غزل کے احیا کی مہم چلا رہے تھے۔ لکھنؤ میں وکالت شروع کی اور ابتدا میں کامیاب بھی رہے، مگر ایک ہی سال میں ماں اور باپ دونوں کا انتقال ہو گیا، دل وکالت سے اچاٹ ہو گیا، اور قرض کی نوبت آ گئی۔ وہ لکھنؤ، بدایوں، آگرہ اور دوسرے شہروں میں قسمت آزماتے رہے، اور ہر جگہ تنگ دستی اور عشق کی ناکامیاں ان کے ساتھ رہیں۔
آخر میں وہ حیدرآباد دکن چلے گئے، جہاں ریختہ کے مطابق مہاراجہ کشن پرشاد ان کے مداح تھے۔ وہاں انہوں نے اپنی زندگی کے کچھ بہترین اور پھر بدترین دن گزارے۔ جوان بیٹی کی موت اور پھر بیوی کی موت دیکھی، اور 27 اگست 1941ء کو حیدرآباد میں بڑی بے کسی کی حالت میں ان کا انتقال ہوا۔
اسلوب
میر کو بھی غم کا شاعر کہا جاتا ہے، مگر ریختہ کے تعارف میں فرق یوں بیان کیا گیا ہے کہ میر کا شعر دل کو چھو کر "واہ" بھی کہلوا لیتا ہے، جبکہ فانی جب اپنی پرسوز آواز میں غزل پڑھتے تو سننے والے کبھی کبھی داد دینا بھول جاتے۔ دوسرے شاعر محبوب کے حسن اور ہجر کی اذیت کا ذکر کرتے ہیں؛ فانی کا اصل محبوب خود ان کا غم ہے۔
مگر یہ غم صرف رونا دھونا نہیں۔ فانی کی شاعری عشق، غم، تصوف اور کائنات کے رازوں کے گرد گھومتی ہے: عشق نے انہیں غم دیا، غم انہیں تصوف تک لے گیا، اور تصوف نے ان کے سامنے زندگی کے بڑے سوال رکھ دیے۔ وہ موت کو بھی ایک نئی نظر سے دیکھتے ہیں:
مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلۂ قید حیاتمگر اتنا ہے کہ زنجیر بدل جاتی ہے
مر جانے سے زندگی کی قید کا سلسلہ کہاں ٹوٹتا ہے؟ بس اتنا ہوتا ہے کہ ایک زنجیر کی جگہ دوسری زنجیر آ جاتی ہے۔
اور یہی جبر ان کی شاعری کا مرکزی خیال ہے:
زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیںہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیں
منتخب کلام
اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئےمیں جو رویا مسکرا کر رہ گئے
اٹھ گئے دنیا سے فانیؔ اہل ذوقایک ہم مرنے کو زندہ رہ گئے
ہر سانس کے ساتھ جا رہا ہوںمیں تیرے قریب آ رہا ہوں
کچھ کٹی ہمت سوال میں عمرکچھ امید جواب میں گزری
نام بدنام ہے ناحق شب تنہائی کاوہ بھی اک رخ ہے تری انجمن آرائی کا
میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیںاس کرم کی کچھ انتہا ہی نہیں
کشتئ اعتبار توڑ کے دیکھکہ خدا بھی ہے نا خدا ہی نہیں
جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دوراس آپ کی زمیں سے الگ آسماں سے دور
تری تلاش کا فی الجملہ ماحصل یہ ہےکہ تو یہاں نہیں ملتا وہاں نہیں ملتا
مجھے بلا کے یہاں آپ چھپ گیا کوئیوہ میہماں ہوں جسے میزباں نہیں ملتا
دیار عمر میں اب قحط مہر ہے فانیؔکوئی اجل کے سوا مہرباں نہیں ملتا
اشعار کی تشریح
«اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئے…» وہ آئے، ایک کہانی سنی، ایک سنائی، اور جب میں رو پڑا تو بس مسکرا کر رہ گئے۔ محبوب کی بے نیازی کی اس سے مختصر تصویر مشکل ہے۔
«اٹھ گئے دنیا سے فانیؔ اہل ذوق…» دنیا سے سمجھ اور ذوق رکھنے والے سب اٹھ گئے؛ ایک ہم ہیں جو صرف مرنے کے لیے زندہ رہ گئے ہیں۔
«ہر سانس کے ساتھ جا رہا ہوں…» ہر سانس کے ساتھ زندگی کم ہو رہی ہے، اور یوں میں ہر لمحہ تیرے قریب آ رہا ہوں۔ یہاں "تو" محبوب بھی ہو سکتا ہے، موت بھی، اور خدا بھی۔
«کچھ کٹی ہمت سوال میں عمر…» آدھی عمر سوال کرنے کی ہمت جمع کرنے میں کٹ گئی اور باقی جواب کی امید میں گزر گئی۔
«نام بدنام ہے ناحق شب تنہائی کا…» تنہائی کی رات خواہ مخواہ بدنام ہے؛ وہ بھی تیری محفل ہی کا ایک رخ ہے، کیونکہ تنہائی میں بھی تو ہی یاد آتا ہے۔
«میرے لب پر کوئی دعا ہی نہیں…» میرے ہونٹوں پر کوئی دعا ہی نہیں رہی، اور یہ بھی تیرا کرم ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ یعنی خواہش کا مٹ جانا بھی ایک نعمت ہے۔
«کشتئ اعتبار توڑ کے دیکھ…» بھروسے کی کشتی توڑ کر دیکھ، تب پتا چلے گا کہ ملاح ہی سب کچھ نہیں، خدا بھی ہے۔ دنیا کے سہاروں سے ہٹ کر اصل سہارے کی طرف اشارہ۔
«جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دور…» دل کوئی ایسا گھر ڈھونڈتا ہے جو دنیا اور آخرت دونوں سے دور ہو، اس زمین سے بھی الگ اور آسمان سے بھی۔
«تری تلاش کا فی الجملہ ماحصل یہ ہے…» تجھے ڈھونڈنے کا کل حاصل بس یہ نکلا کہ تو نہ یہاں ملتا ہے نہ وہاں۔ تلاش ہی منزل بن گئی۔
«مجھے بلا کے یہاں آپ چھپ گیا کوئی…» کوئی مجھے اس دنیا میں بلا کر خود چھپ گیا ہے؛ میں ایسا مہمان ہوں جسے میزبان نہیں ملتا۔ انسان کی تنہائی اور خدا کی تلاش کا یہ شعر فانی کے بہترین اشعار میں ہے۔
«دیار عمر میں اب قحط مہر ہے فانیؔ…» زندگی کے شہر میں اب محبت کا قحط پڑ گیا ہے؛ موت کے سوا کوئی مہربان نظر نہیں آتا۔
اثر اور یادگار
فانی نے اردو غزل کو وہ لہجہ دیا جو ان سے پہلے نہیں سنا گیا تھا۔ ریختہ کے تعارف کے مطابق انہوں نے مواد اور اسلوب دونوں لحاظ سے غزل کو نئی وسعتیں دیں، اور غم اور اس سے جڑے مضامین پر جو کچھ لکھا وہ اردو غزل کا شاہکار ہے۔ حسرت، فانی، اصغر گونڈوی اور جگر کو بیسویں صدی میں غزل کے احیا کے بڑے نام سمجھا جاتا ہے، اور ان میں فانی کی آواز سب سے الگ اور سب سے اداس ہے۔
ان کی زندگی ایک لمبا المیہ تھی، مگر اسی المیے سے وہ شاعری نکلی جو آج بھی تنہائی کے لمحوں میں پڑھنے والے کا ساتھ دیتی ہے۔
قارئین سے: فانی کا کون سا شعر آپ کو کسی مشکل وقت میں یاد آیا؟ ہمیں لکھ کر بھیجیے۔ منتخب اشعار آپ کے نام کے ساتھ اگلے جمعے کے صفحے پر شائع کیے جائیں گے۔
اگلے جمعے: جگر مرادآبادی، مشاعروں کے بادشاہ، جن کے ترنم نے غزل کو عوام تک پہنچایا۔
ماخذ
- ریختہ، فانی بدایونی: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/fani-badayuni/profile?lang=ur
- ریختہ، فانی کی غزلیں (اس قسط کے اشعار انہی صفحات سے): https://www.rekhta.org/ghazals/har-ghadii-inqalaab-men-guzrii-fani-badayuni-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/mar-ke-tuutaa-hai-kahiin-silsila-e-qaid-e-hayaat-fani-badayuni-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/zindagii-jabr-hai-aur-jabr-ke-aasaar-nahiin-fani-badayuni-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/ik-fasaana-sun-gae-ik-kah-gae-fani-badayuni-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/har-saans-ke-saath-jaa-rahaa-huun-fani-badayuni-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/naam-badnaam-hai-naahaq-shab-e-tanhaaii-kaa-fani-badayuni-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/mere-lab-par-koii-duaa-hii-nahiin-fani-badayuni-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/jii-dhuundhtaa-hai-ghar-koii-donon-jahaan-se-duur-fani-badayuni-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/khushii-se-ranj-kaa-badlaa-yahaan-nahiin-miltaa-fani-badayuni-ghazals?lang=ur
- Muhammad Sadiq, A History of Urdu Literature, 2nd edition, Oxford University Press, Delhi, 1984 (the twentieth-century ghazal: Hasrat, Fani, Asghar, Jigar).
- Ram Babu Saksena, A History of Urdu Literature, Ram Narain Lal, Allahabad, 1927 (notice of Fani among living poets).



