رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
وزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظاتعلی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجہ کے نام کھلا خط، بیان واپس لینے اور معافی کا مطالبہپانی ہماری ریڈ لائن ہے، پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام تصور ہو گی: وزیراعظم شہباز شریفتربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصولاوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی صدارت میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے منصوبوں پر اجلاس

حروفِ تہجی، بائیس نشانوں نے لکھنا سب کے لیے آسان کر دیا

بچہ اسکول میں "الف، ب، پ" یاد کرتا ہے اور چند مہینوں میں اخبار کی سرخیاں پڑھنے لگتا ہے۔ یہ سہولت انسانی تاریخ کی بڑی ایجادات میں سے ایک کی دین ہے۔ حروفِ تہجی سے پہلے لکھنا پڑھنا چند تربیت…

حروفِ تہجی، بائیس نشانوں نے لکھنا سب کے لیے آسان کر دیا
علامتی تصویر

بچہ اسکول میں "الف، ب، پ" یاد کرتا ہے اور چند مہینوں میں اخبار کی سرخیاں پڑھنے لگتا ہے۔ یہ سہولت انسانی تاریخ کی بڑی ایجادات میں سے ایک کی دین ہے۔ حروفِ تہجی سے پہلے لکھنا پڑھنا چند تربیت یافتہ کاتبوں کا ہنر تھا، کیونکہ میخی اور ہیروغلیفی تحریروں میں سینکڑوں نشان یاد کرنے پڑتے تھے۔ پھر مشرقی بحیرۂ روم کے ساحل پر ایک ایسا نظام عام ہوا جس میں صرف بائیس نشان تھے، اور ہر نشان ایک آواز کے لیے تھا۔

مصر کی چٹانوں پر پہلے قدم

حروفِ تہجی کی کہانی مصر سے شروع ہوتی ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق 2700 قبل مسیح تک مصری تحریر میں تقریباً 22 ایسے نشان موجود تھے جو ایک ایک حرفِ صحیح کی آواز ظاہر کرتے تھے۔ مگر مصری انہیں الگ نظام کے طور پر استعمال نہیں کرتے تھے، بلکہ تصویری نشانوں کے ساتھ تلفظ کی مدد کے لیے لکھتے تھے۔

طویل عرصے تک قدیم ترین معلوم ثبوت ایک ایسی تحریر کو سمجھا جاتا رہا جو انہی تصویری نشانوں سے بنی مگر آوازوں پر مبنی تھی۔ 1999 میں نیویارک ٹائمز اور ییل یونیورسٹی کے جریدے نے خبر دی کہ ییل کے ماہرِ مصریات جان ڈارنیل (John Darnell) اور ان کی ٹیم نے دریائے نیل کے مغرب میں وادی الہول (Wadi el-Hol) میں چونے کے پتھر کی چٹانوں پر دو مختصر تحریریں دریافت کی ہیں۔ یہ جگہ قدیم شہروں تھیبس اور ابیدوس کے درمیان ایک پرانے راستے پر ہے۔ ماہرین نے انہیں 1900 سے 1800 قبل مسیح کے درمیان کا قرار دیا اور بتایا کہ یہ ایک سامی رسم الخط ہے جس پر مصری اثر واضح ہے۔ ان کے خیال میں یہ مصر کے اندر رہنے والے سامی لوگوں کا کام تھا، شام اور فلسطین کے علاقے کا نہیں جیسا کہ پہلے سمجھا جاتا تھا۔ 1999 تک یہ تحریریں پڑھی نہیں جا سکی تھیں۔ نومبر 2024 میں شام کے مقام اُم المرّہ (Umm el-Marra) سے ملنے والے مٹی کے چند چھوٹے سلنڈروں (تقریباً 2400 قبل مسیح) کو ممکنہ حروفِ تہجی والی تحریر کے طور پر پیش کیا گیا، مگر ماہرین میں یہ دعویٰ ابھی زیرِ بحث ہے۔

ڈارنیل نے ییل کے جریدے کو سمجھایا کہ حرف "الف" کی کہانی بیل کے سر کی تصویر سے شروع ہوتی ہے۔ سامی زبانوں میں بیل کو "الف" کہا جاتا تھا، اور یہی نشان گھومتے گھومتے یونانی "الفا" اور پھر لاطینی "اے" بنا۔

فونیقیہ: بائیس حروف کا نظام

اس ابتدائی رسم الخط نے آگے چل کر کنعانی اور پھر فونیقی حروفِ تہجی کی شکل اختیار کی۔ فونیقی لوگ آج کے لبنان کے ساحلی شہروں صور، صیدا اور جبیل (Byblos) میں رہتے تھے اور بحیرۂ روم کے بڑے تاجر اور جہاز ران تھے۔

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے ایک مضمون کے مطابق فونیقی حروفِ تہجی کے 22 حروف مصری تصویری نشانوں کی سادہ شکلیں ہیں، جو بارہویں صدی قبل مسیح کے آخر تک ایک معیاری شکل اختیار کر چکے تھے۔ عربی اور عبرانی کی طرح فونیقی بھی دائیں سے بائیں لکھی جاتی تھی اور اس میں حروفِ علت نہیں لکھے جاتے تھے۔ عام اندازے کے مطابق یہ رسم الخط تقریباً 1050 قبل مسیح سے استعمال میں تھا۔

فونیقی حروف میں لکھی ہوئی سب سے مشہور ابتدائی تحریر جبیل کے بادشاہ احیرام (Ahiram) کے پتھر کے تابوت پر ہے۔ یہ تابوت 1923 میں فرانسیسی ماہرِ آثار پیئر مونتے (Pierre Montet) کو جبیل کے شاہی قبرستان سے ملا۔ اس کے ڈھکن اور کناروں پر 38 الفاظ کندہ ہیں۔ زیادہ تر ماہرین اسے تقریباً 1000 قبل مسیح کا مانتے ہیں، تاہم کچھ اسے اس سے پہلے اور کچھ تقریباً 850 قبل مسیح یا بعد کا قرار دیتے ہیں۔

تاجروں کے ساتھ دنیا بھر میں

فونیقی تجارتی بستیوں کے ساتھ یہ حروف پورے بحیرۂ روم میں پھیل گئے۔ یونانی مورخ ہیرودوتس (Herodotus) لکھتا ہے کہ قدموس (Cadmus) کے ساتھ آنے والے فونیقی یونان میں حروفِ تہجی لائے، جو اس سے پہلے یونانیوں کے پاس نہیں تھے، اور یونانیوں نے تھوڑی تبدیلی کے ساتھ انہیں اپنایا اور "فونیقی حروف" ہی کہا۔

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یونانیوں نے وہ حروف جو ان کی زبان کی آوازوں کے لیے فالتو تھے، حروفِ علت کے لیے استعمال کرنے شروع کیے۔ یوں پہلی بار ایسا نظام بنا جس میں حروفِ صحیح اور حروفِ علت دونوں لکھے جاتے تھے۔ یونانی حروف سے اٹلی میں لاطینی حروف نکلے، جو آج انگریزی سمیت دنیا کی بہت سی زبانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

مشرق کی طرف بھی ایک شاخ چلی۔ نویں صدی قبل مسیح میں آرامی لوگوں نے فونیقی حروف اپنائے، اور یہی آرامی رسم الخط آگے چل کر عربی میں ڈھلا۔ آرامی سے ایک اور شاخ گندھارا پہنچی، جہاں خروشتی (Kharosthi) رسم الخط وجود میں آیا۔ گندھاری زبان، جو اسی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی، پشاور کی وادی میں تیسری صدی قبل مسیح سے پانچویں صدی عیسوی تک استعمال ہوتی رہی۔

ہمارے حروف کا شجرہ

اردو کا رسم الخط عربی اور فارسی کے راستے اسی خاندان سے آیا ہے۔ یوں جب کوئٹہ کا کوئی طالب علم اپنی کاپی میں اردو لکھتا ہے اور اسی کاپی کے دوسرے صفحے پر انگریزی، تو وہ ایک ہی دادا کی دو اولادوں کو استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ ایک شاخ آرامی اور عربی سے ہوتی ہوئی اس تک پہنچی، دوسری یونانی اور لاطینی سے۔ اردو آج بھی دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہے، بالکل فونیقی کی طرح۔

حروفِ تہجی کی اصل طاقت اس کی سادگی تھی۔ چند درجن نشان سیکھ کر کوئی بھی شخص اپنی زبان لکھ سکتا تھا۔ اسی سادگی نے تحریر کو محلوں اور عبادت گاہوں سے نکال کر بازار، گھر اور اسکول تک پہنچا دیا۔

ماخذ

  1. Jan van der Crabben, "Alphabet", World History Encyclopedia, 28 April 2011. https://www.worldhistory.org/alphabet/ — some 22 Egyptian uniliteral signs by 2700 BCE, not used as a system; Proto-Sinaitic c. 1700 BCE; development into Proto-Canaanite and Phoenician; abjads without vowels (Arabic, Hebrew); Greek addition of vowels from redundant letters; Latin alphabet from a Greek form in Italy.
  2. Thamis, "The Phoenician Alphabet & Language", World History Encyclopedia, 18 January 2012. https://www.worldhistory.org/article/17/the-phoenician-alphabet–language/ — 22 letters simplified from Egyptian signs, standardized by the end of the 12th century BCE; right to left, vowels omitted; adoption by the Aramaeans in the 9th century BCE; Aramaic alphabet "eventually turned into modern Arabic".
  3. Joshua J. Mark, "Phoenicia", World History Encyclopedia, 19 March 2018. https://www.worldhistory.org/Phoenicia/ — Phoenician cities (Tyre, Sidon, Byblos) and maritime trade; Ahiram of Byblos (c. 1000 BCE) and the oldest Phoenician alphabetic inscription.
  4. John Noble Wilford, "Discovery of Egyptian Inscriptions Indicates an Earlier Date for Origin of the Alphabet", The New York Times, 13 November 1999. https://archive.nytimes.com/www.nytimes.com/library/national/science/111499sci-alphabet-origin.html — Wadi el-Hol inscriptions on the Thebes–Abydos road; Semitic script with Egyptian influences; dated 1900–1800 BC.
  5. "Finding sheds new light on the alphabet's origins", Yale Bulletin & Calendar vol. 28 no. 16, December 1999. http://archives.news.yale.edu/v28.n16/story4.html — John Darnell's find in the Wadi el-Hol; the ox-head sign "aleph" becoming alpha and A.
  6. Herodotus, The Histories, Book 5, chapter 58, trans. A. D. Godley, Perseus Digital Library. https://www.perseus.tufts.edu/hopper/text?doc=Hdt.+5.58 — Phoenicians with Cadmus brought the alphabet to Greece; Ionians adopted it with small changes and called the letters Phoenician.
  7. Stefan Baums and Andrew Glass, Gandhari.org (Gāndhārī Language and Literature). https://gandhari.org/ — Gāndhārī attested from the 3rd century BCE to the 5th century CE, homeland in the Peshawar valley.
  8. "Ahiram sarcophagus", Wikipedia (pointer). https://en.wikipedia.org/wiki/Ahiram_sarcophagus — found 1923 by Pierre Montet at Byblos; 38-word inscription; dating debate (13th century, c. 1000, c. 850 BCE).
  9. "Phoenician alphabet", Wikipedia (pointer). https://en.wikipedia.org/wiki/Phoenician_alphabet — script in use c. 1050–146 BC.
  10. "Kharosthi", Wikipedia (pointer). https://en.wikipedia.org/wiki/Kharosthi — script of Gandhara derived from Aramaic.
  11. "Urdu alphabet", Wikipedia (pointer). https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_alphabet — descent through Aramaic, Nabataean, Arabic and Perso-Arabic.
  12. "World's Oldest Alphabet Discovered", Scientific American, November 2024. https://www.scientificamerican.com/article/worlds-oldest-alphabet-discovered/ — clay cylinders from Umm el-Marra, Syria (c. 2400 BCE) proposed as alphabetic writing; the claim is debated (fact-check 20 Oct 2026).

100 بڑی دریافتیں اور ایجادات: تمام تحریریں ←