خوردبین: ننھی دنیا کی پہلی کھڑکی
ایک مکھی کا پر، پیاز کی باریک جھلی یا پانی کا ایک قطرہ: آنکھ سے دیکھیں تو ان میں کچھ خاص نظر نہیں آتا۔ مگر خوردبین کے نیچے یہی چیزیں ایک پوری دنیا بن جاتی ہیں، جس میں باریک خانے،…
ایک مکھی کا پر، پیاز کی باریک جھلی یا پانی کا ایک قطرہ: آنکھ سے دیکھیں تو ان میں کچھ خاص نظر نہیں آتا۔ مگر خوردبین کے نیچے یہی چیزیں ایک پوری دنیا بن جاتی ہیں، جس میں باریک خانے، رگیں اور حرکت کرتے ننھے جاندار ہیں۔ یہ دنیا ہمیشہ سے موجود تھی، مگر اسے دیکھنے کی کھڑکی سولھویں صدی کے آخر میں نیدرلینڈز کی عینک ساز دکانوں میں کھلی۔
عدسوں کا شہر
اس سلسلے کی قسط 43 میں ہم نے دیکھا تھا کہ پڑھنے کی عینک تیرہویں صدی کے آخر میں اٹلی میں بنی، اور اس کے بعد شیشہ گھس کر عدسے بنانا ایک باقاعدہ ہنر بن گیا۔ اگلی قسط میں ہم دیکھیں گے کہ دوربین کی پہلی درخواست نیدرلینڈز کے شہر مڈل برگ (Middelburg) کے ایک عینک ساز نے دی۔ خوردبین کی کہانی بھی اسی شہر سے جڑی ہے۔
امریکن فزیکل سوسائٹی کے جریدے اے پی ایس نیوز میں اس کے سابق مدیر ایلن شوڈوس (Alan Chodos) لکھتے ہیں کہ مرکب خوردبین کا سہرا عام طور پر مڈل برگ کے ایک عینک ساز ہانس یانسن (Hans Janssen) کے بیٹے زکریاس یانسن (Zacharias Janssen) کے سر باندھا جاتا ہے۔ چونکہ زکریاس 1590ء کی دہائی میں ابھی نوعمر تھے، اس لیے مؤرخین کا خیال ہے کہ ان کے والد کا کردار بھی اہم رہا ہوگا۔
اس ایجاد کی تاریخ کا اندازہ ایک خط سے لگایا جاتا ہے۔ اے پی ایس نیوز کے مطابق یانسن خاندان کے پرانے دوست، ڈچ سفارت کار ولیم بوریل (William Boreel) نے 1650ء کی دہائی میں خوردبین کی ابتدا کے بارے میں لکھا، اور اسی بنیاد پر مؤرخین اسے 1590ء کی دہائی کے اوائل کی ایجاد مانتے ہیں۔
موجد کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا: بعض مؤرخین یانسن خاندان اور دوربین والے ہانس لپرہے (Hans Lippershey) دونوں کو ایک ہی زمانے میں الگ الگ اس کا موجد مانتے ہیں۔
نلکی، دو عدسے اور تین سے نو گنا
یہ پہلی خوردبینیں کیسی تھیں؟ اے پی ایس نیوز کے مطابق یانسن طرز کی خوردبین پیتل کی ایک تپائی پر کھڑی نلکی تھی جس کے ایک سرے پر مقعر (اندر کو دبا ہوا) اور دوسرے سرے پر محدب (باہر کو ابھرا ہوا) عدسہ لگا تھا۔ عدسوں کا یہ جوڑا روشنی کو موڑ کر چیز کو تین سے نو گنا تک بڑا دکھاتا تھا۔
آج کے حساب سے یہ بہت معمولی بڑائی ہے، مگر اصل بات یہ تھی کہ ایک عدسے کے بجائے دو عدسے ایک ساتھ کام کر رہے تھے۔ اسی لیے اسے "مرکب" خوردبین کہتے ہیں: ایک عدسہ چیز کی بڑی تصویر بناتا ہے اور دوسرا اس تصویر کو مزید بڑا کر کے آنکھ تک پہنچاتا ہے۔ آج کی تجربہ گاہوں کی خوردبینیں بھی اسی بنیادی اصول پر چلتی ہیں۔
اے پی ایس نیوز لکھتا ہے کہ یانسن کی کوئی ابتدائی خوردبین باقی نہیں بچی۔ البتہ مڈل برگ کے ایک عجائب گھر میں 1595ء کی تاریخ والی ایک خوردبین موجود ہے جس پر یانسن کا نام ہے۔ اس میں تین نلکیاں ہیں جو ایک دوسرے میں سرکتی ہیں، یہ ہاتھ میں پکڑی جاتی ہے، اور پوری کھینچ دی جائے تو دس گنا تک بڑا دکھاتی ہے۔
گیلیلیو کی "چھوٹی عینک"
دوربین بنانے والے اطالوی سائنس دان گیلیلیو گیلیلی (Galileo Galilei) نے بھی جلد ہی محسوس کر لیا کہ عدسوں کے یہی جوڑے قریب کی چیزوں کو بھی بڑا دکھا سکتے ہیں۔ فلورنس کے میوزیو گیلیلیو (Museo Galileo) کے مطابق گیلیلیو نے 1623ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب "اِل سگیاتورے" (Il Saggiatore) میں ایک ایسی دوربین کا ذکر کیا جسے بدل کر بہت قریب کی چیزیں دیکھنے کے قابل بنایا گیا تھا۔ ان کی ابتدائی خوردبینوں میں بھی ایک مقعر اور ایک محدب عدسہ ایک سخت نلکی میں لگا ہوتا تھا۔
اس آلے کا کوئی ایک نام نہیں تھا۔ اطالوی میں اسے "اوکیالینو" (occhialino)، یعنی "چھوٹی عینک"، اور کچھ دوسرے نام دیے جاتے تھے۔ میوزیو گیلیلیو کے مطابق 1625ء میں روم کی ایک علمی مجلس کے رکن، طبیب اور ماہرِ نباتات یوہانس فابر (Johannes Faber) نے اسے "مائیکروسکوپ" کا نام دیا۔ یہ لفظ یونانی کے دو حصوں سے بنا ہے: "مائیکرو" یعنی چھوٹا، اور "سکوپ" یعنی دیکھنا۔ اردو میں اسی کو "خوردبین" کہتے ہیں: "خُرد" یعنی چھوٹا، اور "بین" یعنی دیکھنے والا۔
بہتر عدسے، گہری نظر
ابتدائی خوردبینیں بہت کم بڑا دکھاتی تھیں، اس لیے اگلی صدی میں سائنس دانوں اور ہنرمندوں نے انہیں بہتر بنانے پر کام کیا۔ اے پی ایس نیوز کے مطابق انگریز سائنس دان رابرٹ ہُک (Robert Hooke) ان اولین لوگوں میں تھے جنہوں نے اس کے ڈیزائن میں نمایاں بہتری کی؛ ان کی خوردبینیں لندن کے آلہ ساز کرسٹوفر کاک (Christopher Cock) نے بنائیں، مگر ان کے عدسوں کی خامیاں تصویر کو دھندلا دیتی تھیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سب سے تیز نظر ایک سادہ آلے نے دی۔ اے پی ایس نیوز کے مطابق ڈیلفٹ کے انتونی وان لیوین ہُک (Antonie van Leeuwenhoek) نے صرف ایک چھوٹے سے عدسے کی مدد سے چیزوں کو 270 گنا تک بڑا کر کے دیکھا۔ ہُک اور لیوین ہُک کی دریافتیں، یعنی خلیہ اور خرد نامیے، اس سلسلے کی آنے والی قسطوں کا موضوع ہیں۔
چھوٹی نلکی، بڑا اثر
مڈل برگ کی دکان سے نکلی تین سے نو گنا والی نلکی نے حیاتیات، کیمیا اور طبیعیات کا رخ بدل دیا۔ اے پی ایس نیوز کے مطابق بیسویں صدی میں ایسی خوردبینیں آئیں جن میں بڑائی بدلنے پر بھی تصویر صاف رہتی ہے، اور بعد میں روشنی دینے والے رنگوں اور ڈیجیٹل تصویروں نے اسے اور طاقتور بنا دیا۔ آج کوئٹہ کے کسی اسکول کی تجربہ گاہ میں جب کوئی طالب علم پہلی بار پیاز کی جھلی کو خوردبین کے نیچے دیکھتا ہے، تو وہ اسی کھڑکی سے جھانک رہا ہوتا ہے جو چار سو سال سے زیادہ پہلے دو عدسوں نے کھولی تھی۔
ماخذ
- Alan Chodos, "This Month in Physics History: Lens crafters circa 1590: invention of the microscope", APS News, American Physical Society (March 2004). https://www.aps.org/apsnews/2004/03/lens-crafters-1590-invention-microscope — Zacharias Janssen, son of spectacle maker Hans Janssen of Middelburg; father probably played a vital role; some historians give Janssens and Lippershey concurrent credit; dating to the early 1590s through diplomat William Boreel's account in the 1650s; tube on a brass tripod, concave and convex lens, three to nine times; no early Janssen models survive; Middelburg museum microscope dated 1595 with the Janssen name, three tubes, up to ten times; Hooke's improvements, instruments by Christopher Cock, aberrations; Leeuwenhoek's single lens up to 270 times; twentieth-century focus-keeping instruments, fluorescent labelling, digital imaging.
- Museo Galileo (Istituto e Museo di Storia della Scienza), Florence, "Galileo's microscope: the compound microscope". https://brunelleschi.imss.fi.it/esplora/microscopio/dswmedia/storia/estoria1_st.html — Il Saggiatore published 1623 mentions a telescope modified to see objects very close; first Galilean microscopes with a concave and a convex lens in a rigid tube; Johannes Faber of the Lincei named it "microscope" in 1625; earlier names occhialino, cannoncino, perspicillo, occhiale.
- Museo Galileo, "Johannes Faber", biography. https://catalogue.museogalileo.it/biography/JohannesFaber.html — Faber (1574-1629), doctor and botanist in Rome, member of the Accademia dei Lincei; first to propose the term "microscope" for Galileo's occhialino.


