رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 14° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر قومی اتحاد ضروری ہے: سینیٹ میں رانا ثنا اللہ کا خطابخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولیسینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیاپی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ بنوں سے گرفتار، ویڈیو سامنے آگئیعالمی ادارہ خوراک کا غزہ میں غذائی امداد ایک تہائی کم کرنے کا اعلان، 11 لاکھ افراد کو امداد ملے گینیتن یاہو: 7 اکتوبر کو 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت 40 ہزار امریکیوں کے قتل کے برابر تھیراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغامروس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

جارج ہیڈلی: ویسٹ انڈیز کے پہلے عظیم بلے باز

1930ء کی دہائی میں جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم ابھی ٹیسٹ کرکٹ میں قدم جما رہی تھی، اس کی بیٹنگ کا سارا بوجھ ایک دبلے پتلے، پھرتیلے بلے باز کے کندھوں پر ہوتا تھا۔ یہ جمیکا کے جارج ہیڈلی (George…

جارج ہیڈلی: ویسٹ انڈیز کے پہلے عظیم بلے باز
فائل فوٹو: جارج ہیڈلی — تصویر: بشکریہ windiescricket.com

1930ء کی دہائی میں جب ویسٹ انڈیز کی ٹیم ابھی ٹیسٹ کرکٹ میں قدم جما رہی تھی، اس کی بیٹنگ کا سارا بوجھ ایک دبلے پتلے، پھرتیلے بلے باز کے کندھوں پر ہوتا تھا۔ یہ جمیکا کے جارج ہیڈلی (George Headley) تھے۔ انہوں نے صرف 22 ٹیسٹ میچ کھیلے، مگر 60.83 کی اوسط سے 2190 رنز بنائے اور 10 سنچریاں اسکور کیں1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ کھیل کے ہر درجے پر رنز کا انبار لگاتے رہے اور انہوں نے ویسٹ انڈیز کے آنے والے کھلاڑیوں کی کئی نسلوں کے لیے معیار قائم کیا2۔

ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز

جارج الفانسو ہیڈلی 30 مئی 1909ء کو وسطی امریکہ کے ملک پاناما کے شہر کولون میں پیدا ہوئے، جہاں ان کے والد پاناما نہر کی تعمیر میں کام کر رہے تھے۔ ان کی پہلی زبان ہسپانوی تھی؛ 10 برس کی عمر میں انہیں انگریزی سیکھنے کے لیے جمیکا بھیج دیا گیا، اور ارادہ یہ تھا کہ وہ آگے چل کر امریکہ میں دندان سازی کی تعلیم حاصل کریں گے2۔

ویسٹ انڈیز کیریبین کے کئی جزیروں اور ملکوں کی مشترکہ ٹیم ہے، اور ہر جزیرہ اپنی الگ ٹیم کے ساتھ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتا ہے۔ اسکول کے زمانے میں ہیڈلی کو کرکٹ سے عشق ہو گیا۔ وزڈن کے مطابق امریکہ جانے کے لیے ان کے کاغذات میں تاخیر ہوئی، اور اسی انتظار کے دوران انہیں 1928ء کے آغاز میں جمیکا آنے والی ایک انگلش ٹیم کے خلاف کھلایا گیا۔ دوسرے میچ میں ان کی ڈبل سنچری نے فیصلہ کر دیا کہ وہ دندان ساز نہیں، کرکٹر بنیں گے۔ اس کے باوجود 1928ء کے دورۂ انگلینڈ کے لیے انہیں منتخب نہیں کیا گیا2۔

پہلی ہی سیریز میں دھوم

11 جنوری 1930ء کو برج ٹاؤن میں انگلینڈ کے خلاف اپنے پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے 21 اور 176 رنز بنائے۔ تیسرے ٹیسٹ میں، جو 21 فروری 1930ء کو جارج ٹاؤن میں شروع ہوا، انہوں نے 114 اور 112 رنز بنائے اور ایک ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچری بنانے والے پہلے ویسٹ انڈین بلے باز بن گئے13۔ یہی میچ ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ تاریخ کی پہلی فتح تھی، جو 289 رنز سے حاصل ہوئی2۔

سیریز کا آخری ٹیسٹ کنگسٹن میں "ٹائم لیس" تھا، یعنی اس کے لیے دنوں کی کوئی حد مقرر نہیں تھی۔ انگلینڈ نے 849 رنز بنائے اور ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے 836 رنز کا ہدف دیا۔ ہیڈلی نے 390 منٹ میں 28 چوکوں کی مدد سے 223 رنز بنائے1۔ بعد میں بارش آ گئی اور میچ برابر رہا۔ اس پہلی سیریز میں انہوں نے 87.80 کی اوسط سے 703 رنز بنائے2۔

1930ء-31ء کے دورۂ آسٹریلیا میں انہوں نے برسبین میں 102 رنز ناٹ آؤٹ اور سڈنی میں 146 منٹ میں 105 رنز بنائے1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق سڈنی کی اس اننگز کے دوران وہ صرف 17 اننگز میں ایک ہزار ٹیسٹ رنز مکمل کر کے اس وقت یہ سنگ میل تیسری تیز ترین رفتار سے عبور کرنے والے بلے باز بنے۔ آسٹریلیا کے مشہور لیگ اسپنر کلیری گرمیٹ (Clarrie Grimmett) نے انہیں لیگ سائیڈ پر کھیلنے والا سب سے مضبوط بلے باز قرار دیا جس کے خلاف انہوں نے بولنگ کی تھی2۔

انگلینڈ، کنگسٹن اور لارڈز

1932ء میں جمیکا آنے والی انگلش ٹیم کے خلاف انہوں نے 344 رنز ناٹ آؤٹ بنائے، جو اس وقت کسی ویسٹ انڈین کا سب سے بڑا فرسٹ کلاس اسکور تھا۔ 1933ء کے انگلش سیزن میں انہوں نے 2320 رنز بنائے، اور وزڈن نے اگلے برس انہیں سال کے بہترین کرکٹرز میں شامل کیا2۔ اسی دورے میں مانچسٹر ٹیسٹ میں انہوں نے 375 منٹ بیٹنگ کر کے 169 رنز ناٹ آؤٹ بنائے1۔

14 مارچ 1935ء کو اپنے ہوم گراؤنڈ کنگسٹن میں انہوں نے انگلینڈ کے خلاف 495 منٹ میں 30 چوکوں کی مدد سے 270 رنز ناٹ آؤٹ بنائے، جو ان کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور ہے1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق یہ اس وقت کسی ویسٹ انڈین کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور تھا، اور اسی اننگز نے انگلینڈ کے خلاف ویسٹ انڈیز کی پہلی سیریز جیت کی بنیاد رکھی2۔

ان کا سب سے مشہور کارنامہ جون 1939ء میں لارڈز میں سامنے آیا۔ 24 جون 1939ء کو شروع ہونے والے ٹیسٹ میں انہوں نے 106 اور 107 رنز بنائے اور لارڈز کے کسی ٹیسٹ میں دو سنچریاں بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔ وزڈن کے مطابق انگلینڈ کے لین ہٹن (Len Hutton)، جنہوں نے اسی موسم میں انہیں کھیلتے دیکھا، کہتے تھے کہ انہوں نے کسی بلے باز کو گیند اتنی دیر سے کھیلتے نہیں دیکھا2۔ اسی سیریز میں انہوں نے مانچسٹر میں 51 اور اوول میں 65 رنز بھی بنائے1۔

جنگ کے بعد

دوسری عالمی جنگ نے ان کے بہترین برس چھین لیے، اور اگلا ٹیسٹ وہ 39 برس کی عمر میں کھیل سکے۔ جنوری 1948ء میں برج ٹاؤن ٹیسٹ میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کی قیادت کی؛ یہ ان کی کپتانی میں واحد ٹیسٹ تھا2۔ اسی برس کے آخر میں انہوں نے بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ کھیلا1۔

جنوری 1954ء میں عوامی مطالبے پر انہیں انگلینڈ کے خلاف کنگسٹن ٹیسٹ میں واپس بلایا گیا۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق جمیکا کے تماشائیوں نے انہیں زبردست داد دی، اور انگلش فیلڈرز نے پیچھے ہٹ کر انہیں پہلا رن آسانی سے لینے دیا، جس پر ہیڈلی نے ٹوپی اتار کر شکریہ ادا کیا2۔ اس آخری ٹیسٹ میں انہوں نے 16 اور 1 رن بنایا1۔

اعداد و شمار

ٹیسٹ
میچ22
رنز2190
بہترین اسکور270 ناٹ آؤٹ
اوسط (بیٹنگ)60.83
سنچریاں / نصف سنچریاں10 / 5
وکٹیں0
بہترین بولنگ–
اوسط (بولنگ)–
اننگز میں پانچ وکٹیں0
بطور کپتان میچ1

ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔

اثر اور یادگار

ہیڈلی کی 10 ٹیسٹ سنچریوں میں سے 8 انگلینڈ کے خلاف تھیں، اور انگلینڈ کے خلاف ان کی اوسط 71.23 رہی1۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں انہوں نے 69.86 کی اوسط سے 9921 رنز اور 33 سنچریاں بنائیں۔ وزڈن کے مطابق وہ درمیانے قد کے، متوازن اور قدموں کے ہلکے بلے باز تھے، بیک فٹ پر بہترین کھیلتے تھے اور شاذ ہی جلد بازی میں کوئی شاٹ کھیلتے؛ گیند کو اتنی درستی سے خالی جگہوں میں بھیجتے کہ ان کے لیے فیلڈ لگانا مشکل ہو جاتا2۔

ان کا انتقال 30 نومبر 1983ء کو کنگسٹن، جمیکا میں ہوا۔ کرکٹ ان کے خاندان میں آگے بھی چلی: ان کے بیٹے رون ہیڈلی (Ron Headley) نے 1973ء میں ویسٹ انڈیز کے لیے دو ٹیسٹ کھیلے اور پوتے ڈین ہیڈلی (Dean Headley) نے انگلینڈ کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی۔ 2009ء میں آئی سی سی نے انہیں کرکٹ ہال آف فیم میں شامل کیا3۔ وزڈن کے الفاظ میں جدید ویسٹ انڈین ٹیموں کی قوت میں ان کے حصے کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا ممکن ہی نہیں2۔

ماخذ

  1. ESPNcricinfo Statsguru, George Headley, Test batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/52050.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/52050.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/52050.html?class=1;template=results;type=bowling
  2. ESPNcricinfo player profile, George Headley (archived copy; Wisden Cricketers' Almanack obituary, timeline and best performances): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/52050.html
  3. ICC Cricket Hall of Fame, George Headley (archived copy, Dec 2025): https://web.archive.org/web/20251206151416/https://www.icc-cricket.com/hall-of-fame/hall-of-famers/hall-of-famer-george-headley

کرکٹ کے عظیم کھلاڑی: تمام تحریریں ←