سعید احمد: بڑی سنچریوں اور شاندار ڈرائیو والے بلے باز
1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں پاکستان کی بیٹنگ کا ایک مضبوط ستون سعید احمد (Saeed Ahmed) تھے۔ وہ وکٹ کے چاروں طرف اسٹروک کھیلتے تھے، مگر ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ان کی ڈرائیو کا کوئی…

1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں پاکستان کی بیٹنگ کا ایک مضبوط ستون سعید احمد (Saeed Ahmed) تھے۔ وہ وکٹ کے چاروں طرف اسٹروک کھیلتے تھے، مگر ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق ان کی ڈرائیو کا کوئی جواب نہ تھا، جو بولر کے فالو تھرو مکمل کرنے سے پہلے ہی سیدھی باؤنڈری کی طرف نکل جاتی تھی2۔ 41 ٹیسٹ میچوں میں 40.41 کی اوسط سے 2991 رنز اور 5 سنچریاں ان کے کیریئر کا خلاصہ ہیں1۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
سعید احمد یکم اکتوبر 1937ء کو جالندھر (Jullundur) میں پیدا ہوئے، جو اب بھارتی پنجاب کا حصہ ہے۔ وہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے تھے اور آف بریک بولنگ بھی کرتے تھے۔ ان کے سوتیلے بھائی یونس احمد (Younis Ahmed) بھی کرکٹر تھے۔ ان کا فرسٹ کلاس کیریئر 1954ء-55ء کے سیزن میں شروع ہوا، اور انہوں نے کراچی، لاہور، پنجاب، پی آئی اے اور پاکستان ریلویز سمیت کئی ٹیموں کی نمائندگی کی2۔
ان کا ٹیسٹ کیریئر 17 جنوری 1958ء کو برج ٹاؤن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف شروع ہوا۔ سعید نے پہلی اننگز میں 13 اور دوسری اننگز میں 65 رنز بنائے1۔
پہلی سیریز میں 508 رنز
پہلی ہی سیریز نے سعید احمد کو پاکستان کی بیٹنگ کا اہم حصہ بنا دیا۔ ویسٹ انڈیز کے اس دورے میں انہوں نے 5 ٹیسٹ میچوں میں 56.44 کی اوسط سے 508 رنز بنائے2۔ پورٹ آف اسپین میں 64 اور کنگسٹن میں 52 رنز کے بعد، 13 مارچ 1958ء کو جارج ٹاؤن میں انہوں نے 16 چوکوں کے ساتھ 150 رنز بنائے، جو ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی۔ سیریز کے آخری ٹیسٹ میں پورٹ آف اسپین میں وہ 97 رنز پر آؤٹ ہوئے اور دوسری سنچری سے صرف 3 رنز دور رہ گئے1۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق انہیں بڑی سنچریاں بنانے کا شوق تھا: ان کی 5 ٹیسٹ سنچریوں میں سے 3 ڈیڑھ سو یا اس سے زیادہ رنز کی تھیں2۔ جارج ٹاؤن کے 150 کے بعد، 21 نومبر 1959ء کو لاہور میں آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے 166 رنز بنائے، اور اسی سیریز میں کراچی میں 91 رنز کی اننگز کھیلی1۔
بھارت، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ
1960ء-61ء میں بھارت کے دورے پر سعید احمد کا بلا خوب چلا۔ 2 دسمبر 1960ء کو بمبئی کے بریبورن اسٹیڈیم میں 121 اور 13 جنوری 1961ء کو چنئی (مدراس) میں 103 رنز کے ساتھ انہوں نے اس سیریز میں 51.11 کی اوسط سے 460 رنز بنائے1۔
انگلینڈ کے خلاف وہ 15 ٹیسٹ کھیلے اور 6 نصف سنچریاں بنائیں، جن میں اکتوبر 1961ء میں لاہور میں 74 رنز ان کا بہترین اسکور ہے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 1962ء کے انگلینڈ کے دورے میں انہوں نے سیم کرنے والی وکٹوں پر تیز بولروں کو بہتر طور پر دیکھنے کے لیے اپنا سیدھا اسٹانس بدل کر قدرے جھک کر کھڑا ہونا شروع کیا، مگر اس تبدیلی کا فائدہ محدود رہا2۔ اس کے باوجود اس دورے میں انہوں نے برمنگھم، لیڈز اور ناٹنگھم میں 65، 54 اور 64 رنز کی اننگز کھیلیں1۔
ان کے کیریئر کی سب سے بڑی اننگز اپریل 1965ء میں آئی۔ 9 اپریل کو کراچی میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف انہوں نے 350 منٹ بیٹنگ کر کے 18 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 172 رنز بنائے۔ یہ میچ پاکستان نے جیتا، اور جیتے گئے ٹیسٹ میچوں میں ان کی بیٹنگ اوسط 82.5 رہی۔ اسی سیزن میں انہوں نے کرائسٹ چرچ میں 87 اور راولپنڈی میں 68 رنز بھی بنائے1۔
کپتانی اور آخری برس
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 1968ء-69ء کے سیزن میں سعید احمد نے 3 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی کپتانی کی اور تینوں میچ ڈرا ہوئے2۔ انہی میچوں میں سے ایک میں، 21 فروری 1969ء کو لاہور میں انگلینڈ کے خلاف انہوں نے اپنی آف اسپن سے 64 رنز کے عوض 4 وکٹیں لیں، جو ان کی بہترین ٹیسٹ بولنگ ہے۔ بطور کپتان انہوں نے 24.88 کی اوسط سے 9 وکٹیں حاصل کیں1۔
ان کا آخری ٹیسٹ 29 دسمبر 1972ء کو میلبرن میں آسٹریلیا کے خلاف شروع ہوا، جس کی پہلی اننگز میں انہوں نے 73 گیندوں پر 50 رنز بنائے1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | |
|---|---|
| میچ | 41 |
| رنز | 2991 |
| بہترین اسکور | 172 |
| اوسط (بیٹنگ) | 40.41 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 5 / 16 |
| وکٹیں | 22 |
| بہترین بولنگ | 4/64 |
| اوسط (بولنگ) | 36.45 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 0 |
| بطور کپتان میچ | 3 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق سعید احمد ایک "زبردست کھلاڑی" تھے، اور 40 سے زیادہ کی ٹیسٹ اوسط اس کی گواہی دیتی ہے2۔ ویسٹ انڈیز میں ان کی اوسط 56.44 اور بھارت میں 51.11 رہی، یعنی انہوں نے اپنے بہترین رنز ملک سے باہر، مضبوط بولنگ کے سامنے بنائے۔ ملک سے باہر 25 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 3 سنچریوں کے ساتھ 1830 رنز بنائے1۔
سعید احمد کا انتقال 20 مارچ 2024ء کو لاہور میں ہوا3۔ پاکستان کی ابتدائی ٹیسٹ تاریخ کے بلے بازوں میں ان کا نام ان کی بڑی سنچریوں اور سیدھی ڈرائیو کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Saeed Ahmed, Test batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42603.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42603.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42603.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42603.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings
- ESPNcricinfo player profile, Saeed Ahmed (archived copy; profile essay by Lawrence Booth): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/42603.html
- ESPNcricinfo player profile, Saeed Ahmed (archived 2025 copy; date and place of death): https://web.archive.org/web/2025/https://www.espncricinfo.com/cricketers/saeed-ahmed-42603



