خان محمد: پاکستان کی پہلی ٹیسٹ وکٹ لینے والے بولر
16 اکتوبر 1952ء کو دہلی میں پاکستان اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہا تھا۔ نئی گیند لاہور کے ایک فاسٹ میڈیم بولر کے ہاتھ میں تھی، اور انہوں نے بھارتی اوپنر پنکج رائے (Pankaj Roy) کو 7 کے اسکور پر…

16 اکتوبر 1952ء کو دہلی میں پاکستان اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہا تھا۔ نئی گیند لاہور کے ایک فاسٹ میڈیم بولر کے ہاتھ میں تھی، اور انہوں نے بھارتی اوپنر پنکج رائے (Pankaj Roy) کو 7 کے اسکور پر بولڈ کر کے پاکستان کی تاریخ کی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی۔ یہ بولر خان محمد (Khan Mohammad) تھے۔ انجریوں نے ان کا کیریئر مختصر کر دیا، مگر 13 ٹیسٹ میچوں میں 23.92 کی اوسط سے 54 وکٹیں ان کی صلاحیت کا پتا دیتی ہیں1۔ فضل محمود (Fazal Mahmood) کے ساتھ نئی گیند سنبھال کر انہوں نے پاکستان کرکٹ کے قدم جمانے میں اہم کردار ادا کیا2۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
خان محمد یکم جنوری 1928ء کو لاہور میں پیدا ہوئے اور شہر کے پرانے حصے میں پلے بڑھے۔ انہوں نے سینٹرل ماڈل ہائی اسکول لاہور میں کرکٹ کھیلنا شروع کی، مگر ان کی اصل پہچان کلب کرکٹ سے بنی، جہاں سالانہ میچوں میں ان کی عمدہ بولنگ نے سب کی توجہ کھینچ لی2۔
19 برس کی عمر میں انہیں رنجی ٹرافی میں ناردرن انڈیا کی ٹیم میں شامل کیا گیا، اور 1946ء-47ء کے سیزن کے تین زونل میچوں میں انہوں نے 10 وکٹیں لے کر فرسٹ کلاس کرکٹ میں قدم رکھا۔ اس کے بعد کے دو سیزن میں وہ پنجاب یونیورسٹی کی ٹیم کا مستقل حصہ رہے2۔
1948ء میں جب جان گوڈارڈ (John Goddard) کی ویسٹ انڈین ٹیم لاہور میں ایک غیر سرکاری ٹیسٹ کھیلنے آئی تو خان محمد بارہویں کھلاڑی تھے۔ مگر سیلون (اب سری لنکا) کے دورے پر انہوں نے مرطوب موسم کا خوب فائدہ اٹھایا اور دو غیر سرکاری ٹیسٹ میچوں میں 14 وکٹیں لے کر دورے کی بولنگ اوسط میں سرفہرست رہے۔ 1951ء-52ء میں ایم سی سی (MCC) کی ٹیم کے خلاف غیر سرکاری ٹیسٹ میچوں میں بھی انہوں نے اچھی بولنگ کی؛ کراچی میں پاکستان کی تاریخی جیت میں ان کا حصہ 7 وکٹیں تھا۔ 1951ء میں انہوں نے انگلش کاؤنٹی سمرسیٹ (Somerset) کی طرف سے جنوبی افریقہ کی دورہ کرنے والی ٹیم کے خلاف ایک میچ بھی کھیلا2۔
انداز اور ٹیسٹ کرکٹ
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق خان محمد کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ رفتار پیدا کرتے ہوئے بھی لائن اور لینتھ پر قابو رکھتے تھے، اور ان میں غیر معمولی دم خم تھا۔ ان کی بہت سی وکٹیں بولڈ اور ایل بی ڈبلیو کی صورت میں آئیں، جس سے لگتا تھا کہ وہ بہت تیز بولر ہیں؛ مگر اسی مضمون کے مطابق وہ دراصل فاسٹ میڈیم تھے، فضل محمود سے کچھ تیز، اور مرطوب موسم میں گیند کو خوب سوئنگ کرتے تھے2۔
دہلی کے پہلے ٹیسٹ میں 20 اوورز میں 52 رنز دے کر 2 وکٹیں لینے کے بعد وہ انجری کا شکار ہو گئے اور باقی سیریز نہ کھیل سکے۔ 1954ء کے انگلینڈ کے دورے میں لارڈز ٹیسٹ میں فضل محمود کے ساتھ مسلسل بولنگ کرتے ہوئے انہوں نے 61 رنز دے کر 5 وکٹیں لیں12۔
ہوم سیریز میں عروج
خان محمد کا بہترین دور 1954ء-55ء اور 1955ء-56ء کی ہوم سیریز تھیں۔ 1955ء کے اوائل میں بھارت کے خلاف 4 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 22 وکٹیں لیں۔ اس سیریز میں ڈھاکہ میں 42 رنز کے عوض 4، بہاولپور میں 74 رنز کے عوض 5، پشاور میں 79 رنز کے عوض 4 اور کراچی میں 73 رنز کے عوض 5 وکٹیں ان کے نام رہیں1۔
اسی سال کے آخر میں نیوزی لینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 15.76 کی اوسط سے 13 وکٹیں لیں۔ 7 نومبر 1955ء کو ڈھاکہ میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میں بارش سے بھیگی میٹنگ وکٹ پر گیند سوئنگ ہو رہی تھی اور نیچی رہ رہی تھی2۔ وہاں انہوں نے 16.2 اوورز میں صرف 21 رنز دے کر 6 وکٹیں لیں، جو ان کی بہترین ٹیسٹ بولنگ ہے، اور میچ میں ان کی بولنگ 41 رنز کے عوض 8 وکٹیں رہی1۔
اکتوبر 1956ء میں کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف پہلی اننگز میں انہوں نے ایک بار پھر فضل محمود کے ساتھ مسلسل بولنگ کی۔ اس میچ میں انہوں نے 43 رنز کے عوض 4 اور مجموعی طور پر 112 رنز کے عوض 7 وکٹیں لیں، اور پاکستان نے یہ ٹیسٹ جیت لیا۔ یہ ان کا آخری ہوم ٹیسٹ تھا2۔ 1958ء میں ویسٹ انڈیز کے دورے پر وہ صرف 2 ٹیسٹ کھیل سکے، اور 26 مارچ 1958ء کو پورٹ آف اسپین میں ان کا ٹیسٹ کیریئر ختم ہوا1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | |
|---|---|
| میچ | 13 |
| رنز | 100 |
| بہترین اسکور | 26 ناٹ آؤٹ |
| اوسط (بیٹنگ) | 10 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 0 / 0 |
| وکٹیں | 54 |
| بہترین بولنگ | 6/21 |
| اوسط (بولنگ) | 23.92 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 4 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
خان محمد کا ٹیسٹ کیریئر صرف 13 میچوں پر مشتمل رہا، مگر پاکستان کی وکٹوں پر کھیلے گئے 8 ٹیسٹ میچوں میں ان کی بولنگ اوسط 15.88 تھی1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ اپنے وقت میں پاکستان کے صفِ اول کے فاسٹ بولر تھے، مگر بار بار کی انجریوں اور انگلینڈ میں لیگ کرکٹ کی مصروفیات کی وجہ سے وہ اتنے ٹیسٹ نہ کھیل سکے جتنے ان کی صلاحیت کا تقاضا تھا2۔
کھیل چھوڑنے کے بعد انہوں نے ایم سی سی کے کوچنگ کورس کیے اور بیس برس سے زیادہ عرصے تک ایم سی سی کے انڈور اسکول میں کوچ رہے۔ 1960ء کی دہائی کے اوائل سے انہوں نے پاکستان، سری لنکا اور کینیڈا میں بھی کوچنگ کی ذمہ داریاں سنبھالیں2۔
خان محمد 4 جولائی 2009ء کو لندن میں انتقال کر گئے2۔ پاکستان کی ٹیسٹ تاریخ کی پہلی وکٹ ہمیشہ ان کے نام رہے گی، اور فضل محمود کے ساتھ ان کی بولنگ نے ابتدائی برسوں میں نئی ٹیم کی بولنگ کا بوجھ اٹھایا۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Khan Mohammad, Test batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41043.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41043.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41043.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41043.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings
- ESPNcricinfo player profile, Khan Mohammad (archived copy; profile essay by M. Shoaib Ahmed): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/41043.html



