سعید انور: کلائی کا جادوگر اوپنر
کچھ بلے باز رنز کے ڈھیر سے پہچانے جاتے ہیں اور کچھ اپنے انداز سے۔ سعید انور (Saeed Anwar) دونوں حوالوں سے یاد رکھے جاتے ہیں۔ بائیں ہاتھ کے اس اوپنر کی کلائیوں میں ایسی لچک تھی کہ تیز ترین…

کچھ بلے باز رنز کے ڈھیر سے پہچانے جاتے ہیں اور کچھ اپنے انداز سے۔ سعید انور (Saeed Anwar) دونوں حوالوں سے یاد رکھے جاتے ہیں۔ بائیں ہاتھ کے اس اوپنر کی کلائیوں میں ایسی لچک تھی کہ تیز ترین گیند بھی ان کے بلے سے لگ کر آف سائیڈ پر فیلڈروں کے بیچ سے نکل جاتی، اور ان کا فلک شاٹ ان کی تقریباً ہر اننگز کی پہچان تھا۔ 1990ء کی دہائی میں وہ پاکستان کی بیٹنگ کی بنیاد تھے، اور ون ڈے میں 20 اور ٹیسٹ میں 11 سنچریاں ان کی مستقل مزاجی کی گواہ ہیں1۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
سعید انور 6 ستمبر 1968ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کلب کی سطح پر کرکٹ کھیلتے تھے2۔ وہ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے اور کبھی کبھار بائیں ہاتھ سے سست اسپن بولنگ بھی کر لیتے تھے۔
ان کا بین الاقوامی کیریئر یکم جنوری 1989ء کو آسٹریلیا کے شہر پرتھ کے واکا گراؤنڈ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے صرف 3 رنز بنائے۔ اس وقت ٹیم کی قیادت عمران خان کر رہے تھے2۔ پہلی بڑی کامیابی ایک سال بعد آئی، جب 17 فروری 1990ء کو ایڈیلیڈ میں سری لنکا کے خلاف انہوں نے صرف 99 گیندوں پر 126 رنز بنائے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی آمد 23 نومبر 1990ء کو فیصل آباد میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوئی، مگر آغاز اچھا نہ رہا اور پہلی اننگز میں وہ کوئی رن نہ بنا سکے1۔
شارجہ کا ہیرو اور ون ڈے کا عروج
شارجہ کا میدان سعید انور کو بہت راس آیا۔ اکتوبر اور نومبر 1993ء میں وہاں کھیلے گئے ایک ٹورنامنٹ میں انہوں نے لگاتار تین میچوں میں سنچریاں بنائیں: 30 اکتوبر کو سری لنکا کے خلاف 107، یکم نومبر کو ویسٹ انڈیز کے خلاف 131 اور اگلے دن پھر سری لنکا کے خلاف 111 رنز1۔
ان کے کیریئر کی سب سے مشہور اننگز 21 مئی 1997ء کو چنئی میں بھارت کے خلاف آئی، جو انڈیپینڈنس کپ کا میچ تھا۔ اس دن انہوں نے 146 گیندوں پر 194 رنز بنائے، جن میں 22 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔ یہ اننگز آج بھی ون ڈے کرکٹ کی یادگار ترین اننگز میں گنی جاتی ہے۔ اگلے برس جنوری 1998ء میں ڈھاکہ میں بھارت ہی کے خلاف ایک ٹورنامنٹ کے فائنل میں 132 گیندوں پر 140 رنز بنا کر انہوں نے پھر اپنی دھاک بٹھائی12۔
1999ء کے عالمی کپ میں انہوں نے لگاتار دو سنچریاں بنائیں: 11 جون کو اوول میں زمبابوے کے خلاف 103 اور 16 جون کو مانچسٹر میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں 113 ناٹ آؤٹ، جس نے پاکستان کو فائنل میں پہنچایا2۔ ان کی آخری ون ڈے سنچری یکم مارچ 2003ء کو سنچورین میں بھارت کے خلاف عالمی کپ کے میچ میں 101 رنز تھی1۔
ٹیسٹ کرکٹ میں مقام
ٹیسٹ میں پہلی سنچری فروری 1994ء میں ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ کے خلاف 169 رنز کی صورت میں آئی، اور اسی برس اگست میں کولمبو میں سری لنکا کے خلاف 136 رنز بنائے۔ اگست 1996ء میں اوول میں انگلینڈ کے خلاف 176 رنز ان کی خوبصورت ترین اننگز میں سے ایک تھی۔ نومبر 1996ء میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں قائم مقام کپتان کی ذمہ داری بھی نبھائی اور راولپنڈی میں 149 رنز بنائے12۔
فروری 1998ء میں ڈربن میں جنوبی افریقہ کے خلاف 118 رنز، اور اکتوبر 1998ء میں آسٹریلیا کے خلاف راولپنڈی میں 145 اور پشاور میں 126 رنز، یعنی ایک ہی سیریز میں دو سنچریاں۔ ان کی بہترین ٹیسٹ اننگز فروری 1999ء میں کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ کے میچ میں بھارت کے خلاف 188 رنز ناٹ آؤٹ تھی؛ وہ اننگز کے آغاز سے آخر تک وکٹ پر موجود رہے اور بیٹ کیری کیا2۔ اس کے بعد برسبین میں آسٹریلیا کے خلاف 119، اور جون 2000ء میں گال میں سری لنکا کے خلاف 123 رنز بنائے1۔
1996ء سے 2000ء کے دوران انہوں نے 7 ٹیسٹ میچوں میں، اور 1995ء سے 2000ء تک 11 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی قیادت کی۔ ان کا آخری ٹیسٹ 29 اگست 2001ء کو ملتان میں بنگلہ دیش کے خلاف تھا، جس میں انہوں نے 101 رنز بنائے۔ آخری ون ڈے 4 مارچ 2003ء کو بلاوایو میں زمبابوے کے خلاف تھا1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | |
|---|---|---|
| میچ | 55 | 247 |
| رنز | 4052 | 8824 |
| بہترین اسکور | 188 ناٹ آؤٹ | 194 |
| اوسط (بیٹنگ) | 45.52 | 39.21 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 11 / 25 | 20 / 43 |
| اسٹرائیک ریٹ (بیٹنگ) | – | 80.67 |
| وکٹیں | 0 | 6 |
| بہترین بولنگ | – | 2/9 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
سعید انور کا شمار ان اوپنرز میں ہوتا ہے جنہوں نے ون ڈے کرکٹ میں اننگز کے آغاز کا انداز بدلا۔ ان کا ون ڈے اسٹرائیک ریٹ 80.67 تھا1، جو اس دور کے اوپنرز کے لیے غیر معمولی سمجھا جاتا تھا۔ وہ پہلے ہی اوورز میں بولروں پر حاوی ہو جاتے، مگر ان کے کھیل میں بھدے پن کا شائبہ تک نہ تھا؛ ہر شاٹ میں ٹائمنگ اور پلیسمنٹ نمایاں ہوتی۔ ان کے ہم عصروں اور مبصرین نے انہیں 1990ء کی دہائی کے سب سے خوش نما بلے بازوں میں شمار کیا2۔
ٹیسٹ کرکٹ میں 45.52 کی اوسط سے 4052 رنز ثابت کرتے ہیں کہ وہ صرف مختصر طرز کی کرکٹ کے کھلاڑی نہ تھے۔ انہوں نے آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کی تیز اور اچھال والی وکٹوں پر بھی سنچریاں بنائیں، جہاں ایشیائی بلے بازوں کو عموماً مشکل پیش آتی ہے1۔
1997ء میں وزڈن نے انہیں سال کے بہترین کرکٹرز میں شامل کیا، اور 2000ء میں حکومتِ پاکستان نے انہیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی دیا2۔ آج بھی جب پاکستان میں کوئی بائیں ہاتھ کا اوپنر کلائی کے زور سے گیند کو کور کی طرف بھیجتا ہے تو پرانے شائقین بے اختیار سعید انور کو یاد کرتے ہیں۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Saeed Anwar, Test and ODI batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42605.html?class=1;template=results;type=batting , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42605.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42605.html?class=1;template=results;type=bowling , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42605.html?class=2;template=results;type=batting , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42605.html?class=2;template=results;type=batting;view=innings , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42605.html?class=2;template=results;type=bowling , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42605.html?class=2;template=results;type=bowling;view=innings
- Wikipedia, "Saeed Anwar", https://en.wikipedia.org/wiki/Saeed_Anwar (for biographical details only)



