جاوید میانداد: شارجہ کے چھکے سے آگے کی کہانی
پاکستان میں کرکٹ کا کوئی بھی شائق 18 اپریل 1986ء کی اس شام کو نہیں بھولا جب شارجہ میں جاوید میانداد (Javed Miandad) نے آخری گیند پر چھکا لگا کر بھارت کے خلاف فائنل جیت لیا۔ مگر میانداد کو صرف…

پاکستان میں کرکٹ کا کوئی بھی شائق 18 اپریل 1986ء کی اس شام کو نہیں بھولا جب شارجہ میں جاوید میانداد (Javed Miandad) نے آخری گیند پر چھکا لگا کر بھارت کے خلاف فائنل جیت لیا۔ مگر میانداد کو صرف ایک چھکے سے پہچاننا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ وہ تقریباً دو دہائیوں تک پاکستانی بیٹنگ کی ریڑھ کی ہڈی رہے، ٹیسٹ اور ون ڈے دونوں میں ہزاروں رنز بنائے، اور اپنی ذہانت، چستی اور مقابلے کے جذبے کی وجہ سے دنیا کے بہترین بیٹسمینوں میں شمار ہوئے۔ آئی سی سی ہال آف فیم کے مطابق بہت سے لوگ انہیں پاکستان کا سب سے بڑا بیٹسمین مانتے ہیں3۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
محمد جاوید میانداد 12 جون 1957ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے گھرانے میں کرکٹ کا شوق عام تھا: ان کے تین بھائی انور میانداد، سہیل میانداد اور بشیر میانداد پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے، اور بھتیجے فیصل اقبال (Faisal Iqbal) نے بعد میں ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ میانداد دائیں ہاتھ سے بیٹنگ اور لیگ بریک بولنگ کرتے تھے2۔
انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز ٹیسٹ سے پہلے ون ڈے میں کیا۔ ان کا پہلا ون ڈے 11 جون 1975ء کو برمنگھم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا1، جو 1975ء کے ورلڈ کپ کا میچ تھا2۔
دھماکہ خیز آغاز
میانداد کا پہلا ٹیسٹ 9 اکتوبر 1976ء کو لاہور میں نیوزی لینڈ کے خلاف تھا، اور اپنی پہلی ہی ٹیسٹ اننگز میں انہوں نے 163 رنز بنا ڈالے۔ اسی سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں، 30 اکتوبر 1976ء کو کراچی میں، انہوں نے 206 رنز کی اننگز کھیلی1۔ صرف دو ٹیسٹ سنچریوں نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان کو ایک غیر معمولی بیٹسمین مل گیا ہے۔
اگلے چند برسوں میں ان کا بلا مسلسل رنز اگلتا رہا۔ 1978ء میں فیصل آباد میں بھارت کے خلاف 154 ناٹ آؤٹ، 1979ء میں کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 160 ناٹ آؤٹ، اور اسی سال پرتھ میں آسٹریلیا کے خلاف 129 ناٹ آؤٹ اس دور کی نمایاں اننگز ہیں1۔ 1982ء میں وزڈن نے انہیں سال کے بہترین کرکٹرز میں شامل کیا2۔
عروج کا دور
14 جنوری 1983ء کو حیدرآباد (سندھ) میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ میں میانداد نے 460 گیندوں پر 280 ناٹ آؤٹ رنز بنائے۔ یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کا سب سے بڑا اسکور ہے۔ نومبر 1984ء میں اسی میدان پر انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ایک ہی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں سنچری بنائی: 104 اور 103 ناٹ آؤٹ۔ اکتوبر 1985ء میں فیصل آباد میں سری لنکا کے خلاف ان کا اسکور 203 ناٹ آؤٹ رہا1۔
1987ء کے دورۂ انگلینڈ میں انہوں نے 6 اگست کو اوول ٹیسٹ میں 521 گیندوں پر 260 رنز کی طویل اننگز کھیلی۔ 1988ء میں ویسٹ انڈیز کے دورے پر، جب میزبان ٹیم کی تیز رفتار بولنگ کا سامنا تھا، انہوں نے جارج ٹاؤن اور پورٹ آف اسپین میں لگاتار دو ٹیسٹ سنچریاں بنائیں: 114 اور 102۔ اسی سال ستمبر میں کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف 211 اور فیصل آباد میں 107 رنز آئے۔ فروری 1989ء میں نیوزی لینڈ کے دورے پر ویلنگٹن میں 118 کے بعد 24 فروری کو آکلینڈ میں انہوں نے 465 گیندوں پر 271 رنز بنائے1۔
میانداد نے 1980ء سے 1993ء کے دوران مختلف ادوار میں 34 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی کپتانی کی، اور ان میچوں میں 50.08 کی اوسط سے رنز بنائے1۔
ون ڈے کرکٹ اور شارجہ کا فائنل
ون ڈے کرکٹ میں میانداد اپنی سمجھ بوجھ کے لیے مشہور تھے۔ وہ وکٹوں کے درمیان تیز دوڑ کر، فیلڈ کے خلا تلاش کر کے اور میچ کی صورتِ حال کو بھانپ کر رنز بناتے تھے۔ 31 دسمبر 1982ء کو لاہور میں بھارت کے خلاف انہوں نے 77 گیندوں پر 119 ناٹ آؤٹ رنز بنائے1، جو ان کا سب سے بڑا ون ڈے اسکور ہے۔
ان کی سب سے مشہور اننگز 18 اپریل 1986ء کو شارجہ میں آسٹرل ایشیا کپ (Austral-Asia Cup) کے فائنل میں آئی۔ بھارت کے خلاف ہدف کے تعاقب میں میانداد ایک سرے پر ڈٹے رہے۔ آخری گیند پر جیت کے لیے ایک بڑی ہٹ درکار تھی، اور انہوں نے چھکا لگا کر پاکستان کو ٹائٹل دلا دیا۔ اس میچ میں انہوں نے 114 گیندوں پر 116 ناٹ آؤٹ رنز بنائے جن میں 3 چھکے شامل تھے1۔ یہ پاکستان کی کسی بڑے ون ڈے ٹورنامنٹ میں پہلی فتح تھی2 اور اس اننگز نے میانداد کو راتوں رات قومی ہیرو بنا دیا۔
1992ء میں وہ عمران خان (Imran Khan) کی قیادت میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے اہم رکن تھے2۔ اسی سال جون میں ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف انہوں نے 153 ناٹ آؤٹ رنز بنائے1، جو ان کی آخری ٹیسٹ سنچری ثابت ہوئی۔
آخری میچ
میانداد کا آخری ٹیسٹ 16 دسمبر 1993ء کو لاہور میں زمبابوے کے خلاف تھا۔ ون ڈے کرکٹ میں ان کا سفر کچھ اور آگے چلا، اور ان کا آخری ون ڈے 9 مارچ 1996ء کو بنگلور میں بھارت کے خلاف تھا1، جو 1996ء کے ورلڈ کپ کا میچ تھا2۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | |
|---|---|---|
| میچ | 124 | 233 |
| رنز | 8832 | 7381 |
| بہترین اسکور | 280 ناٹ آؤٹ | 119 ناٹ آؤٹ |
| اوسط (بیٹنگ) | 52.57 | 41.7 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 23 / 43 | 8 / 50 |
| اسٹرائیک ریٹ | – | 67.01 |
| وکٹیں | 17 | 7 |
| بہترین بولنگ | 3/74 | 2/22 |
| بطور کپتان میچ | 34 | 62 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
میانداد نے ٹیسٹ کرکٹ میں 23 سنچریوں کی مدد سے 8832 رنز 52.57 کی اوسط سے بنائے۔ ان کی اننگز کی فہرست دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ انہوں نے لاہور اور کراچی سے لے کر اوول، آکلینڈ، پرتھ اور جارج ٹاؤن تک ہر طرح کی وکٹ پر سنچریاں بنائیں۔ ون ڈے کرکٹ میں ان کی 50 نصف سنچریاں1 ان کے تسلسل کی گواہ ہیں۔ ان کے کھیلنے کا انداز، یعنی ہر رن کے لیے لڑنا اور آخری گیند تک ہار نہ ماننا، پاکستانی کرکٹ کے مزاج کا حصہ بن گیا۔
حکومتِ پاکستان نے 1986ء میں انہیں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی اور 1992ء میں ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ 2009ء میں انہیں آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا23۔ شارجہ کا وہ چھکا آج بھی ٹیلی وژن پر بار بار دکھایا جاتا ہے، مگر اس کے پیچھے ایک ایسے بیٹسمین کی برسوں کی محنت ہے جس نے پاکستان کو جیتنا سکھایا۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Javed Miandad, Test and ODI batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40879.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40879.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40879.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40879.html?class=2;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40879.html?class=2;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40879.html?class=2;template=results;type=bowling
- Wikipedia, "Javed Miandad", https://en.wikipedia.org/wiki/Javed_Miandad (for biographical details only)
- ICC Cricket Hall of Fame: https://www.icc-cricket.com/hall-of-fame



