عبدالحفیظ کاردار: پاکستان کرکٹ کے پہلے کپتان
جب پاکستان نے 1952ء میں ٹیسٹ کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا تو اس نئی ٹیم کی قیادت عبدالحفیظ کاردار (Abdul Hafeez Kardar) کر رہے تھے [2]۔ انہوں نے پاکستان کے پہلے 23 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کی اور ان…

جب پاکستان نے 1952ء میں ٹیسٹ کرکٹ کی دنیا میں قدم رکھا تو اس نئی ٹیم کی قیادت عبدالحفیظ کاردار (Abdul Hafeez Kardar) کر رہے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے پہلے 23 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کی اور ان میں سے 6 میچ جیتے۔ وزڈن کے مطابق انہیں پاکستانی کرکٹ کی "سرپرست شخصیت" سمجھا جا سکتا ہے، اور ان کی قیادت میں نئی ٹیم نے ہمدردی کے بجائے احترام حاصل کیا2۔ کاردار ان چند کھلاڑیوں میں سے ہیں جنہوں نے دو ملکوں کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی: پہلے بھارت اور پھر پاکستان1۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
عبدالحفیظ کاردار 17 جنوری 1925ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ 1947ء تک وہ صرف عبدالحفیظ (Abdul Hafeez) کے نام سے کھیلتے رہے، اور بعد میں انہوں نے اپنے نام کے ساتھ خاندانی نام کاردار کا اضافہ کیا۔ ان کا فرسٹ کلاس کیریئر 1943ء-44ء کے سیزن میں شروع ہوا اور انہوں نے ناردرن انڈیا، آکسفورڈ یونیورسٹی اور انگلش کاؤنٹی واروکشائر (Warwickshire) سمیت کئی ٹیموں کی نمائندگی کی2۔
ان کا ٹیسٹ کیریئر 22 جون 1946ء کو لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف بھارت کی طرف سے شروع ہوا۔ اپنی پہلی ٹیسٹ اننگز میں آٹھویں نمبر پر آ کر انہوں نے 43 رنز بنائے۔ اس دورے میں انہوں نے بھارت کے لیے 3 ٹیسٹ کھیلے اور 80 رنز بنائے1۔
دورے کے بعد وہ انگلینڈ ہی میں رک گئے اور آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کی۔ وزڈن کے مطابق آکسفورڈ اور واروکشائر کے برسوں میں انہوں نے مارٹن ڈونیلی (Martin Donnelly) اور ٹام ڈولری (Tom Dollery) جیسے کپتانوں سے قیادت کے گر سیکھے، اور واروکشائر کے ساتھ ان کے دو سیزن خاصے کامیاب رہے2۔ یہی تجربہ بعد میں پاکستان کی کپتانی میں ان کے کام آیا۔
کھیل کا انداز
کاردار بائیں ہاتھ سے بیٹنگ اور بائیں ہاتھ سے بولنگ کرتے تھے۔ وزڈن نے ان کی بیٹنگ کو بے خوف اور منفرد قرار دیا ہے: ان کا عام ردِعمل یہ ہوتا تھا کہ پہلی ہی گیند پر وکٹ سے آگے بڑھیں اور گیند کو بولر کے سر کے اوپر سے سیدھا باہر بھیج دیں۔ ان کی بولنگ کے بارے میں وزڈن لکھتا ہے کہ اچھی وکٹ پر وہ کفایت سے رنز دیتے اور خراب وکٹ پر انتہائی خطرناک ثابت ہوتے تھے2۔
اعداد بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا اکانومی ریٹ 2.11 رہا، اور پاکستان کی وکٹوں پر کھیلے گئے 9 ٹیسٹ میچوں میں یہ صرف 1.25 تھا۔ 1955ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 15.1 کی اوسط سے 10 وکٹیں لیں، اور اسی سیریز میں 73 رنز کے عوض 5 وکٹیں ان کی بہترین میچ بولنگ رہی1۔
پاکستان کی کپتانی
1952ء میں بھارت کے خلاف پاکستان کے پہلے ٹیسٹ میچ میں کاردار کپتان تھے2۔ اسی دورے میں 28 نومبر 1952ء کو چنئی (مدراس) میں انہوں نے 79 رنز بنائے۔ 1955ء میں بھارت کی ٹیم پاکستان آئی تو 26 فروری کو کراچی میں شروع ہونے والے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں انہوں نے 93 رنز بنائے، جو ان کے ٹیسٹ کیریئر کا سب سے بڑا اسکور ہے1۔
اکتوبر 1956ء میں کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف واحد ٹیسٹ میں انہوں نے 69 رنز کی اننگز کھیلی، اور یہ میچ پاکستان نے جیتا۔ 1958ء کے ویسٹ انڈیز کے دورے میں 5 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے 31.62 کی اوسط سے 253 رنز بنائے، جن میں کنگسٹن میں 57 اور جارج ٹاؤن میں 56 رنز کی اننگز شامل ہیں۔ ان کا آخری ٹیسٹ 26 مارچ 1958ء کو پورٹ آف اسپین میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا، جس میں انہوں نے 44 رنز بنائے1۔
وزڈن کے مطابق 23 میچوں میں ان کی کپتانی کے دوران پاکستان نے اس وقت کی تمام ٹیسٹ ٹیموں کو شکست دی، سوائے جنوبی افریقہ کے، جس سے پاکستان کا مقابلہ ہی نہیں ہوا2۔ ایک نئی ٹیم کے لیے، جس نے صرف چند برس پہلے ٹیسٹ کرکٹ شروع کی تھی، یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔ بطور کپتان انہوں نے 24.91 کی اوسط سے 847 رنز بنائے اور 21 وکٹیں حاصل کیں1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | |
|---|---|
| میچ | 26 |
| رنز | 927 |
| بہترین اسکور | 93 |
| اوسط (بیٹنگ) | 23.76 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 0 / 5 |
| وکٹیں | 21 |
| بہترین بولنگ | 3/35 |
| اوسط (بولنگ) | 45.42 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 0 |
| بطور کپتان میچ | 23 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔ ان میں بھارت کی طرف سے کھیلے گئے 3 ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔
اثر اور یادگار
کھیل چھوڑنے کے بعد بھی کاردار پاکستان کرکٹ سے جڑے رہے۔ وہ چیف سلیکٹر رہے اور 1972ء سے 1977ء تک پاکستان کرکٹ بورڈ آف کنٹرول کے صدر رہے۔ وزڈن کے مطابق انہوں نے پاکستانی کرکٹ کے انتظام کو جدید خطوط پر استوار کیا، بھاری بھرکم کمیٹیوں کے خاتمے اور ایشیا میں کرکٹ کے پھیلاؤ کی بات کی، اور وہ غیر جانبدار امپائروں کے ابتدائی حامیوں میں سے تھے۔ وزڈن یہ بھی لکھتا ہے کہ وہ تنقید پر جلد برہم ہو جاتے تھے، مگر ساتھ ہی انہیں ایک دور اندیش منتظم قرار دیتا ہے جس کی بہت سی تجاویز بعد میں عام طور پر تسلیم کی گئیں2۔
عبدالحفیظ کاردار 21 اپریل 1996ء کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے2۔ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کے ابتدائی برسوں میں جو خود اعتمادی نظر آئی، اس کی بنیاد بڑی حد تک ان کی قیادت نے رکھی۔ پاکستان کے پہلے ٹیسٹ کھلاڑیوں کی نسل کو ایک ٹیم کی شکل دینا ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، اور پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا پہلا باب ان کے نام سے شروع ہوتا ہے۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Abdul Hafeez Kardar, Test batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41030.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41030.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41030.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/41030.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings
- ESPNcricinfo player profile, Abdul Hafeez Kardar (archived copy; profile essay from Wisden Cricketers' Almanack obituary): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/41030.html







