عمران خان: فاسٹ بولر، آل راؤنڈر اور 1992ء کا فاتح کپتان
25 مارچ 1992ء کی رات میلبرن کے وسیع اسٹیڈیم میں جب پاکستان نے انگلینڈ کو ہرا کر پہلی مرتبہ کرکٹ کا عالمی کپ جیتا تو ٹیم کی قیادت عمران خان (Imran Khan) کر رہے تھے [2]۔ یہ لمحہ ایک طویل…

25 مارچ 1992ء کی رات میلبرن کے وسیع اسٹیڈیم میں جب پاکستان نے انگلینڈ کو ہرا کر پہلی مرتبہ کرکٹ کا عالمی کپ جیتا تو ٹیم کی قیادت عمران خان (Imran Khan) کر رہے تھے2۔ یہ لمحہ ایک طویل کرکٹ کیریئر کا نقطۂ عروج تھا جو 1971ء میں شروع ہوا تھا۔ ان دو دہائیوں میں عمران ایک دبلے پتلے نوجوان بولر سے دنیا کے بہترین فاسٹ بولروں اور آل راؤنڈروں میں شامل ہوئے، اور پھر ایک ایسے کپتان بنے جس نے پاکستانی ٹیم کو بیرونِ ملک جیتنے کا اعتماد دیا۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
عمران خان 5 اکتوبر 1952ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے ماموں جاوید زمان کرکٹ میں ان کے ابتدائی رہنما تھے۔ عمران نے نوعمری ہی میں لاہور میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔ وہ دائیں ہاتھ سے تیز بولنگ اور بیٹنگ کرتے تھے2۔
ان کا پہلا ٹیسٹ 3 جون 1971ء کو برمنگھم کے ایجبسٹن میدان پر انگلینڈ کے خلاف تھا، وہی میچ جس میں ظہیر عباس (Zaheer Abbas) نے 274 رنز بنائے تھے۔ عمران کے لیے یہ آغاز آسان نہ تھا: پہلی اننگز میں انہوں نے 23 اوورز میں 36 رنز دیے اور کوئی وکٹ نہ لے سکے1۔
اس کے بعد کے برسوں میں انگلش کرکٹ ان کی تربیت گاہ بنی۔ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم کی طرف سے کھیلے، ووسٹرشائر (Worcestershire) کاؤنٹی کی نمائندگی کی، اور بعد میں 1983ء سے 1988ء تک سسیکس (Sussex) کے لیے کھیلے۔ 1977ء تک وہ ورلڈ سیریز کرکٹ کا حصہ بن چکے تھے، جہاں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ اور خلاف کھیلنے کا تجربہ ملا۔ اسی دور میں انہوں نے سرفراز نواز (Sarfraz Nawaz) سے ریورس سوئنگ کا فن سیکھا، جو بعد میں انہوں نے وسیم اکرم (Wasim Akram) اور وقار یونس (Waqar Younis) کو منتقل کیا2۔
ان کا ون ڈے کیریئر 31 اگست 1974ء کو ناٹنگھم میں انگلینڈ کے خلاف شروع ہوا1۔
تیز ترین دور اور کپتانی کا آغاز
اسی کی دہائی کے آغاز میں عمران اپنی بہترین فارم میں تھے۔ 22 مارچ 1982ء کو لاہور میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میں انہوں نے ایک اننگز میں 58 رنز دے کر 8 وکٹیں اور دوسری میں بھی 58 رنز دے کر 6 وکٹیں لیں۔ میچ میں 116 رنز کے عوض 14 وکٹیں ان کے کیریئر کی بہترین میچ بولنگ ہے1۔
1982ء میں انہیں پاکستان کا کپتان بنایا گیا۔ اسی سال انگلینڈ کے دورے پر 29 جولائی کو ایجبسٹن میں انہوں نے 52 رنز دے کر 7 وکٹیں لیں، اور 1983ء میں وزڈن نے انہیں سال کے بہترین کرکٹرز میں شامل کیا2۔ 1982ء-83ء کے موسمِ سرما میں بھارت کے خلاف ہوم سیریز ان کی بولنگ کا شاہکار تھی۔ 23 دسمبر 1982ء کو کراچی میں انہوں نے 60 رنز دے کر 8 وکٹیں لیں، جو بطور کپتان ان کی بہترین اننگز بولنگ ہے۔ 3 جنوری 1983ء کو فیصل آباد میں انہوں نے 117 رنز بنائے، اور 14 جنوری کو حیدرآباد (سندھ) میں 35 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں1۔
1987ء اور 1988ء: بیرونِ ملک فتوحات
1987ء پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک یادگار سال تھا، کیونکہ عمران کی قیادت میں پاکستان نے پہلی مرتبہ بھارت میں اور پھر انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتی2۔ 3 فروری 1987ء کو چنئی (اس وقت مدراس) میں انہوں نے 135 ناٹ آؤٹ رنز بنائے۔ انگلینڈ کے دورے پر 2 جولائی کو لیڈز کے ٹیسٹ میں انہوں نے 40 رنز کے عوض 7 وکٹیں لیں، اور 6 اگست کو اوول میں 118 رنز کی اننگز کھیلی1۔
1987ء کے ورلڈ کپ کے بعد انہوں نے کچھ عرصے کے لیے ریٹائرمنٹ اختیار کی مگر جلد ہی کپتان کے طور پر واپس آ گئے۔ 1988ء میں ویسٹ انڈیز کا دورہ، جہاں اس زمانے میں جیتنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا، ان کے کیریئر کا ایک اور روشن باب ہے۔ 2 اپریل 1988ء کو جارج ٹاؤن میں انہوں نے 80 رنز کے عوض 7 وکٹیں لیں1۔ 1989ء میں انہیں سال کا بین الاقوامی کرکٹر قرار دیا گیا2۔
عمران کی بیٹنگ بھی وقت کے ساتھ نکھرتی گئی۔ نومبر 1989ء میں کراچی میں بھارت کے خلاف 109 ناٹ آؤٹ کے بعد، 19 جنوری 1990ء کو ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے 136 رنز بنائے، جو ان کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور ہے۔ بطور کپتان ٹیسٹ میچوں میں ان کی بیٹنگ اوسط 52.34 رہی1۔
1992ء کا ورلڈ کپ
عمران کا آخری ٹیسٹ 2 جنوری 1992ء کو فیصل آباد میں سری لنکا کے خلاف تھا1۔ اس کے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والا ورلڈ کپ ان کا آخری بڑا امتحان تھا۔ ٹورنامنٹ کے ابتدائی حصے میں پاکستانی ٹیم مشکلات کا شکار رہی۔ عمران نے بعد میں بتایا کہ انہوں نے کھلاڑیوں سے کہا کہ وہ "گھیرے ہوئے شیروں" کی طرح لڑیں2۔ ٹیم نے واپسی کی اور فائنل تک پہنچ گئی۔
25 مارچ 1992ء کو میلبرن میں انگلینڈ کے خلاف فائنل میں عمران نے 110 گیندوں پر 72 رنز بنائے، جو اس میچ میں پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی اسکور تھا، اور انگلینڈ کی آخری وکٹ بھی خود حاصل کی۔ یہی ان کا آخری بین الاقوامی میچ تھا1، اور اس کے ساتھ وہ بین الاقوامی کرکٹ سے رخصت ہو گئے2۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | |
|---|---|---|
| میچ | 88 | 175 |
| رنز | 3807 | 3709 |
| بہترین اسکور | 136 | 102 ناٹ آؤٹ |
| اوسط (بیٹنگ) | 37.69 | 33.41 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 6 / 18 | 1 / 19 |
| اسٹرائیک ریٹ | – | 72.65 |
| وکٹیں | 362 | 182 |
| بہترین بولنگ | 8/58 | 6/14 |
| اوسط (بولنگ) | 22.81 | 26.61 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 23 | 1 |
| بطور کپتان میچ | 48 | 139 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
ٹیسٹ کرکٹ میں 3807 رنز اور 362 وکٹیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عمران خان بولر اور بیٹسمین دونوں حیثیتوں میں صفِ اول کے کھلاڑی تھے۔ بطور کپتان انہوں نے 48 ٹیسٹ میچوں میں 187 وکٹیں 20.26 کی اوسط سے حاصل کیں، یعنی قیادت کی ذمہ داری نے ان کی بولنگ کو کمزور کرنے کے بجائے اور تیز کر دیا۔ ون ڈے کرکٹ میں ان کی بہترین بولنگ 22 مارچ 1985ء کو شارجہ میں بھارت کے خلاف 14 رنز کے عوض 6 وکٹیں ہے1۔
ان کا سب سے دیرپا اثر شاید وہ نسل ہے جو ان کی کپتانی میں تیار ہوئی۔ وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے فاسٹ بولر ان کے دور میں ابھرے اور ان سے ریورس سوئنگ کا فن سیکھا، اور یوں پاکستان کی فاسٹ بولنگ کی وہ روایت مضبوط ہوئی جو آج بھی ملک کی پہچان ہے۔ 2009ء میں آئی سی سی نے انہیں اپنے ہال آف فیم کے پہلے گروپ میں حنیف محمد اور جاوید میانداد کے ساتھ شامل کیا23۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Imran Khan, Test and ODI batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40560.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40560.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40560.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40560.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40560.html?class=2;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40560.html?class=2;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/40560.html?class=2;template=results;type=bowling
- Wikipedia, "Imran Khan", https://en.wikipedia.org/wiki/Imran_Khan (for biographical and cricket-career details only)
- ICC Cricket Hall of Fame: https://www.icc-cricket.com/hall-of-fame



