عبدالقادر: لیگ اسپن کا چراغ روشن رکھنے والا جادوگر
1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں عالمی کرکٹ پر فاسٹ بولروں کا راج تھا۔ ویسٹ انڈیز کی تیز رفتار بولنگ نے کھیل کا مزاج بدل دیا تھا اور لیگ اسپن کو بہت سے ماہرین ایک پرانا، مرتا ہوا فن سمجھنے…

1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں عالمی کرکٹ پر فاسٹ بولروں کا راج تھا۔ ویسٹ انڈیز کی تیز رفتار بولنگ نے کھیل کا مزاج بدل دیا تھا اور لیگ اسپن کو بہت سے ماہرین ایک پرانا، مرتا ہوا فن سمجھنے لگے تھے۔ ایسے میں لاہور کا ایک نوجوان اچھلتا کودتا، کلائی گھماتا ہوا آیا اور دنیا کے بڑے بڑے بلے بازوں کو اپنی گوگلی اور فلپر سے حیران کر دیا۔ یہ عبدالقادر (Abdul Qadir) تھے، جنہوں نے 67 ٹیسٹ میچوں میں 236 وکٹیں لیں اور اگلی نسل کے لیگ اسپنروں کو یقین دلایا کہ یہ فن ابھی زندہ ہے1۔ 2022ء میں انہیں آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل کیا گیا3۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
عبدالقادر 15 ستمبر 1955ء کو لاہور کے علاقے دھرم پورہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اسکول کی سطح پر بلے باز کے طور پر کرکٹ شروع کی، بعد میں مقامی کلب کے لیے کھیلتے ہوئے لیگ اسپن کی طرف آئے، اور 1975ء میں حبیب بینک کی طرف سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں قدم رکھا۔ ان کے بھائی علی بہادر بھی فرسٹ کلاس کرکٹ میں لیگ اسپنر رہے، اور بعد میں ان کے کئی بیٹوں نے بھی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی2۔
ان کا ٹیسٹ کیریئر 14 دسمبر 1977ء کو لاہور میں انگلینڈ کے خلاف شروع ہوا۔ اسی سیریز میں 2 جنوری 1978ء کو حیدرآباد (سندھ) میں انہوں نے 44 رنز دے کر 6 وکٹیں لیں اور ثابت کر دیا کہ وہ لمبی ریس کے گھوڑے ہیں1۔
ٹیسٹ کرکٹ میں عروج
عبدالقادر کا بولنگ ایکشن ان کی پہچان تھا: چند اچھلتے قدم، گیند کو ہوا میں اچھالنا اور پھر کلائی کا تیز جھٹکا۔ ان کے پاس روایتی لیگ بریک، ٹاپ اسپنر، دو طرح کی گوگلی اور فلپر سب کچھ تھا2۔ بلے باز اکثر یہ اندازہ ہی نہ لگا پاتے کہ اگلی گیند کس طرف مڑے گی۔
ستمبر 1982ء میں فیصل آباد میں آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے 142 رنز دے کر 7 وکٹیں لیں، اور اکتوبر 1986ء میں اسی میدان پر ویسٹ انڈیز کے خلاف صرف 9.3 اوورز میں 16 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔ اگست 1987ء میں اوول میں انگلینڈ کے خلاف 96 رنز کے عوض 7 وکٹیں بھی ان کی یادگار کارکردگی ہے1۔
ان کے کیریئر کا سب سے روشن دن 25 نومبر 1987ء کو لاہور میں انگلینڈ کے خلاف شروع ہونے والا ٹیسٹ تھا۔ اس میچ کی ایک اننگز میں انہوں نے 37 اوورز میں صرف 56 رنز دے کر 9 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ان کی بہترین ٹیسٹ بولنگ ہے، اور اسے آج بھی پاکستانی اسپن کی تاریخ کے عظیم ترین اسپیلز میں گنا جاتا ہے۔ اسی سیریز میں دسمبر 1987ء میں کراچی میں انہوں نے بیٹنگ میں بھی 61 رنز بنائے، جو ان کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور ہے1۔
پورے ٹیسٹ کیریئر میں انہوں نے 15 مرتبہ اننگز میں پانچ یا زیادہ وکٹیں اور 5 مرتبہ میچ میں دس یا زیادہ وکٹیں لیں؛ ان کی بہترین میچ بولنگ 101 رنز کے عوض 13 وکٹیں رہی۔ ان کا آخری ٹیسٹ 6 دسمبر 1990ء کو لاہور ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا1۔
ون ڈے کرکٹ اور کپتانی
ون ڈے کرکٹ میں عبدالقادر کا آغاز بھی شاندار رہا۔ 11 جون 1983ء کو برمنگھم میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے پہلے ون ڈے میں انہوں نے 21 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں اور بیٹنگ میں 41 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ چند دن بعد 16 جون 1983ء کو لیڈز میں سری لنکا کے خلاف 44 رنز دے کر 5 وکٹیں ان کی بہترین ون ڈے بولنگ ہے1۔ یہ دونوں میچ 1983ء کے عالمی کپ کا حصہ تھے، اور وہ 1987ء کے عالمی کپ میں بھی پاکستانی ٹیم میں شامل رہے2۔
اپریل 1986ء میں شارجہ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 10 اوورز میں صرف 9 رنز دے کر 4 وکٹیں ان کی کفایت شعار بولنگ کی بہترین مثال ہے۔ 1987ء اور 1988ء میں انہوں نے 5 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی کپتانی بھی کی، اور ان میچوں میں 12.69 کی اوسط سے 13 وکٹیں لیں۔ ان کا آخری ون ڈے 2 نومبر 1993ء کو شارجہ میں سری لنکا کے خلاف تھا1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | |
|---|---|---|
| میچ | 67 | 104 |
| رنز | 1029 | 641 |
| بہترین اسکور | 61 | 41 ناٹ آؤٹ |
| اوسط (بیٹنگ) | 15.59 | 15.26 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 0 / 3 | 0 / 0 |
| وکٹیں | 236 | 132 |
| بہترین بولنگ | 9/56 | 5/44 |
| اوسط (بولنگ) | 32.8 | 26.16 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 15 | 2 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
عبدالقادر کی سب سے بڑی دین یہ ہے کہ انہوں نے لیگ اسپن کو اس وقت زندہ رکھا جب دنیا اسے بھلا رہی تھی۔ ان کے بعد آنے والے کئی بڑے لیگ اسپنروں، جن میں آسٹریلیا کے شین وارن (Shane Warne) بھی شامل ہیں، نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ 1980ء کی دہائی میں وہ عبدالقادر ہی کو دیکھ کر سیکھتے تھے2۔ پاکستان میں بھی بعد کی نسلوں کے لیگ اسپنروں کے لیے وہ ایک مثال بنے رہے۔
ان کی بولنگ میں ایک فنکار کی سی شوخی تھی۔ وہ ہر گیند کے ساتھ بلے باز سے ایک نیا سوال کرتے تھے، اور جب وکٹ ملتی تو ان کا جوش دیکھنے کے لائق ہوتا۔ 6 ستمبر 2019ء کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا2۔ نومبر 2022ء میں آئی سی سی نے انہیں کرکٹ ہال آف فیم میں شامل کر کے ان کی خدمات کا عالمی سطح پر اعتراف کیا3۔ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں عبدالقادر کا نام اس فنکار کے طور پر لیا جاتا رہے گا جس نے کلائی کے جادو کو دوبارہ زندہ کیا۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Abdul Qadir, Test and ODI batting and bowling career summaries (including ODI as-captain rows) and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38973.html?class=1;template=results;type=batting , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38973.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38973.html?class=1;template=results;type=bowling , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38973.html?class=1;template=results;type=bowling;view=innings , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38973.html?class=2;template=results;type=batting , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38973.html?class=2;template=results;type=batting;view=innings , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38973.html?class=2;template=results;type=bowling , https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38973.html?class=2;template=results;type=bowling;view=innings
- Wikipedia, "Abdul Qadir (cricketer)", https://en.wikipedia.org/wiki/Abdul_Qadir_(cricketer) (for biographical details only)
- ICC Cricket Hall of Fame: https://www.icc-cricket.com/hall-of-fame



