یونیورسٹی آف تربت میں یومِ استحصالِ کشمیر کی تقریب، وائس چانسلر ڈاکٹر گل حسن کی صدارت

تربت: مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی غیر قانونی منسوخی کے خلاف اور کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ملک کی دیگر جامعات کی طرح یونیورسٹی آف تربت میں بھی 5 اگست 2026 کو یومِ استحصالِ کشمیر بھرپور انداز میں منایا گیا۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن کی صدارت میں منعقدہ تقریب میں تدریسی و انتظامی شعبوں کے سربراہان، فیکلٹی ممبران اور انتظامی عملے نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور قومی ترانے سے ہوا۔ رجسٹرار کنگوزار بلوچ اور فیکلٹی آف لاء کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نسیم بلوچ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلم کھلا اور سنگین خلاف ورزی تھی، اور اس یکطرفہ و غیر قانونی اقدام کو کشمیریوں، پاکستانیوں اور عالمی برادری نے مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد سے بھارتی فورسز نے مقبوضہ وادی کے عوام پر ظلم و بربریت کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے، اور اسی اقدام کے خلاف حکومت پاکستان نے 2020 سے 5 اگست کو یومِ استحصال کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔
مقررین نے کہا کہ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق اور تاریخی شناخت کو غصب کرنا ہی پورے خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔ یونیورسٹی آف تربت اس مؤقف کی مکمل حمایت کرتی ہے کہ پاکستان سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کر رہا ہے، اور اسی مضبوط مؤقف کی بدولت امریکہ سمیت متعدد عالمی طاقتیں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کر چکی ہیں۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











