کمشنر لسبیلہ سائرہ عطاء: ہراسمنٹ ثابت ہونے پر سرکاری اہلکار ملازمت سے برطرف ہوگا، کیریئر سیمینار سے خطاب

اوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت حکومت بلوچستان ہراسمنٹ ایکٹ 2016 کے ذریعے خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک کردار ادا کر رہی ہے۔ طالبات بلا خوف و خطر تعلیمی سفر جاری رکھیں؛ کسی بھی ادارے میں ہراسمنٹ کیس ثابت ہونے پر سرکاری اہلکار کو ملازمت سے برطرف کیا جائے گا۔
وہ لسبیلہ یونیورسٹی میں کیریئر کونسلنگ کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ بطور سیکرٹری وومن ڈویلپمنٹ انہوں نے خواتین کو وراثت میں ان کا حق دلانے کے لیے قانون سازی کی اور لیگل فریم ورک کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کیے۔ انتظامیہ طالبات کو ٹیکنیکل ایجوکیشنل گائیڈ لائن کے ساتھ یونیورسٹی فیکلٹیز کو بھرپور معاونت فراہم کرے گی۔
کمشنر نے کہا کہ کیریئر سازی کے لیے طلبہ اور اساتذہ کے درمیان کمیونیکیشن اور کوآرڈینیشن ہونی چاہیے، اور طالبات کو ملازمت کے انتخاب میں صرف میڈیکل اور ٹیچنگ نہیں بلکہ ایڈمنسٹریشن اور دیگر شعبے بھی اپنانے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمت کے لیے درخواست دینے والے کبھی مایوس نہ ہوں، اللہ پر توکل اور خود اعتمادی برقرار رکھیں۔
چھ وومن بزنس سینٹرز، 409 خواتین کا کاروبار
کمشنر نے طالبات کو پسماندہ علاقے آواران سے اپنے تعلیمی سفر کے بارے میں بتایا اور کہا کہ وومن امپاورمنٹ پالیسی کے تحت صوبے میں وومن بزنس مارکیٹ کا تصور متعارف کرایا گیا اور مختلف علاقوں میں چھ وومن بزنس سینٹر قائم کیے گئے ہیں۔ لائیو اسٹاک، ہینڈی کرافٹ، فری لانسنگ، کوکنگ اور ای کامرس سمیت دیگر شعبوں میں کاروبار کے لیے حکومت قرض کی سہولت دے رہی ہے اور اب تک 409 خواتین اپنا کاروبار قائم کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسکلڈ ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ لسبیلہ ڈویژن میں چار انتظامی افسران کی تعیناتی سروس ڈیلیوری کے چیلنج سے نمٹنے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ طالبات کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ایس پی یا سول سروس افسر بننے سے معاشرے میں تبدیلی نہیں آتی بلکہ تب آتی ہے جب ہر شخص ذمہ دار شہری کے طور پر اپنا کردار نبھائے، مثلاً اپنا کچرا سڑکوں پر نہ پھینکے۔
کمشنر نے ضلع حب میں خواتین کے نشے کی لت میں مبتلا ہونے کو لمحۂ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حب انتظامیہ کے ساتھ معاشرے کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ انہوں نے نیشنل سمٹ کانفرنس میں یوتھ افیئرز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے لسبیلہ کو نظر انداز کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری یوتھ افیئرز سے کوآرڈینیشن کے احکامات جاری کیے، اور طلبہ کو نصیحت کی کہ ملازمت کے انتخاب میں والدین کی رائے کو ترجیح دیں۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











