تربت یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان 2026-2030 پر عملدرآمد: نصاب میں مصنوعی ذہانت شامل کرنے کے فیصلے

تربت: جامعہ تربت کے اسٹریٹجک پلان 2026-2030 پر عملدرآمد کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے وی سی سیکرٹریٹ میں اہم اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں پرو وائس چانسلر ڈاکٹر کمال احمد، فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین ڈاکٹر محمد طاہر حکیم، رجسٹرار گنگزار بلوچ، کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض احمد اور شعبہ تعلیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مہناز اسلم نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں شعبہ تعلیم کی چیئرپرسن ڈاکٹر مہناز اسلم نے شعبے کے وسائل اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مختلف پروگراموں کی ایکریڈیٹیشن کا عمل تیز کرنے اور نصاب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) شامل کرنے سے متعلق کئی اہم فیصلے کیے گئے تاکہ ان ڈگری پروگرامز میں قومی تعلیمی ترجیحات اور ایچ ای سی کی ہدایات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
شرکاء نے نصاب اور تدریسی طریقہ کار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا، جبکہ لائبریری ریسورسز، ڈیجیٹل کلاس رومز، آئی ٹی سہولیات، ایکریڈیٹیشن کونسل کو درکار دستاویزات اور سینئر فیکلٹی کی ضرورت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وائس چانسلر نے چیلنجز سے نمٹنے، طلبہ کی پریکٹیکم تربیت کا معیار بہتر بنانے اور مقامی اسکولوں سے روابط مضبوط کرنے کے لیے مکمل تعاون اور رہنمائی کی یقین دہانی کرائی۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے بتایا کہ گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کی زیر صدارت جامعہ تربت کے حالیہ سینیٹ اجلاس میں اسٹریٹجک پلان 2026-2030 کو بے حد سراہا گیا، اور سینیٹ ارکان نے اسے معیاری اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تعلیم اور بامقصد جدید تحقیقی سرگرمیوں کی جانب واضح روڈ میپ قرار دیا۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











