بلوچستان میں پولیو کے تمام 23 ماحولیاتی نمونوں کے نتائج منفی، دو سال سے کوئی کیس رپورٹ نہیں
کوئٹہ: بلوچستان میں پولیو وائرس کے خلاف جاری جدوجہد میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں صوبے کے تمام 23 ماحولیاتی نمونوں کے نتائج منفی آئے ہیں۔
گزشتہ دو سال سے صوبے میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہ ہونا بھی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت نے اس پیش رفت کو پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے جاری مسلسل کوششوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
دو سال کی محنت کا ثمر
صوبائی وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ صوبے میں پولیو کے تمام 23 ماحولیاتی نمونوں کے منفی نتائج گزشتہ دو سال کی مسلسل محنت اور جدوجہد کا ثمر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکریٹری کی مسلسل نگرانی نے پولیو کے خلاف جاری مہم کو مؤثر بنانے اور اس کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
بخت محمد کاکڑ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو پولیو سے پاک کرنے کے لیے صوبائی حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور بچوں کو موذی وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسینیشن مہمات جاری ہیں۔
پولیو ورکرز کو خراجِ تحسین
انہوں نے پولیو ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خطرات اور دشوار گزار علاقوں جیسی مشکلات کے باوجود پولیو ورکرز نے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے بچوں تک ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی، جو قابلِ تحسین ہے۔
صوبائی وزیر صحت نے عزم ظاہر کیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے جاری کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور بچوں کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق ماحولیاتی نمونوں کے منفی نتائج پولیو وائرس کی نگرانی کے حوالے سے حوصلہ افزا پیش رفت ہیں، تاہم وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے ویکسینیشن مہمات کا تسلسل، بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی سو فیصد کوششیں اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہیں۔











