اولمپیئن زاہد شریف کی مالی مشکلات پر حکام سے مدد کی اپیل، وظیفہ بند

اسلام آباد: پاکستان کو ہاکی میں عالمی اعزازات دلوانے والے سابق اولمپیئن زاہد شریف نے شدید مالی مشکلات کے باعث حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے۔
ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2015 میں انہیں دل کا دورہ پڑا اور فالج کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث وہ 2 سے 3 سال تک بستر سے اٹھنے کے قابل نہیں رہے۔
قرضے اور اخراجات
زاہد شریف کے مطابق بیماری نے ان کی زندگی اور معاشی حالات کو بری طرح متاثر کیا۔ بیماری کے بعد انہوں نے ایک ریسٹورنٹ چلانے کی کوشش کی، تاہم جسمانی مشکلات کے باعث کاروبار نہ سنبھال سکے اور بھاری قرضوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ اب بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ان کی ادویات پر ماہانہ تقریباً 10 سے 11 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں اور بچوں کی اسکول فیس ادا کرنا بھی مشکل ہے، جس کی وجہ سے بچے اسکول نہیں جاتے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے پنجاب اسپورٹس بورڈ کی جانب سے انہیں ماہانہ 35 ہزار روپے وظیفہ دیا جاتا تھا، لیکن اب یہ ادائیگی بند کر دی گئی ہے۔ اکتوبر میں پاکستان اسپورٹس بورڈ کے دفتر جانے پر انہیں بتایا گیا کہ ان کا وظیفہ ختم ہو چکا ہے۔
قیادت سے اپیل
انہوں نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف، وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری، آرمی چیف اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سمیت ملک کی اعلیٰ قیادت سے مدد کی اپیل کی۔
زاہد شریف نے بالخصوص آرمی چیف سے درخواست کی کہ سابق کھلاڑیوں کی مشکلات کا نوٹس لیا جائے تاکہ ان کے قرضوں کی ادائیگی اور بچوں کے اخراجات پورے کرنے میں مدد مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے عروج کے زمانے میں بیرونِ ملک سے ملنے والی آفرز کے باوجود انہوں نے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی کیونکہ انہیں اپنے ملک سے گہری محبت تھی۔
واضح رہے کہ زاہد شریف 1984 میں قومی جونیئر ٹیم کا حصہ بنے اور 1985 کے جونیئر ورلڈ کپ میں کانسی کا تمغہ جیتا۔ انہوں نے 1987 سے جنوری 1992 تک پاکستان کی سینئر ٹیم کی نمائندگی کی۔
وہ 1988 کے سیول اولمپکس میں بھی پاکستان کی جانب سے کھیلے، جہاں قومی ٹیم پانچویں نمبر پر رہی۔ انہوں نے 1988 کی چیمپئنز ٹرافی میں چاندی اور 1990 کے ایشین گیمز میں طلائی تمغہ جیتا۔











