رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 23° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات

امریکا میں قانونی امیگریشن نصف رہ گئی، فروری میں صرف 26 ہزار امیگرنٹ ویزے جاری

امریکا میں قانونی امیگریشن نصف رہ گئی، فروری میں صرف 26 ہزار امیگرنٹ ویزے جاری
فائل فوٹو: امریکی امیگرنٹ ویزا — تصویر: بشکریہ coximmigration.com

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ویزوں کے اجرا پر پابندیوں، سفری ممانعتوں اور داخلے کے سخت قوانین کے ذریعے امریکا میں قانونی امیگریشن کی شرح نصف کر دی ہے، جو جدید امریکی تاریخ میں امیگریشن میں ہونے والی نمایاں ترین تخفیف میں سے ایک ہے۔ یہ بات امریکی اخبار کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے فروری میں صرف 26 ہزار امیگرنٹ ویزے جاری کیے، جو گرین کارڈ اور قانونی مستقل رہائش کا درجہ حاصل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے قبل کے برسوں میں اوسطاً ہر ماہ 52 ہزار ایسے ویزے جاری ہوتے تھے۔ اخبار نے یہ اعداد و شمار حکومت کے تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیے۔

پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال کے آخر اور رواں سال کے آغاز میں نافذ پالیسیوں کے باعث 91 ممالک سے امریکا میں قانونی امیگریشن تقریباً ناممکن ہو گئی، جبکہ مزید 61 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزوں کی دستیابی بھی محدود کر دی گئی۔ افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بالخصوص متاثر ہوئے، جبکہ مسلم اکثریتی ممالک سے امیگریشن میں 90 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔

91 ممالک کی تعداد میں سفری پابندیوں یا محدود داخلے کی زد میں آنے والے 39 ممالک، فلسطینی اتھارٹی یا فلسطینی شہریوں سے متعلق پابندیاں، اور 75 ممالک پر امیگرنٹ ویزوں کے اجرا کی معطلی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد پہلے سال میں ویزوں کی تعداد میں تقریباً 10 فیصد کی معمولی کمی ہوئی تھی۔ تاہم جنوری میں توسیع شدہ سفری پابندیوں کے تحت 39 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزوں کے حصول یا امریکا میں داخلے پر پابندیاں لگ گئیں، جبکہ مزید 52 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزوں کا اجرا روک دیا گیا۔ ایک ماہ قبل نسبتاً کم تارکینِ وطن والے ممالک کے شہریوں کے لیے ڈائیورسٹی امیگرنٹ ویزا پروگرام بھی معطل کیا گیا تھا۔

امریکی انتظامیہ نے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد ویزا درخواست دہندگان کی سکیورٹی خطرات اور مستقبل میں سرکاری مراعات سے ممکنہ استفادے کے حوالے سے جانچ پڑتال بہتر بنانا ہے۔

نان امیگرنٹ ویزوں میں بھی کمی

نیویارک ٹائمز کے مطابق ان پالیسیوں سے سب سے زیادہ امیگرنٹ ویزے متاثر ہوئے، تاہم طلبہ اور کارکنوں کے نان امیگرنٹ ویزوں میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد کمی آئی۔ فروری میں سیاحتی اور کاروباری دوروں کے ویزوں کی تعداد بھی تقریباً 25 فیصد کم رہی۔

سفری پابندیوں کے تحت 39 ممالک کے شہریوں کے لیے طلبہ اور ملازمت کے ویزوں کا حصول مکمل طور پر روک دیا گیا، جبکہ نئے ضوابط اور فیسوں کے باعث دیگر ممالک کے شہریوں کو بھی پہلے کی نسبت کم طلبہ اور ایچ ون بی ورک ویزے جاری ہوئے۔ بھارت اور چین پر براہِ راست سفری پابندیاں نہیں تھیں، اس کے باوجود ان کے شہریوں کے طلبہ اور ملازمت کے ویزوں میں نمایاں کمی ہوئی۔

جنوبی سرحدی داخلی مقامات پر قانونی پناہ کی درخواستوں میں 99.9 فیصد کمی آئی، جبکہ پناہ گزینوں کی امریکا آمد میں تقریباً 90 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

نئی پالیسیاں کانگریس کی منظوری کے بغیر نافذ کی گئیں، تاہم بعد ازاں وفاقی عدالتوں نے ان میں سے بعض اقدامات روک دیے۔ اگست کے اختتام پر دو الگ مقدمات میں عدالتوں نے حکومت کو دوبارہ ویزے جاری کرنے کا حکم دیا۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود متاثرہ افراد کی بڑی اکثریت اب بھی ویزوں کے اجرا کی منتظر ہے۔