استا محمد میں ای پی آئی جائزہ: 93 سے 98 فیصد کوریج والے ویکسینیٹرز کی تعریف، انکاری خاندانوں کی کونسلنگ ہوگی

استا محمد: ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) کی ماہانہ کارکردگی اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر امیر علی جمالی، ڈویژنل کوآرڈینیٹر ای پی آئی، عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے نمائندے ڈاکٹر رومان اور محکمہ صحت کے افسران و اہلکاروں نے شرکت کی۔
اجلاس میں تحصیل استا محمد میں بچوں کو حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی، ویکسینیشن کوریج، فیلڈ سرگرمیوں اور ویکسینیٹرز کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اور افسران نے مقررہ اہداف، حاصل شدہ کوریج اور فیلڈ میں درپیش مسائل پر بریفنگ دی۔
بہترین ویکسینیٹرز کی پذیرائی
اجلاس میں بہترین کارکردگی دکھانے والے ویکسینیٹرز حافظ، اربیلا، محمد بخش، نوید، غلام یاسین، عبدالصمد، قائم دین، محمد قیصر، مزمل اور آصف کو سراہا گیا جنہوں نے 93 سے 98 فیصد تک کوریج حاصل کی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بچوں کو بروقت حفاظتی ٹیکے لگوانا ان کی صحت اور مستقبل کے تحفظ کے لیے نہایت ضروری ہے۔
کم کوریج والے ویکسینیٹرز کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا اور انہیں اہداف کے حصول کے لیے کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے فیلڈ ٹیموں کی مؤثر نگرانی اور کم کوریج والے علاقوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں ان خاندانوں پر بھی غور کیا گیا جو بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے سے انکار کرتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ ان کی مؤثر کونسلنگ کے لیے تحصیل کی سطح پر خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو والدین کو حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت اور متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی دیں۔
محمد رمضان پلال نے کہا کہ حفاظتی ٹیکے بچوں کو خطرناک اور متعدی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ ہیں، اس لیے کسی بھی بچے کا ویکسینیشن سے محروم رہنا قابلِ قبول نہیں۔ اجلاس کے اختتام پر انہوں نے مقررہ اہداف کے حصول، ویکسین کی بروقت دستیابی اور فیلڈ ٹیموں کی مؤثر نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو ویکسینیشن کی سہولت مل سکے۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











