ولی دکنی: اردو غزل کا پہلا بڑا نام
اردو غزل کی کہانی دلّی یا لکھنؤ سے نہیں، دکن سے شروع ہوتی ہے۔ سترھویں صدی کے آخر تک شمالی ہندوستان میں شاعر فارسی میں شعر کہتے تھے اور اردو، جسے اس وقت ریختہ یا ہندی کہا جاتا تھا، بس…

اردو غزل کی کہانی دلّی یا لکھنؤ سے نہیں، دکن سے شروع ہوتی ہے۔ سترھویں صدی کے آخر تک شمالی ہندوستان میں شاعر فارسی میں شعر کہتے تھے اور اردو، جسے اس وقت ریختہ یا ہندی کہا جاتا تھا، بس دل لگی کی زبان سمجھی جاتی تھی۔ دکن میں حالات مختلف تھے: وہاں گولکنڈہ اور بیجاپور کے دربار برسوں سے اسی زبان میں شاعری سن رہے تھے۔ اس دکنی روایت کو نکھار کر جس شاعر نے شمال تک پہنچایا اور دلّی کے شاعروں کو اپنی زبان میں شعر کہنے کا حوصلہ دیا، وہ ولی محمد ولی تھے جنہیں ولی دکنی اور ولی اورنگ آبادی بھی کہا جاتا ہے۔ وہ خود اپنے فن کے بارے میں کہتے ہیں:
راہ مضمون تازہ بند نہیںتا قیامت کھلا ہے باب سخن
زندگی اور زمانہ
ولی کی زندگی کے بارے میں یقینی معلومات کم ہیں۔ ریختہ ان کا اصل نام شمس الدین محمد ولی بتاتا ہے، اور عام روایت کے مطابق وہ اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ ریختہ کے مطابق ان کی پیدائش 1667ء کے لگ بھگ ہوئی۔ یہ اورنگ زیب کا زمانہ تھا، جب مغل فوجیں دکن کی ریاستوں کو فتح کر رہی تھیں اور شمال اور جنوب کے لوگ، سپاہی، عالم اور تاجر ایک دوسرے کے شہروں میں آ جا رہے تھے۔
ولی نے گجرات کا سفر بھی کیا اور احمد آباد میں صوفیوں کی صحبت میں رہے۔ ان کے کلام میں گجرات اور احمد آباد کی تعریف ملتی ہے، اور ریختہ کے مطابق ان کا انتقال احمد آباد ہی میں ہوا۔ تذکروں میں روایت ہے کہ ولی سن 1700ء کے آس پاس دلّی آئے اور وہاں کے صوفی بزرگ شاہ سعد اللہ گلشن سے ملے۔ کہا جاتا ہے کہ گلشن نے انہیں مشورہ دیا کہ فارسی شاعری کے مضامین اپنی زبان میں برتو۔ یہ روایت کتنی درست ہے، اس پر محققوں میں بحث ہے، مگر اتنا طے ہے کہ ولی کے کلام میں دکنی بول چال کے ساتھ فارسی غزل کی نزاکت بھی پوری طرح موجود ہے۔
اصل واقعہ اس کے بعد ہوا۔ ریختہ کے تعارف کے مطابق 1720ء میں جب ولی کا دیوان دلّی پہنچا تو وہاں کے لوگ حیران رہ گئے۔ دیوان کی نقلیں ہاتھوں ہاتھ تیار ہوئیں، دلّی کے شاعر ان کی غزلوں کی زمین میں غزلیں کہنے لگے، اور فارسی کو چھوڑ کر ریختہ میں شعر کہنا فیشن بن گیا۔ آبرو، حاتم اور ناجی جیسے دلّی کے ابتدائی شاعر اسی لہر کی پیداوار ہیں، اور انہی کے بعد میر اور سودا کی نسل آئی۔
ولی کی وفات کا سال بھی یقینی نہیں۔ ریختہ 1707ء دیتا ہے، جبکہ کئی تاریخیں اسے اس کے بعد کا بتاتی ہیں۔ ہم نے یہاں ریختہ کی تاریخ لکھی ہے اور اسے حتمی نہیں سمجھا۔
اسلوب
ولی کی پہچان ان کی تازگی ہے۔ ان کا محبوب کوئی خیالی پیکر نہیں بلکہ جیتا جاگتا انسان ہے جس سے وہ براہِ راست بات کرتے ہیں۔ ان کے ہاں "اس" سے زیادہ "تجھ" کا لفظ آتا ہے، یعنی شاعر محبوب کی غیر موجودگی کا رونا کم روتا ہے اور اس کے سامنے بیٹھ کر اس کی تعریف زیادہ کرتا ہے:
تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گاجادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا
ان کی زبان میں دکنی کے لفظ "سوں" (سے)، "کوں" (کو)، "نئیں" (نہیں)، "سجن" اور "نین" بے تکلف آتے ہیں، اور ساتھ ہی فارسی کی تراکیب بھی۔ یہ ملاپ عجیب نہیں لگتا بلکہ ایک نئی زبان کی پیدائش کا منظر دکھاتا ہے۔ ولی تشبیہ کے بادشاہ ہیں۔ زلف کی تشبیہ اردو اور فارسی میں ہزار بار آئی ہے، مگر ولی اسے ہندوستانی منظر سے جوڑ دیتے ہیں:
زلف تیری ہے موج جمنا کیتل نزک اس کے جیوں سناسی ہے
محبوب کی زلف جمنا کی لہر ہے، اور اس کے پاس کا تل جیسے کنارے پر بیٹھا ہوا کوئی سنیاسی۔ یہ تصویر فارسی شاعری سے نہیں، ہندوستان کی مٹی سے آئی ہے۔
منتخب کلام
کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہکہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ
عجب کچھ لطف رکھتا ہے شب خلوت میں گل رو سوںخطاب آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ
ادا و ناز سوں آتا ہے وو روشن جبیں گھر سوںکہ جیوں مشرق سوں نکلے آفتاب آہستہ آہستہ
مفلسی سب بہار کھوتی ہےمرد کا اعتبار کھوتی ہے
جسے عشق کا تیر کاری لگےاسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کاہے وظیفہ مجھ دل بیمار کا
کوچۂ یار عین کاسی ہےجوگئی دل وہاں کا باسی ہے
یہ سیہ زلف تجھ زنخداں پرناگنی جیوں کنوے پہ پیاسی ہے
خوب رو خوب کام کرتے ہیںیک نگہ میں غلام کرتے ہیں
سجن ٹک ناز سوں مجھ پاس آ آہستہ آہستہچھپی باتیں اپس دل کی سنا آہستہ آہستہ
اشعار کی تشریح
«کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہ…» عشق نے مجھ سخت دل کو آہستہ آہستہ پانی کر دیا، جیسے آگ پھول کو دھیرے دھیرے عرقِ گلاب میں بدل دیتی ہے۔ گلاب کشید کرنے کے عمل سے یہ تشبیہ ولی کی خاص پہچان ہے۔
«عجب کچھ لطف رکھتا ہے شب خلوت میں گل رو سوں…» تنہائی کی رات میں پھول جیسے محبوب سے دھیمے دھیمے بات کرنا اور دھیمے دھیمے جواب سننا، اس کا لطف ہی کچھ اور ہے۔ اسی غزل کی ردیف "آہستہ آہستہ" پر بعد میں کئی شاعروں نے طبع آزمائی کی۔
«ادا و ناز سوں آتا ہے وو روشن جبیں گھر سوں…» روشن پیشانی والا محبوب ناز و ادا کے ساتھ گھر سے یوں نکلتا ہے جیسے مشرق سے سورج آہستہ آہستہ طلوع ہوتا ہے۔
«مفلسی سب بہار کھوتی ہے…» غربت زندگی کی ساری رونق چھین لیتی ہے اور آدمی کی ساکھ بھی ختم کر دیتی ہے۔ یہ شعر تین سو برس بعد بھی ضرب المثل کی طرح بولا جاتا ہے۔
«جسے عشق کا تیر کاری لگے…» جس کے دل پر عشق کا گہرا تیر لگا ہو، اس کے لیے زندگی کا بوجھ اٹھانا مشکل کیوں نہ ہو؟ سیدھے لفظوں میں ایک گہری بات، اور زبان آج کی اردو سے کچھ بھی مختلف نہیں۔
«یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا…» محبوب کو ہر لمحہ یاد کرنا میرے بیمار دل کا وظیفہ ہے، جیسے کوئی عبادت گزار دن رات ایک ہی ورد کرتا رہے۔
«کوچۂ یار عین کاسی ہے…» محبوب کی گلی ہی میرے لیے کاشی (بنارس) ہے، اور میرا جوگی دل وہیں رہتا ہے۔ ہندو تیرتھ کی یہ تشبیہ دکھاتی ہے کہ ولی کی شاعری ہندوستان کی مشترکہ تہذیب میں کس طرح رچی بسی تھی۔
«یہ سیہ زلف تجھ زنخداں پر…» تیری ٹھوڑی کے گڑھے پر لٹکتی سیاہ زلف ایسی ہے جیسے کوئی پیاسی ناگن کنویں پر جھکی ہو۔ ٹھوڑی کے گڑھے کو "چاہِ زنخداں" یعنی کنواں کہنے کی پرانی روایت کو ولی نے ایک زندہ منظر بنا دیا۔
«خوب رو خوب کام کرتے ہیں…» حسین لوگ کمال کرتے ہیں: ایک نظر ڈالتے ہیں اور دیکھنے والے کو غلام بنا لیتے ہیں۔ چھوٹی بحر کی یہ شوخی بعد میں دلّی کی غزل کا عام رنگ بن گئی۔
«سجن ٹک ناز سوں مجھ پاس آ آہستہ آہستہ…» اے محبوب، ذرا ناز سے میرے پاس آ اور اپنے دل کی چھپی باتیں دھیرے دھیرے سنا۔ "ٹک" یعنی ذرا، اور "اپس" یعنی اپنا، دونوں دکنی کے نرم لفظ ہیں۔
اثر اور یادگار
ولی کو بعد کے نقادوں نے اردو کا "چاسر" کہا، یعنی وہ شاعر جس نے ایک بولی کو ادب کی زبان بنا دیا۔ ان سے پہلے بھی دکن میں قلی قطب شاہ اور دوسرے شاعر اردو میں کہہ رہے تھے، مگر ولی کا دیوان وہ پل ثابت ہوا جس پر چل کر یہ زبان دلّی پہنچی اور وہاں سے پورے برصغیر میں پھیلی۔ میر تقی میر نے اپنے فارسی تذکرے "نکات الشعرا" میں ولی کا ذکر کیا، اور اٹھارھویں صدی کے دلّی والے شاعروں کی ایک پوری نسل نے ان کی زمینوں میں غزلیں کہیں۔
آج ان کا کلیات کئی ایڈیشنوں میں چھپ چکا ہے اور ریختہ پر ان کی درجنوں غزلیں موجود ہیں۔ ان کی زبان پڑھنے میں کچھ اجنبی لگ سکتی ہے، مگر ذرا سی توجہ سے وہی تازگی محسوس ہوتی ہے جس نے تین سو برس پہلے دلّی کو حیران کر دیا تھا۔
قارئین سے: ولی کا کون سا شعر آپ کو آج کی زبان کے سب سے قریب لگا؟ ہمیں لکھ کر بھیجیے۔ منتخب اشعار آپ کے نام کے ساتھ اگلے جمعے کے صفحے پر شائع کیے جائیں گے۔
اگلے جمعے: مرزا محمد رفیع سودا، قصیدے اور ہجو کے استاد، جنہوں نے اجڑتی دلّی کا حال بھی لکھا۔
ماخذ
- ریختہ، ولی محمد ولی: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/wali-dakni/profile?lang=ur
- ریختہ، ولی محمد ولی کی غزلیں (اس قسط کے اشعار انہی صفحات سے): https://www.rekhta.org/ghazals/kiyaa-mujh-ishq-ne-zaalim-kuun-aab-aahista-aahista-wali-dakni-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/dil-huaa-hai-miraa-kharaab-e-sukhan-wali-mohammad-wali-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/tujh-lab-kii-sifat-laal-e-badakhshaan-suun-kahuungaa-wali-mohammad-wali-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/kuucha-e-yaar-ain-kaasii-hai-wali-mohammad-wali-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/muflisii-sab-bahaar-khotii-hai-wali-mohammad-wali-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/jise-ishq-kaa-tiir-kaarii-lage-wali-mohammad-wali-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/yaad-karnaa-har-ghadii-us-yaar-kaa-wali-mohammad-wali-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/khuub-ruu-khuub-kaam-karte-hain-wali-mohammad-wali-ghazals?lang=ur ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/sajan-tuk-naaz-suun-mujh-paas-aa-aahista-aahista-wali-mohammad-wali-ghazals?lang=ur
- ولی دکنی، کلیاتِ ولی، مرتبہ نور الحسن ہاشمی، انجمن ترقی اردو (متن کے مقابلے کے لیے)۔
- میر تقی میر، نکات الشعرا (فارسی تذکرہ، 1752ء کے لگ بھگ)، ولی کا ذکر۔
- محمد حسین آزاد، آبِ حیات، لاہور، 1880ء، پہلا دور (ولی کا بیان)۔
- جمیل جالبی، تاریخ ادبِ اردو، جلد اول، مجلس ترقی ادب، لاہور، 1975ء (دکنی ادب اور ولی کا باب)۔
- Ram Babu Saksena, A History of Urdu Literature, Ram Narain Lal, Allahabad, 1927 (chapter on Wali).







