رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر قومی اتحاد ضروری ہے: سینیٹ میں رانا ثنا اللہ کا خطابخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولیسینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیاپی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ بنوں سے گرفتار، ویڈیو سامنے آگئیعالمی ادارہ خوراک کا غزہ میں غذائی امداد ایک تہائی کم کرنے کا اعلان، 11 لاکھ افراد کو امداد ملے گینیتن یاہو: 7 اکتوبر کو 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت 40 ہزار امریکیوں کے قتل کے برابر تھیراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغامروس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
باب 35 حصہ چہارم: برطانوی دور

31 مئی 1935: کوئٹہ کا زلزلہ

پچھلے باب میں ہم نے شاہی جرگے اور قبائلی انتظام کا وہ نظام دیکھا جس کے ذریعے انگریز بلوچستان چلاتے تھے۔ اس باب میں ایک رات کی کہانی ہے جس نے اس صوبے کے دارالحکومت کو چند سیکنڈ میں ملبے…

31 مئی 1935: کوئٹہ کا زلزلہ
علامتی تصویر

پچھلے باب میں ہم نے شاہی جرگے اور قبائلی انتظام کا وہ نظام دیکھا جس کے ذریعے انگریز بلوچستان چلاتے تھے۔ اس باب میں ایک رات کی کہانی ہے جس نے اس صوبے کے دارالحکومت کو چند سیکنڈ میں ملبے میں بدل دیا: 30 اور 31 مئی 1935ء کی درمیانی رات کا کوئٹہ کا زلزلہ۔ اس رات کے بارے میں ہمارے پاس تین ہم عصر سرکاری یا نیم سرکاری ماخذ ہیں: حکومتِ ہند کے بیورو آف پبلک انفارمیشن کا مجموعہ (اگست 1935ء)، قلات اور چاغی کے پولیٹیکل ایجنٹ سی پی سکرین (C. P. Skrine) کا 1936ء کا مقالہ، اور نارتھ ویسٹرن ریلوے کے انجینئر آر او سی تھامسن (R. O. C. Thomson) کی 1940ء کی رپورٹ۔ ہلاکتوں کے اعداد ان میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے ہم ہر عدد اس کے ماخذ کے ساتھ دیں گے۔

رات کے تین بجے

سکرین کے مطابق کوئٹہ اس جمعہ کی رات اپنے موسمِ بہار کے عروج پر تھا: اگلے دن ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل سر نارمن کیٹر (Norman Cater) کی ریذیڈنسی میں گارڈن پارٹی تھی اور پیر کو بادشاہ کی سالگرہ کی پریڈ۔ سکرین کوئٹہ میں فلم دیکھ کر رات ساڑھے بارہ بجے مستونگ کے لیے روانہ ہوئے اور پونے دو بجے سوئے۔ حکومتِ ہند کے 21 جون 1935ء کے خلاصے کے مطابق زلزلہ 31 مئی کو رات تین بجے آیا؛ تھامسن وقت تین بج کر تین منٹ لکھتے ہیں۔ بین الاقوامی زلزلہ مرکز (ISC) کے بلیٹن میں جھٹکے کا وقت 30 مئی کو 21 بج کر 32 منٹ 57 سیکنڈ عالمی وقت درج ہے، جو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق تقریباً تین بج کر تین منٹ بنتا ہے۔

زمین کے نیچے کیا ہوا

ISC کا بلیٹن سطحی لہروں پر اس زلزلے کی شدت 7.5 درج کرتا ہے۔ اسی بلیٹن میں دوسرے محققین کے سطحی لہروں والے اندازے 7.4 سے 7.6 تک ہیں۔ جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈبلیو ڈی ویسٹ (W. D. West) نے زلزلے کے بعد کے مہینے میں متاثرہ علاقے کا معائنہ کیا۔ سکرین کے بیان کے مطابق ویسٹ نے سب سے زیادہ تباہی کا علاقہ کوئٹہ کے شمال مغرب میں بلیلی سے قلات کے شمال میں منڈ حاجی تک تقریباً 68 میل لمبا اور 16 میل چوڑا بتایا، زلزلے کا مرکز کم گہرائی پر، غالباً پانچ میل سے کم، رکھا، اور احتیاط کے ساتھ ایک ایسی دراڑ (فالٹ) کی طرف اشارہ کیا جو پہلے معلوم نہ تھی۔ چلتن کے جنوب سے قلات کے قریب تک تقریباً 65 میل لمبی زمینی دراڑیں ملیں؛ مستونگ روڈ اسٹیشن کے دو میل مغرب میں جہاں یہ دراڑ نوشکی ریلوے لائن سے گزری، وہاں پٹڑی اکھڑ کر مڑ گئی۔ سکرین کے مطابق 1931ء کے مچھ کے زلزلے میں سو سے زیادہ لوگ مرے تھے مگر کوئٹہ میں کوئی جان نہیں گئی تھی۔

مستونگ کی صبح

سکرین کی آنکھوں دیکھی روداد اس رات کا سب سے قریبی بیان ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جاگے تو اندھیرے میں دروازے کے نیچے کھڑے تھے اور ان کا بستر چھت کے ملبے تلے دب چکا تھا۔ صبح تک واضح ہو گیا کہ مستونگ کا پورا قصبہ کھنڈر ہے اور 60 سے 70 فیصد لوگ ہلاک یا زخمی ہیں۔ ٹیلی گراف لائن ٹوٹ چکی تھی۔ کوئٹہ جاتے ہوئے انہوں نے پٹڑی پر ایک ریل موٹر ٹرالی دیکھی جس پر ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ بولان کی طرف یہ دیکھنے جا رہے تھے کہ لائن بچی ہے یا نہیں؛ سکرین کے خیال میں کولپور سے بھیجے گئے ان کے تار ہی حکومتِ ہند کو تباہی کی پہلی اطلاع تھے۔ کوئٹہ کی سول لائنز میں "شاید ہی کوئی گھر کھڑا" تھا، جبکہ چھاؤنی میں تباہی حبیب نالے سے آدھ میل آگے جا کر رک گئی، اور فوجی ہسپتال سلامت رہے۔

فوج اور ریل: بچاؤ اور انخلا

حکومتِ ہند کے 21 جون کے خلاصے کے مطابق کوئٹہ کی تقریباً پوری پولیس ختم ہو چکی تھی، اس لیے ویسٹرن کمانڈ کے سربراہ جنرل کارسلیک (Karslake) نے سر نارمن کیٹر کے ساتھ مل کر انتظام سنبھالا۔ خلاصے کے مطابق زلزلے کے پینتالیس منٹ کے اندر برطانوی اور ہندوستانی سپاہی اندھیرے ہی میں ملبہ ہٹا رہے تھے، اور پہلے چوبیس گھنٹوں میں تقریباً پانچ ہزار زخمیوں کا علاج ہوا۔ سکرین لکھتے ہیں کہ پورا کوئٹہ مارشل لا کے تحت آ چکا تھا اور بچاؤ کا کام ساڑھے تین بجے سے جاری تھا؛ اگلے تین دن میں فوج نے سینکڑوں زندہ لوگ اور تین ہزار سے زیادہ لاشیں نکالیں۔ ریس کورس پر پناہ گزین کیمپ بنا۔ 2 جون کی سہ پہر شہر کو طبی مشورے پر بند کر دیا گیا، اور 4 جون کو بدبو اور وبا کے خطرے سے ملبہ ہٹانے کا کام روک کر شہر کے گرد فوجی گھیرا ڈال دیا گیا۔

یہاں وہی ریل کام آئی جس کا ذکر ہم نے دو ابواب پہلے کیا تھا۔ سرکاری خلاصے کے مطابق ریلوے کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تھا، اور 2 جون کو چھ خصوصی ٹرینیں پنجاب اور سندھ کے لیے روانہ ہوئیں۔ 10 جون کی رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک تقریباً بیس ہزار لوگ خصوصی ٹرینوں سے نکالے جا چکے تھے، اور 636 مریض ایمبولینس ٹرینوں سے۔ سکرین لکھتے ہیں کہ مقامی لوگوں میں یہ خوف عام تھا کہ چلتن آتش فشاں بن گیا ہے، اور اس خوف نے انخلا کو آسان کر دیا۔ 17 جون کی رپورٹ کے مطابق ڈیرہ غازی خان کے چھ سے سات ہزار لوگ کوئٹہ میں مارے گئے تھے۔ مارشل لا 28 جون 1935ء کو ختم ہوا، جب "برٹش بلوچستان (ایمرجنسی ایڈمنسٹریشن) ریگولیشن" نافذ ہوئی۔

کتنے لوگ مرے؟

کوئی ایک حتمی عدد نہیں ملتا؛ خود سرکاری اندازے ہفتوں میں بدلتے رہے:

  • 3 جون کی سرکاری رپورٹ: کوئٹہ شہر کی تقریباً چالیس ہزار آبادی میں سے 26 ہزار ہلاک۔
  • 6 جون: اخبارات میں چھپا 56 ہزار کا عدد "تصدیق نہیں کیا جا سکتا"۔
  • 7 جون: دیہات میں 12 سے 15 ہزار ہلاکتوں کا اندازہ، اور کل تعداد "غالباً 40 ہزار سے زیادہ"۔
  • 10 جون: ریاستِ قلات میں 2,900 ہلاک اور 5,000 زخمی۔
  • 21 جون کا خلاصہ: "تیس ہزار لوگ ہلاک ہوئے"۔
  • سکرین (1936ء): کوئٹہ شہر میں کم از کم 24 ہزار، گرد و نواح کے دیہات میں 3 ہزار، اور ریاستِ قلات میں 3,250؛ ان کے مطابق مستونگ اور گرد و نواح میں تقریباً 1,125 لوگ مرے۔
  • تھامسن (1940ء): کوئٹہ میں تقریباً بیس ہزار، اور دیہات اور ریاستِ قلات میں تقریباً سات ہزار۔ ان کے مطابق نئے کوئٹہ اسٹیشن پر 154 ریلوے ملازمین اور ان کے 489 رشتہ داروں کی یادگاری تختی لگائی گئی۔

اسی جگہ، نئے اصولوں پر

سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ شہر دوبارہ کہاں بنے۔ تھامسن کے مطابق حکومتِ ہند نے 24 دسمبر 1935ء کی قرارداد میں کوئٹہ کو اسی جگہ دوبارہ بنانے کا فیصلہ کیا؛ سکرین ایک دن پہلے کے سرکاری اعلامیے کا حوالہ دیتے ہیں۔ جیولوجیکل سروے کی رائے، جو اس قرارداد میں شامل تھی، یہ تھی کہ پورا بلوچستان زلزلے کا علاقہ ہے اور ہر جگہ زلزلہ مزاحم تعمیر ضروری ہے، اور یہ کہ اس احتیاط کے ساتھ کوئٹہ کسی اور جگہ سے کم محفوظ نہیں۔ سکرین کے مطابق ایک اور دلیل یہ تھی کہ 1931ء کے بعد نارتھ ویسٹرن ریلوے نے کوئٹہ میں جو بنگلے ریل کی پٹڑیوں کے ڈھانچے پر بنائے تھے، ان میں سے کوئی نہیں گرا۔ تھامسن بھی لکھتے ہیں کہ یہ عمارتیں 1935ء کے جھٹکے میں بغیر نقصان کے کھڑی رہیں۔

اگست 1935ء میں سنٹرل کوئٹہ ری کنسٹرکشن کمیٹی کی ٹیکنیکل سب کمیٹی نے "زلزلہ پروف" عمارتوں کے اصول اور قواعد مرتب کیے۔ تھامسن کے مطابق ان میں عمارت کو کششِ ثقل کے آٹھویں حصے (G/8) کی افقی قوت سہنے کے قابل بنانا لازم تھا؛ ریلوے نے 1931ء کے بعد G/10 اپنایا تھا۔ یہ قواعد اتنے مہنگے ثابت ہوئے کہ بعد میں نرم کیے گئے۔ ریلوے نے 1940ء تک زلزلہ مزاحم معیار پر 2,639 کوارٹر بنائے، جن میں سے 1,259 کوئٹہ میں تھے۔ سکرین لکھتے ہیں کہ پرانے شہر کا ملبہ ایک چھوٹی ریل لائن سے اٹھا کر شہر کے باہر گڑھوں میں ڈالا جا رہا تھا، اور تعمیرِ نو کے خرچ کا اندازہ کم از کم سات برس تک ہر سال تقریباً ایک کروڑ روپے تھا۔

دیہات کی تعمیر الگ کہانی تھی۔ بلوچستان ایجنسی کی 1936-37ء کی انتظامی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ کے زمینداروں کو وائسرائے کے ریلیف فنڈ سے زلزلہ پروف کوارٹر دیے گئے، جبکہ ریاستِ قلات میں کاریزوں کی صفائی کے بعد 1,722 جھونپڑیوں کے ڈھانچے فراہم کیے گئے اور مزید 560 کا منصوبہ تھا۔

سکرین نے اپنا مقالہ اس جملے پر ختم کیا کہ یہ سب "بیس سیکنڈ میں" ہوا۔ اس رات کے بعد کوئٹہ کی ہر نئی عمارت اسی رات کی یاد کے ساتھ اٹھی۔

ماخذ

  1. Government of India, Bureau of Public Information, Quetta Earthquake, 1935: Collection of information made available to the press in the form of communiques, statements and reports regarding the situation and of the measures taken in connection with Relief, Supplies, Evacuation and Salvage, Government of India Press, Simla, 1935 (memorandum dated August 1935): pp. 1–2 (situation reports of 2 and 3 June: 26,000 of 40,000 in Quetta city; refugee camp; six trains); p. 3 (4–5 June: evacuation; salvage suspended; cordon); p. 4 (6–7 June: 56,000 "cannot be confirmed"; 12,000–15,000 in villages; total "probably in excess of 40,000"); p. 5 (10 June: about 20,000 evacuated by special trains; 636 by ambulance trains; Kalat State 2,900 killed, 5,000 injured); pp. 6–7 (17 June: village figures; 6,000–7,000 Derawals killed; 21 June summary: 30,000 dead, "3 a.m.", Karslake and Cater, troops at work within 45 minutes, nearly 5,000 injured treated in first 24 hours, railway "not badly damaged"); pp. 8–9 (city closed 2 June; salvage suspended 4 June); pp. 32–33 (karez repair); p. 35 (British Baluchistan (Emergency Administration) Regulation, II of 1935; martial law ended 28 June 1935). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.206892
  2. C. P. Skrine, "The Quetta Earthquake", The Geographical Journal, vol. 88, 1936, pp. 414–428 used (paper read before the Royal Geographical Society in June 1936): pp. 414–415 (the Friday night; Skrine at Mastung); pp. 416–418 (Mastung destroyed, 60–70 per cent casualties; rail-motor trolley and first news via Kolpur; slight damage to the main line); pp. 418–419 (Civil Lines destroyed; damage ends half a mile beyond the Habib Nullah; martial law; rescue since 3.30 a.m.; 3,000 corpses; 4,000 injured at the Indian Military Hospital; 1,125 dead around Mastung); p. 422 (West's intensity zone 68 × 16 miles, shallow focus, probable thrust fault, 65-mile fissure, Nushki line track crumpled; 1931 Mach earthquake; footnote: at least 24,000 + 3,000 + 3,250 dead); p. 424 n. (belief that Chiltan was a volcano eased evacuation); pp. 425–428 (decision to rebuild on the same site, Press Communiqué of 23 December 1935; NWR rail-framed bungalows unharmed; clearance by narrow-gauge railway; about a crore a year for seven years; "Thirty thousand people killed"; "twenty seconds"). https://archive.org/details/dli.pahar.2648
  3. R. O. C. Thomson, Earthquake Reconstruction on Quetta (Railway) Division 1936–40, Railway Board Technical Paper No. 307, East Indian Railway Press, Calcutta, 1940: p. 7 (3-03 a.m.; about 20,000 dead in Quetta and about 7,000 elsewhere; tablet to 154 railwaymen and 489 relatives); pp. 11–12 (Resolution No. D.557-Eq./35 of 24 December 1935 to rebuild on the existing site; Geological Survey view quoted); pp. 12–13 (seismic factor G/8 adopted after 1935, G/10 for railway works after 1931; rules later relaxed; 2,639 units of quarters, 1,259 in Quetta); p. 15 (NWR earthquake-resisting buildings of 1931–35 undamaged in 1935); p. 17 (August 1935 rules of the Technical Sub-Committee, Central Quetta Reconstruction Committee). https://archive.org/details/aclcpl0000021a316
  4. Administration Report of the Baluchistan Agency for the Year 1st April 1936 to the 31st March 1937, Manager of Publications, Delhi, 1938: p. 4 (earthquake-proof quarters for zamindars from the Viceroy's Relief Fund); pp. 42–43 (railway reconstruction branch; 200 permanent earthquake-proof quarters); p. 65, Kalat State section (karez clearance; Rs. 3,60,000 grant; 1,722 hut frames, 560 more planned). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.73611
  5. International Seismological Centre, ISC Bulletin, event 904311 (origin 1935-05-30 21:32:57 UTC; Ms(ISC) 7.5; other agencies' Ms 7.4–7.6; mB and Mw values also listed) and event bibliography (lists Ambraseys & Bilham 2003, BSSA 93/4, pp. 1573–1605; West 1936; Ramanathan & Mukherji 1938). https://www.isc.ac.uk/cgi-bin/web-db-run?event_id=904311&out_format=ISF&request=COMPREHENSIVE · https://www.isc.ac.uk/cgi-bin/FormatBibprint.pl?evid=904311
  6. N. Ambraseys and R. Bilham, "Earthquakes and Associated Deformation in Northern Baluchistan 1892–2001", Bulletin of the Seismological Society of America 93/4 (2003), pp. 1573–1605, DOI 10.1785/0120020038 (not opened: listed for the reviewer only; nothing in the text rests on it). https://doi.org/10.1785/0120020038

بلوچستان: تاریخ کا سفر: تمام تحریریں ←