سکندر کا مکران سے واپسی کا سفر (325 قبل مسیح)
لسبیلہ کے میدان سے مغرب کی طرف ہنگول کے پہاڑ ہیں اور پھر مکران کا لمبا، خشک اور ویران ساحل۔ تئیس سو برس پہلے یہی زمین دنیا کی سب سے مشہور فوج کے لیے موت کا راستہ بنی تھی۔ 325…

لسبیلہ کے میدان سے مغرب کی طرف ہنگول کے پہاڑ ہیں اور پھر مکران کا لمبا، خشک اور ویران ساحل۔ تئیس سو برس پہلے یہی زمین دنیا کی سب سے مشہور فوج کے لیے موت کا راستہ بنی تھی۔ 325 قبل مسیح میں مقدونیہ کا بادشاہ سکندرِ اعظم ہندوستان کی مہم سے واپس آتے ہوئے اسی راستے سے گزرا۔ یونانی اور رومی مصنفین اس علاقے کو گیدروسیا کہتے ہیں، جو موٹے طور پر آج کے جنوبی بلوچستان اور ایرانی مکران پر مشتمل تھا۔
سندھ سے لسبیلہ تک
سکندر کی فوج دریائے بیاس کے کنارے آگے بڑھنے سے انکار کر چکی تھی، اس لیے بادشاہ دریائے سندھ کے راستے سمندر کی طرف واپس آیا۔ یہاں اس نے فوج کو دو حصوں میں بانٹا: ایک بڑا بحری بیڑا اس کے پرانے وفادار ساتھی نیارکس کی کمان میں سمندر کے راستے خلیجِ فارس کی طرف جانا تھا، اور باقی فوج بادشاہ کے ساتھ خشکی سے مغرب کی طرف چلنی تھی۔
خشکی کا راستہ دریائے ارابیس کے پار اس قبیلے کی سرزمین سے گزرتا تھا جسے یونانی اوریطائی کہتے ہیں۔ سکندر کی مہمات کا سب سے معتبر قدیم مورخ ایریان لکھتا ہے کہ یہ لوگ اسی علاقے میں رہتے تھے، ایک عرصے سے آزاد تھے، اور ان کا سب سے بڑا گاؤں رمباکیا تھا۔ سکندر کو یہ جگہ اتنی پسند آئی کہ اس نے سوچا یہاں شہر بسایا جائے تو وہ بڑا اور خوشحال ہو گا، اور یہ کام اپنے قریبی ساتھی ہیفیسٹیون کو سونپا۔
رمباکیا کہاں تھا؟
یہ سوال آج تک طے نہیں ہوا۔ برطانوی سروے افسر کرنل ہولڈچ نے رمباکیا کو اوریطائی قبیلے کا مرکز قرار دے کر ریاست لسبیلہ کے علاقے میں، غالباً لیاری کے شمال مغرب میں خیر کوٹ کے مقام پر، رکھا، اور سلمان رشید بھی رمباکیا کو لسبیلہ ہی سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف ایریان کے انگریزی مترجم چنوک نے 1884ء میں اپنے حاشیے میں اس کا مقام "ہور" کے قریب بتایا۔ وہ دریا جسے ایریان ارابیس کہتا ہے اور جسے پار کر کے سکندر اوریطائی علاقے میں داخل ہوا، اس کی شناخت بھی متفقہ نہیں: انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا اسے کراچی کے مغرب کا دریائے حب بتاتا ہے، جبکہ چنوک اور ہولڈچ اسے لسبیلہ کا دریائے پورالی سمجھتے ہیں۔ اس لیے رمباکیا کو لسبیلہ میں رکھنا ایک علمی رائے ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں۔
درۂ جھاؤ یا کوئی اور درہ؟
ایریان کے مطابق اوریطائی اور گیدروسیا کے لوگوں نے مل کر ایک تنگ درے پر مورچہ لگایا تھا، مگر سکندر کی آمد کی خبر پر زیادہ تر بھاگ گئے اور سرداروں نے ہتھیار ڈال دیے۔ سکندر نے اپولوفانیس کو اس علاقے کا گورنر مقرر کیا اور اپنے شاہی محافظ لیونیٹس کو کچھ فوج کے ساتھ چھوڑا تاکہ وہ بیڑے کا انتظار کرے اور نئی بستی آباد کرے۔ سکندر کے جانے کے بعد اوریطائی قبیلے نے بغاوت کی اور لیونیٹس نے انھیں شکست دی۔
سکندر کا راستہ اس کے بعد کس طرف گیا، اس پر بھی اختلاف ہے۔ سیاح اور مصنف سلمان رشید کے خیال میں سکندر دریائے پورالی کے ساتھ اندرونِ ملک گیا اور وہ تنگ درہ آج کا درۂ جھاؤ ہے۔ ایگرمونٹ کے مطابق فوج ساحل کے ساتھ ہنگول کے دہانے تک گئی اور وہاں سے شمال میں کولواہ کے میدان کی طرف مڑی؛ سلمان رشید کے بقول ہنگول کی وادی بھاری فوج کے لیے ناقابلِ گزر ہے۔
ریگستان میں
گیدروسیا میں داخل ہونے پر ایریان، ارسطوبولس کے حوالے سے، مُر کے بڑے درختوں اور خوشبودار جٹاماسی کی جڑوں کا ذکر کرتا ہے جو فوج کے قدموں سے کچل کر پوری زمین کو مہکا دیتی تھیں۔ مگر پھر مصیبت شروع ہوئی۔ سکندر ساحل کے پاس رہ کر بیڑے کے لیے کنویں کھدوانا اور غلہ جمع کرنا چاہتا تھا، مگر ساحل پر صرف مچھیرے ملے جو سیپیوں سے بنی جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ جو غلہ اس نے مہر لگا کر ساحل کی طرف بھیجا، اس کے محافظوں نے خود کھا لیا اور بھوکوں میں بانٹ دیا؛ بادشاہ نے ان کی مجبوری سمجھ کر معاف کر دیا۔
ایریان کہتا ہے کہ سکندر پر لکھنے والے مصنفین اس سفر کی تکلیفوں کو ایشیا کی تمام مہمات سے بڑھ کر بتاتے ہیں۔ گرمی اور پیاس نے فوج کا بڑا حصہ تباہ کر دیا۔ گہری نرم ریت میں گھوڑے اور خچر مر گئے، اور جب جانور ختم ہوئے تو سپاہیوں نے بھوک میں انھیں خود ذبح کر کے کہا کہ وہ پیاس سے مر گئے۔ بیمار اور تھکے ہوئے پیچھے چھوڑ دیے گئے۔ ایک رات پہاڑوں میں مون سون کی بارش ہوئی اور کیمپ کے پاس بہنے والی ندی اچانک سیلاب بن گئی جس میں فوج کے ساتھ چلنے والی زیادہ تر عورتیں اور بچے بہہ گئے۔ یونانی جغرافیہ دان سٹرابو لکھتا ہے کہ کئی سپاہی پیاس میں زرہ سمیت کنوؤں میں گر پڑتے اور ڈوب کر پانی پیتے تھے۔
سب سے مشہور واقعہ ایریان نے یوں بیان کیا ہے، اگرچہ وہ مانتا ہے کہ بعض مصنفین اسے کسی اور جگہ کا واقعہ بتاتے ہیں: کچھ سپاہیوں کو ایک چھوٹا چشمہ ملا اور وہ خود میں پانی بھر کر بادشاہ کے پاس لائے۔ سکندر نے شکریہ ادا کیا اور سب کے سامنے وہ پانی زمین پر گرا دیا، جس سے پوری فوج میں نئی جان پڑ گئی۔ ایک بار ہوا نے ریت پر راستے کے نشان مٹا دیے اور رہنما بھٹک گئے؛ سکندر صرف پانچ آدمیوں کے ساتھ سمندر تک پہنچا اور ساحل کھود کر میٹھا پانی نکالا۔
ایریان کے بقول اوریطائی علاقے سے گیدروسیا کے دارالحکومت "پورا" تک سفر ساٹھ دن میں طے ہوا۔ پورا کا مقام بھی یقینی نہیں؛ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق یہ غالباً ایرانی بلوچستان کے بمپور نخلستان میں تھا۔ یہاں پہنچ کر سکندر نے اپولوفانیس کو حکم عدولی پر معزول کیا اور بعد میں سیبرٹیوس کو اراکوسیا (قندھار کا علاقہ) اور گیدروسیا دونوں کا گورنر بنا دیا۔
یہ راستہ کیوں چنا؟
ایریان نے نیارکس کے حوالے سے لکھا ہے کہ سکندر اس راستے کی مشکلات سے بے خبر نہیں تھا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ اس ریگستان سے فوج لے کر صرف ملکہ سمیرامس اور ایرانی بادشاہ کورش گزرے تھے اور دونوں کا بڑا نقصان ہوا تھا؛ سکندر ان دونوں سے بڑھ کر دکھانا چاہتا تھا۔ نیارکس یہ بھی کہتا ہے کہ ساحل کے پاس رہ کر وہ بیڑے کو رسد پہنچانا چاہتا تھا، اور سٹرابو بھی یہی لکھتا ہے۔
نقصان کتنا ہوا؟ پلوٹارک کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان میں سکندر کے پاس ایک لاکھ بیس ہزار پیادے اور پندرہ ہزار سوار تھے اور ان کا چوتھائی حصہ بھی واپس نہ آیا، مگر وہ اس کی وجہ بیماری، خراب خوراک، گرمی اور سب سے بڑھ کر بھوک بتاتا ہے۔ ایریان کوئی تعداد نہیں دیتا، اور قدیم اعداد کی تصدیق کا کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہیں۔
نیارکس کا سمندری سفر
نیارکس کا بیڑا خزاں میں، گرمیوں کی مون سون ہوائیں تھمنے کے بعد، دریائے سندھ سے روانہ ہوا (ایریان ایتھنز کے کیلنڈر کے بوئیدرومیون مہینے کی بیسویں تاریخ بتاتا ہے، جسے محققین ستمبر یا اکتوبر میں رکھتے ہیں) اور مخالف ہواؤں سے لڑتا ہوا مکران کے ساحل کے ساتھ چلا: سونمیانی کی خلیج، اور کوکالا کا ساحل، جس کے پاس لیونیٹس نے اوریطائی کو بڑی لڑائی میں شکست دی تھی اور جہاں سکندر کے حکم سے جمع کیے گئے غلے میں سے بیڑے نے دس دن کا راشن لیا۔ ایریان کی کتاب "اندیکا" میں، جو نیارکس کی اپنی کتاب پر مبنی ہے، ایک دریا "تومیروس" آتا ہے جسے ہولڈچ دریائے ہنگول کا دہانہ قرار دیتا ہے۔ آگے ساحل پر وہ لوگ رہتے تھے جنھیں یونانی "مچھلی خور" کہتے تھے، اور گیدروسیا کے لوگ ان کے پیچھے اندرونِ ملک ایک غریب اور ریتلی زمین میں۔ گوادر کے علاقے سے گزر کر بیڑا کرمانیا پہنچا اور ہرموزیا کے علاقے میں لنگر انداز ہوا، جہاں سے نیارکس اندرونِ ملک جا کر سکندر سے ملا؛ سکندر یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ اس کا بیڑا تباہ ہو چکا ہے۔ نیارکس نے اپنے سفر کی کتاب لکھی جو ضائع ہو گئی، مگر ایریان اور سٹرابو نے اس سے بہت کچھ نقل کیا۔
آج بلوچستان میں کیا بچا ہے؟
سچ یہ ہے کہ سکندر کے گزرنے کا کوئی ایسا نشان بلوچستان کی زمین پر شناخت نہیں ہوا جس پر ماہرین متفق ہوں۔ ماہرِ آثار سر اورل سٹائن نے مکران کے ساحل، کولواہ اور جھالاوان کا سروے کر کے 1931ء میں "گیدروسیا کا آثاری سفر" شائع کیا، اور 1943ء کے شروع میں، کابل میں اپنی وفات سے چند ماہ پہلے، خاص طور پر سکندر کا راستہ تلاش کرنے لسبیلہ گئے اور اورماڑہ سے ہنگول کی وادی کے راستے جھاؤ تک پہنچے؛ اسی سال ان کا مقالہ "گیدروسیا کی طرف سکندر کا راستہ" شائع ہوا۔ اس کے باوجود رمباکیا، سکندر کا اسکندریہ اور فوج کا راستہ کھلے سوال ہیں۔
جو بچا ہے وہ نام ہیں: ہنگول، سونمیانی، گوادر اور لسبیلہ، جو آج بھی نیارکس اور ایریان کے بیان سے جوڑے جاتے ہیں۔ بلوچستان کی اس زمین کا جو تفصیلی تحریری بیان یونانی مصنفین سے ہم تک پہنچا، وہ ایک فوج کی تباہی کا بیان ہے۔
اگلے اتوار: موریا، یونانی باختری اور کشان: سکندر کے بعد کی صدیوں میں بلوچستان کے کنارے کون حکمران تھے؟
ماخذ
- Arrian, The Anabasis of Alexander, translated by E. J. Chinnock (London: Hodder and Stoughton, 1884). Scan: https://archive.org/details/cu31924026460752 . Book III ch. 6 (Nearchus banished by Philip as an adherent of Alexander), p. 151; Book V ch. 24–29 (the army refuses to cross the Hyphasis, "now called the Beas"), pp. 306–315; Book VI ch. 21 (the Arabius, note "now called the Purally", p. 350; the Oritians "long independent"; Rambacia, note "probably at or near Haur"), pp. 349–351, https://archive.org/details/cu31924026460752/page/n371 ; ch. 22 (the pass, Apollophanes, Leonnatus; myrrh and nard after Aristobulus), pp. 351–353; ch. 23 (Thoas, the fishermen's huts, the sealed grain), pp. 353–354; ch. 24 (Pura, sixty days from Ora, Semiramis and Cyrus, Nearchus on the motive), pp. 355–356; ch. 25 (beasts slaughtered, stragglers, the flash flood), pp. 356–358; ch. 26 (the helmet of water, the lost guides, five men reach the sea), pp. 358–360; ch. 27 (Apollophanes deposed, Thoas, Sibyrtius over Arachosia and Gedrosia), p. 360; Book VII ch. 5 (Leonnatus crowned for his victory over the Oritians), p. 377. Same translation on Wikisource: https://en.wikisource.org/wiki/The_Anabasis_of_Alexander/Book_VI/Chapter_XXI (and Chapters XXII–XXVII).
- Arrian, Indica (Book VIII), in Arrian, vol. II, translated by E. Iliff Robson, Loeb Classical Library (London: Heinemann, 1933; reprint 1949). Scan: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.107422 . Ch. 21.1 (departure "on the twentieth day of the month Boedromion"; Robson's note: "probably October 326, though Droysen fixes the date as September 325"), p. 367, https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.107422/page/n377 ; ch. 21–22 (Alexander's Haven, Morontobara, the Arabis), pp. 369–373; ch. 23 (Cocala; Leonnatus defeats the Oreitans; ten days' rations from corn gathered by Alexander's orders), pp. 375–377; ch. 24 (the Tomerus), p. 377; ch. 26 (Gadrosians inland, Fish-eaters on the coast), pp. 381–383; ch. 32.1 (the Gadrosians' "poor and sandy territory"), p. 401; ch. 33–35 (Harmozeia on the Anamis; Nearchus meets Alexander inland; Alexander's fear for the fleet), pp. 403–411.
- Strabo, The Geography of Strabo, vol. VII, translated by H. L. Jones, Loeb Classical Library (1930; reprint 1954), Book 15.2.3–7 (myrrh and nard; Alexander keeps near the sea to equip the seaboard for the fleet; Nearchus sails "in the autumn" and the barbarians "took courage when the king departed"; soldiers plunging into the wells "armour and all"; the torrent; seven days along the shore; sixty days to the Gedrosian capital), pp. 133–139, https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.57231/page/n147 (p. 137).
- Plutarch, Life of Alexander 66, in Plutarch's Lives, vol. VII, translated by Bernadotte Perrin, Loeb Classical Library (1919), p. 411 ("not even the fourth part of his fighting force was brought back from India"; 120,000 foot and 15,000 horse; diseases, food, heat and famine; sixty days). https://archive.org/details/liveswithenglish07plut/page/n426
- Willem J. Vogelsang, "Gedrosia", Encyclopaedia Iranica, vol. X, fasc. 4, pp. 390–391, published 15 December 2000 (extent of the province; the Arabius "the modern Hab, west of Karachi"; sixty days; Pura "possibly in the Bampūr oasis"; Apollophanes, Thoas, Sibyrtius; Nearchos's account partly surviving in the Indica). https://www.iranicaonline.org/articles/gedrosia-
- Colonel Sir Thomas Holdich, The Gates of India, Being an Historical Narrative (London: Macmillan, 1910): the Purali as the Arabius, p. 149; Rambakia possibly at Khair Kot, north-west of Liari, in the Bela district, pp. 150–151; contrary winds to the Hingol, p. 154; islands between Cape Monze and Sonmiani, Morontobara = Sirondha lake, p. 155; the Tomeros = the Hingol estuary, p. 157; Barna/Badara = Gwadur, p. 159. https://archive.org/details/gatesofindiabein00hold/page/n172
- Salman Rashid, "Non-fiction: The speculative Alexander" (review of P. H. L. Eggermont, Alexander's Campaigns in Sind and Baluchistan and the Siege of the Brahmin Town of Harmatelia, reprint Endowment Fund Trust for Preservation of the Heritage of Sindh, Karachi), Dawn, Books & Authors, 4 September 2022 (Rambakia = Lasbela; the "narrow pass" = the Jhao; the march along the Porali; Eggermont's coastal route via Sonmiani Bay and the Hingol estuary north into the Kolwa plain; the Hingol valley unsuitable for heavy troops; Arachosia = the Kandahar area). https://www.dawn.com/news/1708361
- Sir Aurel Stein, An Archaeological Tour in Gedrosia, Memoirs of the Archaeological Survey of India no. 43 (Calcutta: Government of India, 1931): ch. V "Remains on Makran coast", p. 71; ch. VII "Ruined sites of Kolwa", p. 104; ch. X "Along the central valley of Jhalawan and Sarawan", p. 170. https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.31867
- Sir Aurel Stein, "On Alexander's Route into Gedrosia: An Archaeological Tour in Las Bela", The Geographical Journal 102 (1943), pp. 193 ff., DOI 10.2307/1789131. Stein's death at Kabul on 26 October 1943: The Geographical Journal 102, no. 3 (1943), p. 143, https://archive.org/details/sim_geographical-journal_1943-09_102_3/page/n64
- Jeannette Mirsky, Sir Aurel Stein: Archaeological Explorer (Chicago: University of Chicago Press, 1977), pp. 540–541 (the 1943 Las Bela tour from the end of January: Ormara, up the Hingol valley to Jhau, "tracing the exact route followed by Alexander"), p. 545 (the Las Bela article accepted by the Geographical Journal). https://archive.org/details/mirsky-1977-sir-aurel-stein-archaeological-explorer/page/n566



