شاہی جرگہ اور قبائلی انتظام
پچھلے باب میں ہم نے ریل کو بولان اور ہرنائی کے پہاڑوں میں چڑھتے دیکھا۔ مگر قبائل کے جھگڑے ریل سے حل نہیں ہوتے تھے۔ اس کے لیے انگریزوں نے ایک پرانی مقامی روایت، جرگہ، کو اپنے انتظام کا حصہ…

پچھلے باب میں ہم نے ریل کو بولان اور ہرنائی کے پہاڑوں میں چڑھتے دیکھا۔ مگر قبائل کے جھگڑے ریل سے حل نہیں ہوتے تھے۔ اس کے لیے انگریزوں نے ایک پرانی مقامی روایت، جرگہ، کو اپنے انتظام کا حصہ بنا لیا۔ اس باب میں ہم دیکھیں گے کہ سبی کا شاہی جرگہ کیسے وجود میں آیا، فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن نے اسے کیا قانونی شکل دی، اور لیویز کا نظام اس کے ساتھ کیسے جڑا۔ اس نظام پر دو مختلف نقطۂ نظر ہیں؛ ہم دونوں کو ان کے اپنے ماخذ کے ساتھ پیش کریں گے۔
پرانی روایت، نیا استعمال
سبی گزیٹیئر (1907) کے مطابق گاؤں یا قبیلے کے بزرگوں کے ذریعے ہر طرح کے تنازعات نمٹانے کا طریقہ "اسی ملک کا اپنا" ہے۔ نوآبادیاتی دور میں اس روایت کو ایک باقاعدہ ادارے میں ڈھالنے کا آغاز رابرٹ سنڈیمن سے منسوب کیا جاتا ہے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے محقق محمد فیاض انور (2019) لکھتے ہیں کہ سنڈیمن نے پہلے ڈیرہ غازی خان کی تحصیل راجن پور کے بلوچ قبائل کے جھگڑوں کے لیے جرگے بلائے۔ 1875 سے وہ پنجاب اور بلوچستان کے تمنداروں کا سالانہ اجتماع کوہِ سلیمان کے پہاڑی مقام فورٹ منرو میں کرنے لگے۔ بعد میں یہی اجتماع سردیوں میں سبی اور گرمیوں میں کوئٹہ میں ہونے لگا۔
سنڈیمن کے سوانح نگار ٹی۔ ایچ۔ تھارنٹن (1895) نے 1886 کی ایجنسی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے۔ اس کے مطابق 1876 کے معاہدے کے بعد سرداروں کی نامزدگی، قبائلی تنازعات کے لیے جرگے بلانے اور امن قائم رکھنے میں ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل (اے جی جی) نے "خان کی جگہ لے لی"۔ تھارنٹن کے مطابق اہم مقدمات میں اے جی جی کا نمائندہ، اکثر رائے بہادر ہتو رام، جرگے میں موجود رہتا تھا، اور ہر فیصلہ اس کی توثیق سے نافذ ہوتا تھا۔ آخرکار سرداروں کی ایک "مستقل کونسل" بنی جو سردیوں میں سبی اور گرمیوں میں کوئٹہ میں بیٹھتی تھی۔
سبی: جرگہ، دربار اور میلہ
سبی گزیٹیئر کے مطابق سبی کا سالانہ گھوڑوں کا میلہ ہر سال فروری میں ہوتا تھا اور پہلی بار 1885 میں منعقد ہوا۔ بلوچستان ایجنسی کی 1887-88 کی انتظامی رپورٹ جرگے اور میلے کا تعلق صاف دکھاتی ہے۔ اس کے مطابق 1888 کے موسمِ بہار میں "گھوڑوں کے شو کے دوران سبی میں جمع ہونے والے جرگے" نے لانگو قبیلے کا ایک پرانا تنازع نمٹایا اور خون بہا کے طور پر 17,602 روپے مقرر کیے۔
سبی گزیٹیئر کے مطابق شاہی جرگہ سردیوں میں سبی میں جمع ہوتا تھا اور اس کی کارروائی عموماً اے جی جی کے ایک عام دربار پر ختم ہوتی تھی۔ گھوڑوں کا شو بھی انہی دنوں ہوتا تھا۔ جرگے کی نشستیں وکٹوریہ میموریل ہال میں ہوتی تھیں، جو 1903 میں عوامی چندے سے بنا۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق اس پر 38,800 روپے لاگت آئی۔
1911 کی مردم شماری کے سپرنٹنڈنٹ ڈینس برے کے مطابق قبائلی مردم شماری کا فارم 1910 کی بہار میں سبی میں شاہی جرگے کے "بڑے ششماہی اجلاس" کے موقع پر سرداروں سے بحث کر کے طے ہوا۔ 1931 کی مردم شماری کی رپورٹ کے مطابق سردیوں میں کوئٹہ سے سیکرٹریٹ کے بیشتر دفاتر اور تمام پولیٹیکل ایجنٹ "سالانہ شاہی جرگے" کے لیے سبی آ جاتے تھے، اور اسی موسم میں گھوڑوں اور مویشیوں کا شو ہوتا تھا۔
قانون کا سہارا: فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن
امپیریل گزیٹیئر (1908) کے مطابق جرگے کے روایتی نظام کو برطانوی انتظام میں "ترقی دی گئی"، اور اس مقصد کے لیے 1890 میں پنجاب کا فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن بلوچستان پر لاگو کیا گیا۔ اسی صفحے کے حاشیے میں درج ہے کہ بعد میں 1901 کا ریگولیشن نمبر تین کچھ ترامیم کے ساتھ لاگو ہوا۔ گزیٹیئر کے مطابق اے جی جی خود بھی اسی ریگولیشن کے تحت عدالتی اختیارات رکھتا تھا۔ تھارنٹن کے مطابق ان ضوابط نے ضلعی افسر کو جرگے کو عدالت کے طور پر استعمال کرنے اور سرحدی دیہات کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا اختیار بھی دیا۔
سبی گزیٹیئر اس طریقِ کار کی تفصیل دیتا ہے:
- عام مقدمات کم از کم تین بزرگوں کی کونسل کے سپرد کیے جاتے تھے۔
- جرگے کا کام صرف حقائق طے کرنا تھا۔ فیصلہ اور سزا ڈپٹی کمشنر کے ہاتھ میں تھی۔
- پولیٹیکل ایجنٹ سات سال تک قیدِ بامشقت دے سکتا تھا۔ چودہ سال تک کی سزا کے لیے اے جی جی کی توثیق ضروری تھی۔
- ان فیصلوں کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی تھی؛ صرف اے جی جی نظرِ ثانی کر سکتا تھا۔
امپیریل گزیٹیئر کے مطابق مارچ 1898 تک کے پانچ برسوں میں جرگوں نے اوسطاً ہر سال 2,871 مقدمات نمٹائے۔ 1902-03 میں یہ تعداد 4,230 تھی۔
مقامی جرگہ اور شاہی جرگہ
سبی گزیٹیئر کے مطابق قبائلیوں کے تقریباً تمام مقدمات، جیسے قتل، زنا، شادی کے تنازعات، چوری، مویشی چوری اور زمین کے جھگڑے، پہلے مقامی جرگوں کو جاتے تھے۔ دو اضلاع کے قبائلیوں کے عام مقدمات مشترکہ جرگے سنتے تھے۔ جو مقدمات وہاں حل نہ ہوتے، یا جن میں قبائلی رواج یا دو قبیلوں کا معاملہ ہوتا، وہ شاہی جرگے کو بھیجے جاتے تھے۔ پنجاب کے قبائل سے متعلق مقدمات کے لیے ہر سال ستمبر میں فورٹ منرو میں بین الصوبائی جرگہ ہوتا تھا۔
ارکان کے انتخاب کا فرق بھی گزیٹیئر نے لکھا ہے۔ مقامی جرگوں میں رواج سے واقف اور بااثر مقامی سردار، معتبر اور ملک بٹھائے جاتے تھے۔ شاہی جرگے کے لیے قبائل کے بڑے سردار اور معتبرین چنے جاتے تھے، خاص طور پر وہ جن کے قبیلے مقدمے میں شامل ہوں۔ شاہی جرگے کے بعض فیصلے آئندہ کے لیے ضابطہ بھی بن گئے، جیسے 8 فروری 1898 کا فیصلہ کہ ڈومکی قبیلے اور خانِ قلات کی رعایا کے مقدمات عموماً سبی یا کوئٹہ کے شاہی جرگے کو جائیں گے۔
لیویز: جرگے کا بازو
جرگہ فیصلہ دیتا تھا، مگر ملزم کو پکڑنا اور گواہ لانا لیویز کا کام تھا۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق یہ نظام بھی سنڈیمن سے شروع ہوا۔ 1867 میں ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے انہوں نے مری اور بگٹی قبائل کے چند سوار سرکاری ملازمت میں رکھے۔ بلوچستان آ کر انہوں نے سرداروں کو مسلح سوار اور پیادے رکھنے کے لیے الاؤنس دینا شروع کیے۔ گزیٹیئر کے مطابق یہ نظام دو مفروضوں پر قائم تھا: ہر قبیلے میں ایسے بااثر سردار ہوتے ہیں جو سرکاری حمایت ملنے پر اطاعت کروا سکتے ہیں، اور کوئی قبائلی معاوضے کے بغیر سرکار کا کام نہیں کرے گا۔
1904 میں براہِ راست انتظام والے علاقوں میں 2,022 لیویز اور 1,173 پولیس اہلکار تھے۔ ژوب لیوی کور 1890 میں قائم ہوئی۔ سبی گزیٹیئر کے مطابق جرگے کا نظام لیویز کے ساتھ مل کر ہی کارآمد تھا، کیونکہ شہروں سے باہر جرائم کی تفتیش سردار اور لیویز کرتے تھے۔
1930 کی دہائی تک یہ دونوں نظام اسی شکل میں چل رہے تھے۔ 1936-37 کی انتظامی رپورٹ کے مطابق صرف کوئٹہ پشین ضلع میں 1936 کے دوران ریگولیشن کے تحت 663 دیوانی اور 1,318 فوجداری مقدمات نمٹائے گئے۔ اسی رپورٹ کے مطابق لیویز کی تنظیمِ نو سے ناراض کچھ قبائلی رہنما سبی دربار میں شریک نہ ہوئے، تاہم بعد میں انہوں نے اپنی مخالفت واپس لے لی۔
دو نقطۂ نظر
نوآبادیاتی بیان: سبی گزیٹیئر اس نظام کو مقامی روایت کا تسلسل بتاتا ہے جس کا "طریقِ کار سادہ" اور فائدے "بہت" ہیں۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق شاہی جرگے ان مقدمات کا فیصلہ کرتے تھے جو حل نہ ہوتے تو خونریزی اور سیاسی پیچیدگیوں تک پہنچ سکتے تھے۔ مگر یہی سبی گزیٹیئر یہ بھی مانتا ہے کہ نظام کو "لاعلمی اور جانبداری" سے پیدا ہونے والی زیادتیوں سے بچانے کے لیے افسروں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
تنقیدی بیان: محمد فیاض انور (2019) کے مطابق سنڈیمن نظام دراصل تمنداروں کی سرپرستی کا نظام تھا۔ اس نے سرداروں کو بڑی مادی اور انتظامی طاقت دی اور بلوچ قبائل کے "مساوات پر مبنی" مزاج کو آمرانہ ڈھانچوں میں بدل دیا۔ وہ اپنی بات کی تائید سنڈیمن کے ساتھی آر۔ آئی۔ بروس کے اس جملے سے کرتے ہیں: "سرکار ہی ان لوگوں کو بناتی یا بگاڑتی ہے"۔
اگلے اتوار: 31 مئی 1935: کوئٹہ کا زلزلہ
ماخذ
- A. McConaghey, assisted by Jamiat Rai, Baluchistan District Gazetteer Series, vol. III: Sibi District, Text, Times Press, Bombay, 1907. Pages used: pp. 105–106 (Sibi horse fair, February, first instituted 1885), p. 166 (Sibi Shahi Jirga award of 8 February 1898), pp. 172–175 (jirga system "indigenous"; FCR III of 1901; procedure, sentences, no appeal; local, joint, Shahi and Fort Munro jirgas; choice of members; need for supervision), p. 246 (Shahi Jirga at Sibi in winter, AGG's darbar, Horse Show, Victoria Memorial Hall 1903). https://archive.org/details/sibidistricttext00mccouoft
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, comp. R. Hughes-Buller, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908. Pages used: p. 58 (AGG's judicial powers under the FCR), p. 64 (jirgas "developed under British administration"; Punjab FCR applied 1890; Shahi jirgas at Sibi and Quetta; Fort Munro; case numbers; footnote on Regulation III of 1901), p. 77 (Victoria Memorial Hall, Sibi, Rs 38,800), pp. 78–80 (levy system: origin in 1867, assumptions, recruitment, 1904 strength; Zhob Levy Corps 1890). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.146799
- T. H. Thornton, Colonel Sir Robert Sandeman: His Life and Work on our Indian Frontier, John Murray, London, 1895. Pages used: pp. 178–179 (AGG takes the Khan's place in summoning jirgas, quoting the Agency Report for 1886; standing council of chiefs at Sibi and Quetta; Hittu Ram), p. 193 (Sibi horse fair), p. 206 (Frontier Regulations: jirga as tribunal, removal of villages). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.209278
- Administration Report of the Baluchistan Agency for 1887-88, Foreign Department Selections No. CCLXVIII, Calcutta, 1890. Page used: p. 22 (Jirga at Sibi "during the Horse Show in the spring of 1888"; the "Langan" [probably Langav] tribe case, Rs 17,602). https://archive.org/details/india.history.resource.109821
- Denys Bray, Census of India, 1911, vol. IV: Baluchistan, Part I, Report, Calcutta, 1913. Introduction, para. 6, about p. 2 (the "great half-yearly session of the Shahi Jirga" at Sibi, spring 1910). https://archive.org/details/india.history.resource.92565
- Census of India, 1931, vol. IV: Baluchistan, Parts I and II, 1934 (catalogue date). Page used: p. 125 (Secretariat and Political Agents move to Sibi "for the annual Shahi Jirga"; Horse and Cattle Show). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.56021
- Administration Report of the Baluchistan Agency for the Year 1936-37, Manager of Publications, Delhi, 1938. Pages used: p. 3 (tribal leaders absent from the Sibi Durbar over the levy reorganisation), p. 22 (tribal cases decided by councils of elders under Regulation III of 1901), p. 44 (Quetta-Pishin: 663 civil and 1,318 criminal cases under the FCR in 1936). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.73611 · See also Administration Report … 1930-31, p. 25 (same wording on jirgas under the FCR): https://archive.org/details/india.history.resource.109841 · and … 1938-39, p. 2 (AGG's Durbar week and the Sibi Horse and Cattle Show, February 1939): https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.73536
- Muhammad Fiaz Anwar, "'Sandeman System' and the Marri, Bugti Tribes of Baluchistan", Journal of Historical Studies (Bahauddin Zakariya University, Multan) V/II (July–December 2019), pp. 84–104. Pages used: p. 84 (abstract: patronage; "egalitarian nature" changed into "authoritative structures"), p. 93 (Rajanpur jirgas; Fort Munro from 1875; Sibi and Quetta), pp. 97–98 (conclusion; R. I. Bruce, The Forward Policy, p. 19, quoted: "It is the Sirkar … who makes or unmakes these men"). https://jhs.bzu.edu.pk/upload/VOl%20II-19_5.%20Sandeman%20System%20and%20the%20Murri,%20Bugti%20Tribes%20of%20Balochistan.pdf_41.pdf



