کُلّی اور نال: جنوبی پہاڑوں کی تہذیبیں
قلات سے جنوب کی طرف چلیں تو زمین اونچی نیچی وادیوں میں بٹتی چلی جاتی ہے۔ خضدار، نال، وڈھ، اور پھر آگے مشکے، کولواہ اور مکران کے پہاڑ۔ آج یہ علاقے خبروں میں کم ہی آتے ہیں، مگر ہزاروں برس…

قلات سے جنوب کی طرف چلیں تو زمین اونچی نیچی وادیوں میں بٹتی چلی جاتی ہے۔ خضدار، نال، وڈھ، اور پھر آگے مشکے، کولواہ اور مکران کے پہاڑ۔ آج یہ علاقے خبروں میں کم ہی آتے ہیں، مگر ہزاروں برس پہلے، تانبے اور پتھر کے دور میں، یہاں ایسی بستیاں آباد تھیں جن کے رنگین برتنوں کے نام پر ماہرین نے پوری پوری تہذیبوں کو پکارا۔ ایک کا نام نال کے ایک سرخ ٹیلے سے جڑا ہے، اور دوسری کا نام کولواہ کے ایک ٹیلے کُلّی سے۔
سوہر ڈمب: نال کا سرخ ٹیلہ
جھالاوان میں نال کی وادی میں ایک بڑا ٹیلہ ہے جسے سوہر ڈمب، یعنی "سرخ ٹیلہ"، کہا جاتا ہے۔ اس کا سب سے اونچا حصہ کبھی شدید آگ میں جل کر سرخ ہو گیا تھا، اور یہ نام اسی سے پڑا۔ ہارگریوز کی پیمائش کے مطابق یہ تقریباً ایک ہزار فٹ لمبا، چھ سو فٹ چوڑا اور کوئی چالیس فٹ اونچا ہے۔ اس کی کہانی انگریزی دور کے آغاز سے شروع ہوتی ہے۔ 1903ء میں گزیٹیئر کے عملے کے مرزا شیر محمد نے یہاں ایک چھوٹی سی کھدائی کی اور 59 برتن نکالے، جنہیں سر جان مارشل نے محکمۂ آثارِ قدیمہ کی 1904-05ء کی سالانہ رپورٹ میں بیان کیا۔ 1908ء میں فوج کی ہزارہ پائنیرز رجمنٹ نے یہاں کھدائی کی اور کہا جاتا ہے کہ تقریباً 250 برتن نکالے، مگر اس کام کا کوئی ریکارڈ نہیں بنایا گیا۔
باقاعدہ کھدائی 1925ء میں ہوئی، جب محکمۂ آثارِ قدیمہ کے ہیرلڈ ہارگریوز 30 اپریل کو نال پہنچے اور مئی اور جون کے مہینوں میں یہاں کام کیا۔ انہیں کُل 271 برتن ملے جن میں سے 240 تقریباً سالم تھے۔ ٹیلے کی مغربی جانب انہیں پتھر کی بنیادوں والے تیرہ کمرے اور صحن ملے، اور پورا حصہ مُردوں کی تدفین کے لیے استعمال ہوا تھا، یعنی یہ ایک قبرستان تھا۔ ان کی رپورٹ 1929ء میں کلکتہ سے "ایکسکیویشنز اِن بلوچستان 1925" کے نام سے شائع ہوئی، اور اسی رپورٹ نے نال کے برتنوں کو دنیا بھر کے ماہرین سے متعارف کرایا۔
نال کے رنگین برتن
نال کے برتن چاک پر بنے ہیں۔ ان پر سفید، ہلکے زرد یا مٹیالے رنگ کی تہہ کے اوپر کالے اور گہرے بھورے رنگ سے نقش بنائے گئے ہیں، اور بہت سے برتنوں میں ان لکیروں کے بیچ سرخ، پیلا، نیلا، سبز یا کالا رنگ بھرا گیا ہے، مگر کسی ایک برتن پر خاکے کے علاوہ تین سے زیادہ رنگ نہیں۔ یہی کئی رنگوں والا انداز نال کی پہچان ہے۔ ہارگریوز نے دیکھا کہ یہ رنگ پکانے کے بعد لگائے گئے تھے اور ہاتھ لگانے سے اترنے لگتے تھے، اس لیے ان کا خیال تھا کہ یہ برتن روزمرہ استعمال کے نہیں بلکہ تدفین کے لیے بنائے گئے تھے۔ کچھ برتنوں پر مچھلیوں کے خوبصورت نقش بھی ہیں۔
قبروں میں مُردوں کی ہڈیاں مکمل ڈھانچوں کی صورت میں نہیں بلکہ ٹکڑوں میں ملیں، اور ہارگریوز کے بقول کم از کم کچھ قبروں میں لاشیں نہیں بلکہ صرف ہڈیاں دفن کی گئی تھیں، یعنی تدفین سے پہلے گوشت الگ ہو چکا تھا۔ صرف تین باقاعدہ قبروں میں پورا جسم دفن ملا۔ ہڈیوں کے ساتھ برتن رکھے گئے تھے، اور تانبے کے اوزار، کلہاڑیاں، آریاں اور چھینیاں، اس قبرستان کی سب سے اہم چیزیں تھیں۔ ہارگریوز کو چاندی بہت کم ملی: ایک چھوٹی سی انگوٹھی اور چاندی کے ورق کے آٹھ ٹکڑے جن کی شناخت وہ نہ کر سکے۔ مٹی کی بنی جانوروں کی مورتیاں بھی بہت تھیں، اور ایک کے سوا سب کوہان دار بیل کی تھیں۔
نال کے برتن صرف نال تک محدود نہیں تھے۔ اورل سٹائن نے لکھا کہ نال کے جنازے والے برتنوں کی قسم انہیں جنوبی بلوچستان کے کئی اور مقامات پر بھی ملی، اور کولواہ میں گشانک کی پہاڑی پر بھی نال کے انداز کے کئی رنگوں والے دو ٹکڑے ملے۔ بعد میں ژاں ماری کازال کو وڈھ کے علاقے میں نندوواری کے مقام پر کُلّی دور سے پہلے کی تہوں میں ایسے برتن ملے جن کا ایک نقش ہو بہو نال کے برتنوں جیسا تھا۔
اورل سٹائن کا سفر
28 نومبر 1927ء کو مشہور ماہرِ آثارِ قدیمہ اورل سٹائن کوئٹہ سے جنوبی بلوچستان کے ساڑھے چار ماہ کے سفر پر نکلے، اور اپریل 1928ء کے وسط میں کوئٹہ واپس پہنچے۔ اس دوران انہوں نے خاران، مکران اور جھالاوان میں شمال سے جنوب تقریباً 270 میل اور مشرق سے مغرب 300 میل سے زیادہ کے علاقے کا سروے کیا۔ مارچ 1928ء کے آخر میں وہ مشکے کی وادی میں مہی ڈمب پر تھے، اور 30 مارچ کی صبح وہاں سے آگے روانہ ہوئے۔ سٹائن کی رپورٹ 1931ء میں "این آرکیالوجیکل ٹور اِن گیدروسیا" کے نام سے کلکتہ سے شائع ہوئی۔ اس کے ابواب خاران، رخشان اور پروم، کیچ اور دشت، مکران کے ساحل، کولواہ اور مشکے، اور جھالاوان اور سراوان کی وادیوں پر ہیں۔ اسی سفر میں 5 سے 11 مارچ 1928ء تک سٹائن نے کولواہ میں کُلّی کے ٹیلے پر آزمائشی کھدائی کی، اور بعد کے ماہرین نے اس پوری تہذیب کو اسی مقام کے نام سے پکارا۔
کُلّی تہذیب
سٹائن کے مطابق کُلّی کا ٹیلہ تقریباً 400 گز لمبا، 330 گز چوڑا اور 30 فٹ تک اونچا ہے، اور کولواہ کے تمام ٹیلوں میں سب سے بڑا ہے۔ اس کی سطح پر جگہ جگہ پتھر کی دیواریں نظر آتی تھیں، اور سٹائن کا خیال تھا کہ یہ شاید کولواہ کی سب سے اہم قدیم بستی تھی۔ ٹیلے کی طرف جاتے ہوئے انہوں نے پہاڑی ڈھلوان پر پرانے "گبر بند" اور پانی روکنے والے چھوٹے بند دیکھے، جو سیلابی پانی سے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے باندھے گئے تھے۔
کھدائی میں سٹائن کو پتھر کا ایک مکان ملا جس کی دیواریں مٹی کے گارے میں جمائی گئی سلوں سے بنی تھیں، اور باہر کی طرف بڑے پتھروں کا فرش بچھا تھا۔ نیچے کی منزل کے کمروں میں کوئی دروازہ نہیں تھا، اس لیے سٹائن نے اندازہ لگایا کہ ان میں اوپر سے سیڑھی کے ذریعے اترا جاتا تھا، اور پتھر کے زینے اوپر کی منزل تک جاتے تھے۔ ایک کمرے میں ایک مٹکے کے اندر عقیق اور کالے پتھر کے ستائیس منکوں کا ہار چھپا ملا، جس سے سٹائن کو لگا کہ آخری مکین کسی اچانک خطرے میں گھر چھوڑ گئے تھے۔
کُلّی کے برتن ہلکے سرخ یا مٹیالے پس منظر پر کالے رنگ سے سجائے گئے ہیں، اور ان میں اکثر گہرے سرخ رنگ کی پٹیاں بھی ہیں۔ ان پر لمبے سینگوں والے پہاڑی بکروں کی قطاریں اور درختوں کے بیچ دوڑتے کوہان دار بیل بنے ہیں۔ کازال کے بقول کُلّی کا سب سے نمایاں نقش "منظر میں جانور" ہے: لمبے دھاری دار جسم اور گول آنکھوں والے بیل، جو اکثر کسی پودے سے بندھے ہوتے ہیں اور جن کے ساتھ پرندے اور درخت ہوتے ہیں۔ مٹی کی مورتیوں میں کوہان دار بیل اور چوڑیوں اور ہاروں سے سجی عورتیں ہیں۔ کُلّی کی ایک اہم بستی وڈھ کے علاقے میں دریائے کُد کے کنارے نندوواری ہے۔ یہاں فرانسیسی ماہر ژاں ماری کازال نے 1962-63ء کے موسم میں کھدائی شروع کی اور 1966ء میں اپنی رپورٹ "نندوواری: جنوبی بلوچستان کا ایک پتھر اور تانبے کے دور کا مقام" شائع کی۔ ان کے مطابق یہاں کی بستی ایک ہزار سے بارہ سو گز تک پھیلی ہوئی تھی اور اس کے بیچ میں پتھروں کا ایک بڑا چبوترا تھا جس پر زینے چڑھتے تھے۔
ہڑپہ سے رشتہ
کُلّی اور وادیٔ سندھ کی تہذیب کا رشتہ ماہرین کے لیے ایک بڑا سوال رہا ہے۔ نندوواری میں کُلّی دور کے اناج گوداموں سے تین مہریں ملیں، جن میں سے دو ہڑپہ کی مہریں تھیں جن پر "یک سنگھا" جانور اور وادیٔ سندھ کا رسم الخط ہے۔ کُلّی کے برتنوں پر پیپل کی شاخوں اور ایک دوسرے کو کاٹتے دائروں جیسے نقش بھی ملے جو ہڑپہ کے برتنوں پر ملتے ہیں۔ کازال کا نتیجہ یہ تھا کہ کُلّی تہذیب کم از کم کچھ عرصہ ہڑپہ کی تہذیب کے ساتھ ساتھ موجود تھی، مگر یہ مشابہت محض تجارت کا نتیجہ تھی یا کسی ایک طرف کا اثر، اس کا فیصلہ ابھی قبل از وقت تھا۔ سٹائن نے بھی لکھا تھا کہ موہنجو داڑو کی مٹی کی کچھ مورتیاں مکران اور جھالاوان کی بستیوں سے ملنے والی مورتیوں سے بہت ملتی ہیں۔
کازال کے بقول نندوواری کی کھدائی سے پہلے کُلّی کو محض برتن سازی کا ایک انداز سمجھا جاتا تھا، مگر اس کے بڑے چبوترے، زینوں، گوداموں اور مورتیوں کی کثرت سے انہیں لگا کہ نندوواری شاید کوئی مذہبی مرکز تھا۔ کُلّی کے لوگ وادیٔ سندھ کی تہذیب کے ہم عصر پڑوسی تھے اور اس سے رابطے میں تھے، مگر نال کی طرح وہ بھی اپنے برتن اپنے رنگوں اور اپنے نقشوں سے سجاتے تھے۔
اگلے اتوار: مکا اور گیدروسیا، جب بلوچستان ہخامنشی سلطنت کا کنارہ بنا۔
ماخذ
- H. Hargreaves, Excavations in Baluchistan 1925, Sampur Mound, Mastung and Sohr Damb, Nal, Memoirs of the Archaeological Survey of India No. 35, Calcutta: Government of India Central Publication Branch, 1929. Scan: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.35489. Sohr Damb as "the Red Mound", size, 1903 and 1908 diggings: pp. 17-18 (https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.35489/page/n25, /page/n26); arrival on "April 30th 1925", 271 vessels, Area A on the west side: p. 19 (/page/n27); thirteen rooms and courtyards, fugitive colours: p. 20; necropolis, fractional burials: p. 21; three complete burials in graves: p. 26; "ante-sepultural excarnation", copper implements: p. 28; silver, humped-bull figurines, fish ornament: p. 33 (/page/n43); Marshall's note on Sher Muhammad's 59 vessels, "All the wares are wheel-made": p. 35; colours and slips of the pottery: p. 36 (/page/n46); silver foil No. 20: p. 40.
- A. Stein, An Archaeological Tour in Gedrosia, Memoirs of the Archaeological Survey of India No. 43, Calcutta: Government of India Central Publication Branch, 1931. Scan: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.35491. Contents (chapters): leaf n3; area surveyed (some 270 by over 300 miles), "four and a half months": p. 3; Nal-type pottery at other sites: p. 4; Mohenjo-daro figurines: p. 5; start from Quetta "On November 28th 1927": p. 15 (https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.35491/page/n23); Nal-type sherds on Gushanak hill, the mound of Kulli, gabar bands and dams: p. 118 (/page/n148); Kulli walls and size: pp. 118-119; trial excavations 5-11 March: p. 120 (/page/n150); house, pavement, pottery, figurines, necklace: pp. 121-125; leaving Mehi "On the morning of March 30": p. 163 (/page/n207); back at Quetta in April: p. 189 (/page/n235).
- J.-M. Casal, "Nindowari—A Chalcolithic Site in South Baluchistan", Pakistan Archaeology No. 3 (1966), Karachi: Department of Archaeology, pp. 10-21. Scan: https://archive.org/details/in.gov.ignca.59111. Nal and Kulli as names of cultures: p. 10 (https://archive.org/details/in.gov.ignca.59111/page/n28); site, Kud valley, size, seasons from 1962-63: pp. 11-12; Kulli pottery, "Animals in Landscape", pipal designs, figurines: pp. 14-15 (/page/n47); Harappan seals: p. 16 (/page/n48); Kulli "a mere pottery industry", possible religious centre, Nal-type sherds: pp. 19-20; contemporaneity with the Harappan Civilization: p. 20 (/page/n52). Editorial on the three seasons: p. i.



