رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر قومی اتحاد ضروری ہے: سینیٹ میں رانا ثنا اللہ کا خطابخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولیسینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیاپی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ بنوں سے گرفتار، ویڈیو سامنے آگئیعالمی ادارہ خوراک کا غزہ میں غذائی امداد ایک تہائی کم کرنے کا اعلان، 11 لاکھ افراد کو امداد ملے گینیتن یاہو: 7 اکتوبر کو 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت 40 ہزار امریکیوں کے قتل کے برابر تھیراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغامروس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

چھاپہ خانہ: سیسے کے حروف، تیل کی سیاہی اور لکڑی کا پریس

پندرھویں صدی کے وسط تک یورپ میں کتابیں عام طور پر ہاتھ سے نقل کی جاتی تھیں، اور ہر نسخہ الگ سے تیار ہوتا تھا۔ پھر جرمنی کے شہر مائنز (Mainz) میں ایک کاریگر نے کئی پرانی ترکیبوں کو ملا…

چھاپہ خانہ: سیسے کے حروف، تیل کی سیاہی اور لکڑی کا پریس
علامتی تصویر

پندرھویں صدی کے وسط تک یورپ میں کتابیں عام طور پر ہاتھ سے نقل کی جاتی تھیں، اور ہر نسخہ الگ سے تیار ہوتا تھا۔ پھر جرمنی کے شہر مائنز (Mainz) میں ایک کاریگر نے کئی پرانی ترکیبوں کو ملا کر ایسا نظام بنایا جس سے ایک ہی کتاب کے سینکڑوں ایک جیسے نسخے چھاپے جا سکتے تھے۔ ان کا نام یوہانس گوٹن برگ (Johannes Gutenberg) تھا، اور ان کا چھاپہ خانہ علم کے پھیلاؤ کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ بنا۔

مائنز کا کاریگر

امریکا کی لائبریری آف کانگریس کے مطابق گوٹن برگ تقریباً 1400ء سے 1468ء تک زندہ رہے، مگر ان کی تاریخِ پیدائش معلوم نہیں، اور ان کے خاندان کے بارے میں بھی بہت کم دستاویزات ملتی ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس کے ہیری رینسم سینٹر (Harry Ransom Center) کے مطابق انہوں نے چھپائی کی ٹیکنالوجی پر غالباً 1430ء کی دہائی ہی میں کام شروع کر دیا تھا، اور 1450ء کی دہائی کے وسط میں مائنز میں اپنے شراکت دار یوہان فُسٹ (Johann Fust) کے ساتھ اپنی پہلی بڑی کتاب شائع کی۔

لکڑی کے ٹھپوں سے چھپائی اس سے پہلے بھی ہوتی تھی، اور اس سلسلے کی قسط 39 میں ہم نے دیکھا تھا کہ چین میں مٹی کے اور کوریا میں دھات کے متحرک حروف گوٹن برگ سے پہلے بن چکے تھے۔ لائبریری آف کانگریس بھی لکھتی ہے کہ گوٹن برگ کی کتاب مغربی یورپ میں دھات کے متحرک حروف سے چھپنے والی پہلی کتاب تھی، کیونکہ کوریا میں یہ کام تقریباً ایک صدی پہلے ہو چکا تھا۔ گوٹن برگ کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے حروف ڈھالنے، سیاہی اور دباؤ کے مسائل ایک ساتھ حل کیے۔

ہاتھ کا سانچہ: ایجاد کا دل

چھپائی کے لیے ہزاروں چھوٹے چھوٹے دھاتی حروف درکار تھے، اور سب کا بالکل ایک جیسا ہونا ضروری تھا۔ انٹرنیشنل گوٹن برگ سوسائٹی کی محقق جولیا بینگرٹ (Julia Bangert) کے مطابق اس کا حل "ہاتھ کا سانچہ" (hand mould) تھا، جسے وہ گوٹن برگ کی ایجاد کا "دل" کہتی ہیں۔ یہ دو حصوں والا، اندر سے کھوکھلا دھاتی سانچہ تھا جس میں پگھلی ہوئی دھات ڈالنے کے لیے ایک نالی بنی تھی، اور اسے لکڑی کے فریم میں لگایا گیا تھا تاکہ کاریگر اسے ہاتھ میں پکڑ سکے۔

سانچے کے نچلے سرے پر حرف کا "مادر سانچہ" (matrix) ایک دھاتی کمانی سے کسا جاتا، اور اسے ہر حرف کی چوڑائی کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا سکتا تھا، کیونکہ "م" اور "ا" جیسے حروف کی چوڑائی ایک نہیں ہوتی۔ بینگرٹ کے مطابق گوٹن برگ کی دھات کا اصل نسخہ معلوم نہیں، مگر بعد کی تفصیلات بتاتی ہیں کہ یہ زیادہ تر سیسہ تھا جس میں ٹین اور اینٹیمنی ملائے جاتے تھے۔ یہ آمیزہ سانچے میں فوراً جم کر ٹھنڈا ہو جاتا، اس لیے حرف فوراً نکالا جا سکتا تھا۔ پھر ہر حرف کو احتیاط سے ریتی سے گھس کر ایک ہی اونچائی پر لایا جاتا، کیونکہ اونچا حرف کاغذ پر زیادہ دبتا اور نیچا حرف چھپتا ہی نہیں۔

تیل والی سیاہی

دوسرا مسئلہ سیاہی کا تھا۔ بینگرٹ لکھتی ہیں کہ لکھنے کی عام پانی والی سیاہی دھاتی حروف پر کام نہیں کرتی تھی اور چھپائی پھیکی اور بھوری آتی تھی۔ گوٹن برگ نے مصوروں سے تیل والے رنگوں کی ترکیب لی اور تارپین، السی کا تیل، اخروٹ کا تیل، رال، تارکول اور چراغ کی کالک جیسی چیزیں ملا کر آزمائیں، یہاں تک کہ گہری سیاہ سیاہی تیار ہو گئی۔ یہ سیاہی چمڑے کے دو گولوں سے لگائی جاتی تھی جن کے اندر اون یا گھوڑے کے بال بھرے ہوتے اور جو لکڑی کے دستوں پر لگے ہوتے تھے۔

انگور کے پریس سے چھاپے کی مشین تک

تیسرا حصہ خود پریس تھا۔ بینگرٹ کے مطابق گوٹن برگ نے اس زمانے کے لکڑی کے پیچ دار پریسوں سے فائدہ اٹھایا، جیسے انگور کا رس نکالنے یا کاغذ دبانے کے پریس۔ مگر ان میں ایک خرابی تھی: پیچ گھومتا تو اس کے ساتھ دبانے والی تختی بھی گھومتی، جس سے چھاپا پھیل جاتا۔ گوٹن برگ نے پیچ اور تختی کے درمیان ایک چھوٹا پرزہ لگایا جو تختی کو گھومنے نہیں دیتا تھا۔ کاغذ کو ہلکا سا نم کر کے ایک فریم میں پنوں سے جمایا جاتا، اس کے کنارے صاف رکھنے کے لیے ایک اور فریم اوپر رکھا جاتا، اور پھر اسے سیاہی لگے حروف پر دبا دیا جاتا۔

پہلی بڑی کتاب

لائبریری آف کانگریس کے مطابق گوٹن برگ کی مشہور بڑی لاطینی کتاب، جو آج "گوٹن برگ بائبل" کہلاتی ہے، تقریباً 1455ء میں سامنے آئی۔ اس کے تقریباً 180 نسخے چھپے: 145 کاغذ پر اور 35 جانور کی کھال سے بنے باریک چرمی کاغذ (ویلم) پر۔ ان میں سے 49 نسخے بیسویں صدی تک باقی رہے، جن میں سے 21 مکمل ہیں۔ ایک مکمل ویلم نسخہ واشنگٹن کی لائبریری آف کانگریس میں ہے، اور باقی دو پیرس اور لندن میں۔ کاغذی نسخوں میں بھی سرخیاں اور نقش و نگار بعد میں ہاتھ سے بنائے گئے۔

ایک مشین، کئی صدیوں کا اثر

لائبریری آف کانگریس کے مطابق متحرک حروف کی چھپائی نے یورپ میں تحریریں کہیں زیادہ لوگوں تک پہنچا دیں، اور اس کا تعلق علم و فن کی نشاۃِ ثانیہ اور سائنسی انقلاب سے جوڑا جاتا ہے۔ اس سلسلے کی اگلی قسطوں میں آنے والی کئی دریافتیں، جیسے کوپرنیکس کا نظام اور نیپیئر کے لوگارتھم، چھپی ہوئی کتابوں کی صورت میں سامنے آئیں۔ اخبار بھی اسی ایجاد کی اولاد ہے۔ آج جب روزنامہ اعتماد کا شمارہ کوئٹہ میں چھپتا ہے، تو اس کے پیچھے بھی وہی بنیادی خیال کام کر رہا ہوتا ہے جو مائنز کے ایک کاریگر نے تقریباً پونے چھ سو سال پہلے آزمایا تھا: ایک بار حروف جوڑو، اور جتنی بار چاہو چھاپ لو۔

ماخذ

  1. Library of Congress, "Gutenberg Bible", exhibition page (Bibles collection). https://www.loc.gov/exhibits/bibles/interactives/gutenberg/index.html — Gutenberg lived 1400 to 1468, birth date unknown, little documented about his family; about 180 copies first available about 1455, 145 on paper and 35 on vellum; 49 survived into the twentieth century, 21 complete; three complete vellum copies (Library of Congress, Paris, London); first book printed with moveable metal type in Western Europe, metal type used in Korea nearly a century earlier; printing made texts far more available, linked to the Renaissance and the Scientific Revolution.
  2. Harry Ransom Center, University of Texas at Austin, "The Gutenberg Bible". https://www.hrc.utexas.edu/gutenberg-bible/ — Gutenberg and Johann Fust in Mainz in the mid-1450s; Gutenberg may have begun developing his technology in the 1430s; individual pieces of metal type; hand-added text and decoration.
  3. Julia Bangert (International Gutenberg Society), "Gutenberg's Inventions – Part 2: Hand Mould", drupa blog, Messe Düsseldorf. https://www.drupa.com/en/Media_News/drupa_blog/Print_Technologies/Pioneers_and_History_of_Printing/Gutenberg%E2%80%99s_Inventions_%E2%80%93_Part_2_Hand_Mould — the hand mould as "the heart" of the invention; two-part hollow metal mould with a pouring channel in a wooden frame; matrix clamped with a spring, adjustable for size and width; alloy mostly lead with tin and antimony, original recipe unknown; solidifies at once; type filed to the same height.
  4. Julia Bangert, "Gutenberg's Inventions – Part 5: Ink and ink balls", drupa blog. https://www.drupa.com/en/Media_News/drupa_blog/Print_Technologies/Pioneers_and_History_of_Printing/Gutenberg%E2%80%99s_Inventions_%E2%80%93_Part_5_Ink_and_ink_balls — water-based writing ink unsuitable, pale and brown; oil binder borrowed from painting; turpentine, linseed oil, walnut oil, pitch, lampblack, resin; leather ink balls stuffed with wool or horse hair on wooden handles.
  5. Julia Bangert, "Gutenberg's Inventions – Part 6: Press", drupa blog. https://www.drupa.com/en/Media_News/drupa_blog/Print_Technologies/Pioneers_and_History_of_Printing/Gutenberg%E2%80%99s_Inventions_%E2%80%93_Part_6_Press — based on wine and paper presses; the rotating platen would smear; a small part stops the platen rotating; moistened paper pinned on the tympan; frisket protects the edges.

100 بڑی دریافتیں اور ایجادات: تمام تحریریں ←